قانون آخر دروازہ ہو پہلا نہیں

قانون آخر دروازہ ہو پہلا نہیں
حسیب اعجاز عاشرؔ
یہ خبر جب نظر سے گزری تویوں لگا جیسے کسی نے گھر کے آنگن میں قانون کی موٹی کتاب رکھ دی ہو،وہی آنگن جہاں صدیوں سے رشتے، روایتیں، غلطیاں اور معافیاں ایک دوسرے میں گندھی ہوئی ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والا ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 بظاہر کمزور کے لیے ڈھال ہے،اگر یہی ڈھال کہیں تلوار بن گئی تو؟۔ قانون کا کام زخم پر مرہم رکھنا ہے، نمک چھڑکنا نہیں،اور یہی کشمکش اس ایکٹ کے ہر لفظ کے ساتھ چلتی ہے۔
ٹھیک ہے کہ گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کوئی نئی ایجاد نہیں۔ برطانیہ نے Domestic Abuse Act 2021 کے ذریعے جسمانی تشدد کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی اور معاشی استحصال کو بھی جرم تسلیم کیا۔ بھارت میں Protection of Women from Domestic Violence Act 2005 نے گھریلو فضا کے اندر ہونے والے ظلم کو عدالت کے دروازے تک لایا۔ امریکہ میں Violence Against Women Act (VAWA) کئی بار ترمیم کے بعد نفاذ میں ہے۔ اسپین نے 2004 میں صنفی تشدد کے خلاف جامع قانون بنایا، جبکہ فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک میں گھریلو تشدد کی تعریف محض ہاتھ اٹھانے تک محدود نہیں رہی۔اِس تناظر میں اسلام آباد میں منظور ہونے والا قانون کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا؛ یہ عالمی رجحان کا مقامی عکس ہے۔
صاف بات ہے کہ آئینہ اگر زیادہ صاف شفاف ہو جائے تو آدمی اپنے جھریوں سے بھی ڈر جاتا ہے۔ ہمارے ہاں خاندانی نظام صرف ایک رہائشی بندوبست نہیں، ایک تہذیبی ادارہ ہے۔ یہاں نکاح محض دو افراد کا معاہدہ نہیں، خاندانوں کی رفاقت ہے۔ اسی لیے جب قانون کہتا ہے کہ“بیوی کو گھورنا”،“طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا”بھی جرم ہے، تو سوال اٹھتا ہے: نیت کو کیسے ناپا جائے گا؟ آنکھ کی جنبش کو ترازو میں کون رکھے گا؟ دھمکی اور شکوے کے بیچ باریک لکیر کون کھینچے گا؟ قانون اگر دلوں کے اندیشے پڑھنے لگے تو عدالتیں دلوں کی عدالت بن جائیں گی اور وہاں فیصلے شواہد سے نہیں، قیاس سے ہوتے ہیں۔
سلامی احکامات یعنی وہ اخلاقی و سماجی ہدایات جن پر گھر چلتے ہیں اکثر برداشت، صلح اور درگزر کی تلقین کرتے ہیں۔“میٹھے بول سے سانپ بھی بل سے نکل آتا ہے”تو پھر ہر بات تھانے تک نہیں جانی چاہیے۔ یہاں قانون اور سلامی احکامات کا ٹکراؤ نظر آرہا ہے،رہنمائی کیلئے علماء دین کو آگے آنا ہی پڑے گا کیونکہ قانون فوری انصاف چاہتا ہے، روایت مہلت مانگتی ہے۔بے رحم قانون سزا تجویز کرتا ہے، روایات اصلاح۔ دونوں میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر رد کرنا دانشمندی نہیں؛ مسئلہ توازن کا ہے۔سمجھنے کیلئے یہی دیکھ لیں کہ ایک گاؤں میں دو پڑوسی تھے۔ جن کے اپنے اپنے گھروں میں روز پانڈے کھڑکتے۔ ایک دن پہلے گھر والے عدالت پہنچ گئے۔ سزا ہوئی او پھر خاموشی آ گئی مگر گھر ٹوٹ گیا۔ دوسرے خاندان کے بزرگوں کے سامنے پہنچے۔؛ ڈانٹ بھی پڑی، سمجھوتا کرنا پڑا مگرگھر بچ گیا۔ بات یہ نہیں کہ عدالت غلط تھی یا بزرگ درست،بات یہ ہے کہ ہر مسئلہ یک جیسا نہیں ہوتا۔ قانون اگر ہر اختلاف کو جرم بنا دے تو گھر عدالت بن جاتے ہیں، اور عدالتیں گھر۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ“اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ صلح کا ارادہ کریں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا(النساء)”۔