عالمی صحت کے تحفظ میں چین کا ذمہ دارانہ کردار

عالمی صحت کے تحفظ میں چین کا ذمہ دارانہ کردار
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

عالمی صحت کا نظام اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں وباؤں کے خطرات، مالی عدم استحکام اور بین الاقوامی تعاون میں دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اقوامِ متحدہ کے اداروں سے بعض بڑی طاقتوں کی علیحدگی نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ صحتِ عامہ جیسے حساس شعبے میں کسی بھی بڑے فریق کی دستبرداری نہ صرف متعلقہ اداروں بلکہ پوری دنیا کے لیے دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے تناظر میں چین کا کردار ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جو عالمی صحت کے نظم و نسق میں استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔

بعض بڑی طاقتوں کی علیحدگی کے نتیجے میں عالمی ادارۂ صحت کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث ادارے کو اپنی انتظامی ٹیم نصف تک محدود کرنا، سرگرمیوں میں کمی لانا اور مجموعی بجٹ میں کٹوتیاں کرنا پڑی ہیں۔
ایسے حالات میں چین نے خود کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کرتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت کے امور میں بھرپور شمولیت اختیار کی ہے۔ مالی معاونت، تکنیکی تعاون اور ادارہ جاتی شرکت کے ذریعے چین نے ایک تعمیری اور استحکام بخش کردار ادا کیا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے عالمی برادری کے مشترکہ تصور کی عملی شکل بن رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے بانی رکن اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے ناطے چین طویل عرصے سے اپنی مالی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کرتا آ رہا ہے۔ چین نہ صرف ادارے کے باقاعدہ بجٹ بلکہ رضاکارانہ عطیات کے ذریعے بھی ایک مستحکم معاون کے طور پر سامنے آیا ہے۔ 2020 کے بعد سے عالمی ادارۂ صحت میں چین کا واجب الادا حصہ مسلسل بڑھتا رہا ہے اور اس وقت وہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ چین نے ہمیشہ اپنی رقوم مکمل اور بروقت ادا کی ہیں، جو کثیرالجہتی عالمی صحت کے نظام سے اس کی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

2014 میں افریقہ میں ایبولا کی وبا کے دوران چین نے 750 ملین یوان کی ہنگامی امداد فراہم کی، جس کے تحت طبی سامان کی فراہمی کے لحاظ سے وہ نمایاں ممالک میں شامل رہا۔ اس کے علاوہ چین نے اقوامِ متحدہ کے ایبولا رسپانس ٹرسٹ فنڈ کو 60 لاکھ ڈالر، عالمی ادارۂ صحت کو 20 لاکھ ڈالر اور افریقی یونین کو بھی 20 لاکھ ڈالر عطیہ کیے تاکہ وبا پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔

عالمی وبا کووِڈ-19 کے دوران چین نے ویکسین کو عالمی پبلک پراڈکٹ قرار دینے کا اعلان کرنے والے ابتدائی ممالک میں جگہ بنائی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین نے 153 ممالک اور 15 بین الاقوامی اداروں کو بڑی مقدار میں طبی سامان فراہم کیا، دنیا بھر میں 2.3 ارب سے زائد ویکسین خوراکیں مہیا کیں اور کئی ممالک کے ساتھ ویکسین کی مشترکہ پیداوار میں تعاون کیا، جس سے عالمی سطح پر ویکسین کی غیر مساوی تقسیم کے مسئلے کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

ملیریا کے خلاف جدوجہد میں بھی چین کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ چین میں تیار کی جانے والی آرٹیمیسینن پر مبنی ادویات اور ملیریا کنٹرول کے حل عالمی ادارۂ صحت کے ذریعے فروغ دیے گئے، جن سے افریقی ممالک میں بیماری کی روک تھام اور علاج میں نمایاں مدد ملی۔ ہر سال دنیا بھر میں دس کروڑ سے زائد مریض ان ادویات سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ صرف سب صحارا افریقہ میں تقریباً 240 ملین افراد کو ان علاجی طریقوں سے فائدہ پہنچا، جس سے لاکھوں جانیں بچائی جا چکی ہیں۔
چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق 1963 سے اب تک چین نے 77 ممالک اور خطوں میں 30 ہزار سے زائد طبی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں روانہ کیں، جنہوں نے 300 ملین مریضوں کا علاج کیا، ایک لاکھ سے زائد مقامی طبی عملے کو تربیت دی اور کئی ممالک میں تکنیکی خلا کو پُر کیا۔ اس کے علاوہ چین نے افریقہ میں سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ہیڈکوارٹرز کی تعمیر میں معاونت کی اور ماہر ٹیمیں بھیج کر بیماریوں کی نگرانی اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔

چین عالمی ادارۂ صحت کے قائدانہ اور ہم آہنگ کردار کی حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی صحت قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ایچ او وبائی معاہدے کی تیاری میں بھی سرگرم ہے۔ ان مذاکرات کے دوران چین نے ممالک کے درمیان زیادہ اتحاد اور تعاون پر زور دیا اور عالمی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ادارے کے مرکزی کردار کی تائید کی۔

موجودہ عالمی صورتحال میں، جہاں صحتِ عامہ کو درپیش خطرات سرحدوں سے ماورا ہو چکے ہیں، کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے وقت میں چین کی جانب سے عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ مضبوط وابستگی اور عملی تعاون اس امر کی یاد دہانی ہے کہ عالمی مسائل کا حل اجتماعی ذمہ داری اور باہمی اعتماد میں مضمر ہے۔ عالمی صحت کے استحکام، وباؤں کی روک تھام اور انسانیت کے مشترکہ مفاد کے لیے ایسے ذمہ دارانہ رویے ہی ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092713 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More