کراچی کے ہسپتال، مسئلہ بیماریاں نہیں، نظام ہے (کراچی کے تناظر میں بنیادی صحت کی ایک ضروری رہنمائی)
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں بے پناہ رش کی اصل وجہ صرف آبادی نہیں، بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ پورے پاکستان کے مریض علاج کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ دل کے مریض ہوں، حادثات ہوں یا پیچیدہ آپریشن—ہر شہر، ہر ضلع سے مریض جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC)، NICVD اور چند بڑے ہسپتالوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ صحت کا بوجھ صرف کراچی پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ دیگر شہروں میں وہ سہولتیں موجود ہی نہیں جو مریض کو وہیں علاج فراہم کر سکیں۔
کراچی میں بھی مسئلہ صرف مریضوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ یہ الجھن ہے کہ کس بیماری پر کہاں جانا چاہیے۔ معمولی بخار، پرانی شوگر یا بلڈ پریشر کی فالو اَپ، پیٹ درد یا نزلہ زکام جیسے مسائل کے مریض بھی براہِ راست بڑے ہسپتالوں اور ایمرجنسی کا رخ کرتے ہیں۔ نتیجتاً او پی ڈیز میں وہ رش ہوتا ہے جو آئی سی یو کا منظر پیش کرنے لگتا ہے، اور اصل جان لیوا کیسز پیچھے رہ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ضلع کی سطح پر سندھ حکومت کے کئی ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں کا مقصد ہی یہ تھا کہ مریض کو اس کے علاقے میں علاج ملے، مگر بدقسمتی سے یہاں ہر دوسرے مریض کو جناح یا NICVD ریفر کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان ضلعی ہسپتالوں میں ایسے مستند ڈاکٹر اور سرجن تعینات ہوں جو صرف ریفرل لکھنے تک محدود نہ ہوں بلکہ سندھ حکومت کے ہسپتالوں میں ہی علاج کرنے کی صلاحیت اور سہولت رکھتے ہوں۔ جب ہر کیس جناح بھیج دیا جائے گا تو وہاں کا نظام کیسے سانس لے گا؟
جناح ہسپتال اور NICVD جیسے ادارے پورے ملک کے لیے ریفرل سینٹر ہیں، مگر انہیں ہر بخار اور ہر پرانی بیماری کا مرکز بنا دینا نہ مریض کے حق میں ہے اور نہ کراچی کے شہریوں کے۔ یہ ادارے اس لیے بنائے گئے ہیں کہ وہ پیچیدہ، نازک اور جان لیوا کیسز سنبھال سکیں، نہ کہ وہ مسائل جو ضلعی یا تحصیل سطح پر بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں جناح یا NICVD جیسے ادارے موجود نہیں۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو ہر بڑے شہر کے لحاظ سے جناح یا NICVD طرز کے ہسپتال قائم کیے جائیں، تاکہ مریض کو علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر نہ کرنا پڑے اور کراچی پر غیر ضروری بوجھ کم ہو۔
ایمرجنسی کا غلط استعمال کراچی کے ہسپتالوں میں سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی وہ نہیں ہوتی جہاں سفارش ہو یا شور ہو، بلکہ ایمرجنسی وہ ہے جہاں جان کو فوری خطرہ ہو—جیسے دل کا شدید دورہ، سانس کی شدید تکلیف، فالج، حادثہ یا بے قابو خون بہنا۔ معمولی یا پرانی بیماریوں کو ایمرجنسی میں لانا اصل ایمرجنسی مریضوں کے حق پر ڈاکہ ہے۔
اگر کراچی میں ضلعی سطح کے سندھ سرکاری ہسپتال مضبوط کر دیے جائیں، وہاں علاج کی مکمل سہولت ہو، اور ریفرل صرف ضرورت کے وقت کیا جائے، تو جناح اور NICVD خود بخود بہتر طریقے سے کام کرنے لگیں گے۔ اسی طرح اگر ہر شہر میں اعلیٰ درجے کے سرکاری ہسپتال قائم ہوں، تو پورے پاکستان کے مریض کراچی کی طرف دیکھنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔
یہ تحریر کسی ادارے یا ڈاکٹر کے خلاف نہیں، بلکہ ایک بگڑتے ہوئے نظام کی نشاندہی ہے۔ جس دن علاج کا پہلا دروازہ درست ہو گیا، ریفرل سسٹم درست ہو گیا، اور کراچی پر پورے ملک کا بوجھ کم ہو گیا—اسی دن ہسپتالوں کی بھیڑ بھی کم ہو گی، مریض کو بروقت علاج ملے گا، اور ڈاکٹر بھی وہ خدمت کر سکیں گے جس کے لیے انہوں نے یہ پیشہ اپنایا تھا۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.