خلاصہِ آیت یہی ہے کہ پہلا دروازہ عدالت نہیں بلکہ دانش، برداشت اور ثالثی ہے۔نبی کریم ﷺ کا اسوہ ملاحظہ ہو۔ ایک مرتبہ ایک صحابیؓ اپنی بیوی کے سخت لہجے سے پریشان ہو کر بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے۔ شکایت پوری بھی نہ کر پائے تھے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:“وہ تمہارے لیے بری ہے، مگر تمہارے لیے اچھی بھی ہے۔ تم اس کے ایک عیب کو دیکھتے ہو، اس کی کئی خوبیاں کیوں بھول جاتے ہو؟”۔ نہ ایف آئی آر کٹی، نہ کوئی سزا سنائی گئی، حکمت بصیرت سے معاملہ سمٹ گیا۔اسلام میں سختی آخری قدم ہے، پہلا نہیں۔ طلاق کو حلال ہونے کے باوجود“سب سے ناپسندیدہ”کہا گیا کیونکہ اسلام گھر توڑنے سے پہلے سو بار سوچنے کا کہتا ہے۔حضور ﷺ نے ہمیں یہی توازن سکھایا: پہلے سمجھاؤ، پھر روکو، اور اگر سب دروازے بند ہو جائیں تب آخری دروازہ کھولو۔قانون تو گریبان پکڑ کر ڈرا رہا ہے کہ“ورنہ سزا ہو گی”۔
اس ایکٹ کے قابلِ عمل پہلو واضح ہیں اور قابلِ تحسین بھی۔ جسمانی تشدد، جنسی استحصال، معاشی استحصال یہ سب وہ زخم ہیں جن پر مرہم ضروری ہے۔ بزرگوں، معذور افراد، بچوں اور ٹرانس جینڈر افراد کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ فوری سماعت، حفاظتی احکامات، شیلٹر ہوم یہ سب وہ سہولتیں ہیں جن سے حقیقی مظلوم کو سانس ملتی ہے۔ تشدد کرنے والے کو متاثرہ شخص سے دور رکھنے کے احکامات بھی کئی جانیں بچا سکتے ہیں۔ یہاں قانون انسانیت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
مگر کچھ پہلو ایسے ہیں جو گھر جوڑنے کے بجائے توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں جسکا تذکرہ پہلے ہوچکا۔ مثال کے طور پر، ہر جذباتی تلخی کو فوجداری جرم بنانا۔ ازدواجی زندگی میں لفظ کبھی تیر بن جاتا ہے، کبھی پھول۔ اگر ہر تلخ لفظ پر ایف آئی آر کا امکان ہو تو مکالمہ مر جاتا ہے۔ پھر“گھورنے”جیسی مبہم تعریفیں،قانون کو مبہمیت پسند نہیں ہونی چاہیے۔ مبہم قانون کمزور کو بھی ڈرا سکتا ہے اور طاقتور کو بھی ہتھیار دے سکتا ہے۔ اسی طرح جی پی ایس ٹریکر کا تصور،سزا سے پہلے نگرانی،رازداری اور تناسب کے اصولوں سے ٹکراتا ہے۔ دنیا میں بھی الیکٹرانک مانیٹرنگ عام طور پر عدالتی سزا کے بعد اور مخصوص خطرے کی صورت میں دی جاتی ہے، نہ کہ ہر الزام پر۔بھارت کے قانون پر خود بھارتی عدالتیں بارہا غلط استعمال کے خدشات کا ذکر کر چکی ہیں اور رہنما اصول جاری کیے گئے۔ برطانیہ میں بھی عدالتیں شواہد اور سیاق پر سختی سے نظر رکھتی ہیں تاکہ قانون انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔ یہی احتیاط ہمیں بھی درکار ہے۔
حل کیا ہے؟ حل یہ نہیں کہ قانون کو رد کر دیا جائے، اور نہ یہ کہ روایت کو عدالت کے دروازے پر چھوڑ دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ درجہ بندی ہو: ہلکی نوعیت کے تنازعات کے لیے کونسلنگ، ثالثی، فیملی کورٹس؛ سنگین تشدد کے لیے فوجداری کارروائی۔ تعریفیں واضح ہوں، ثبوت کا معیار بلند ہو، اور غلط استعمال پر جواب دہی بھی اتنی ہی سخت ہو جتنی تشدد پر۔ سلامی احکامات کوخدارا قانون کے آمنے سامنے کھڑا نہ کریں اور نہ رہی روایات کا قانون کے رسے سے گلا گھونٹا جائے، قانون ہر صورت آخری دروازہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757

Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176742 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More