عالم برزخ

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

"عالم برزخ"
( دنیا اور آخرت کے درمیان کا معاملہ )

محمد یوسف میاں برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دراصل ہر انسان جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ سیدھا جنت و دوزخ میں نہیں پہنچتا بلکہ جب تک قیامت برپا نہیں ہوتی اسے ایک جگہ رہنا پڑتا ہے اور اس جگہ کو " عالم برزخ " کہتے ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر انسان مرنے کے بعد اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوبارہ اٹھائے جانے کے درمیان کا وقت گزارتا ہے یہ نہ زندگی ہے اور نہ قیامت بلکہ خاموشی کا ایک ایسا پردہ ہے جو دنیا کی عارضی زندگی کے بعد اور قیامت کے آنے سے پہلے ہوتا ہے جب کسی انسان کو مرنے کے بعد قبر میں اتارا جاتا ہے اور قبر کے معاملات سے فارغ ہوکر لوگ وہاں سے چلے جاتے ہیں تو کچھ فرشتے وہاں پر آجاتے ہیں جنہیں منکر نکیر کہا جاتا ہے جن میں کچھ کے چہرے خوفناک اور کچھ کے روشن ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب اس شخص کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس کے بعد فرشتے اس مرنے والے سے سوالات کرتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ اور حضور ﷺ کی زیارت کرائی جائے گی اور پوچھا جائے گا کہ تو ان کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ اب جو شخص ان فرشتوں کے پوچھے گئے سوالات کا صحیح جواب دیتے ہیں انہیں جنتی لباس پہنا دیا جاتا ہے ان کی قبر میں جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے جنت کی خوشبو ان کی قبر میں آنے لگتی ہے جبکہ ان کی قبروں کو تاحد نظر وسیع کردیا جاتا ہے جہاں سے وہ جنت کے نظارے کرتا رہتا ہے ایسے مومنوں کے لیئے جنت ایک خوبصورت باغ کی مانند ہوتا ہے جہاں جنت کی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں جہاں چاروں طرف جنت کی خوشبو پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ وہاں سکون اور اطمینان سے رہتے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی اور شیطان کے کہنے پر عمل کرکے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور وہ قبر میں فرشتوں کے سوالات کے جوابات نہیں دے پاتے ابو داؤد کی ایک حدیث کے مطابق ایسے لوگوں کو آگ کا لباس پہنا دیا جاتا ہے اور ان کے لیئے آگ سے بستر تیار کیا جاتا ہے اس کی قبر کو تنگ کرکے اسے اندھیری قبر میں تبدیل کردیا جاتا قبر اتنی تنگ کردی جاتی ہے کہ دائیں طرف والی پسلیاں بائیں جانب والی پسلیوں میں پیوست ہو جاتی ہیں اس کی قبر میں جہنم کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے جہنم کی گرمی اور لوگوں کی چیخ و پکار اس کو صاف سنائی دے گی آگ کی گرمی جب اس تک پہنچتی ہے تو خوف اسے جکڑ لیتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں " برزخ " کا مقام ایک ایسا صاف اور واضح مقام ہے جو ہماری ساری حقیقت کو کھل کر دکھاتا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور ہمارے اعمال کا انجام ہوتا ہے یہاں وہ لوگ نہیں ہوتے جن کی ناراضگی کے سبب ہم گناہ کرجاتے تھے اور اللہ رب العزت کی نافرمانی کر جاتے تھے وہ لوگ یہاں ہمیں بچانے نہیں آئیں گے بلکہ وہ تو ہمیں قبر کے حوالے کرکے واپس اپنے اپنے گھروں کی جانب چلے جائیں گے جس تنہائی سے بچنے کے لیئے ہم ان کے ساتھ وقت گزارتے تھے وہ ہی تنہائی ہمارا یہاں مقدر بن جائے گی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں " برزخ" ایک انتظار کی جگہ ہے جہاں ہم روز اپنے انجام کی جھلک اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اب سوچیئے کہ روز جنت اور دوزخ کو دیکھنا اور اپنے انجام کو دیکھ کر سوچنا کہ یہی ہمارا ٹھکانہ ہے کیسا لگے گا ؟ کتنا سکون اور مطمئن انتظار ہوگا جو جنت کے لیئے ہوگا اور کتنا غمگین اور خوفناک ہوگا جو جہنم کے لیئے ہوگا ہم اس عارضی زندگی میں یہ سوچنے لگتے ہیں کہ زندگی میں جو کرسکیں کرلیں بعد میں جب محشر کا وقت آئیے گا دیکھا جائے گا جبکہ اس عارضی زندگی اور محشر کے دن کے درمیان ایک لمبا عرصہ ہمیں " عالم برزخ " میں گزارنا ہوگا یہ وقت اس زندگی سے بڑا لمبا وقت ہوگا اور بڑے لمبے عرصے تک ہمیں وہاں رہنا ہوگا ۔ جیسے اگر آپ کے دادا پر دادا دنیا سے رخصت ہوگئے اور آپ نے ان کو دیکھا تک نہیں جبکہ آپ بھی اس وقت اپنی زندگی کو اپنی طویل عمر میں یعنی چالیس پچاس یا ساٹھ سال میں گزار رہے ہیں تو اندازہ کیجیئے کہ پھر انہیں کتنا وقت ہوگیا اس دنیا سے رخصت ہوئے بس وہ اس وقت اسی " عالم برزخ " میں موجود ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یاد رکھیئے کہ اس عارضی زندگی میں پڑھی گئی ہر نماز ہر مشکل میں کیا ہوا صبر ہر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا ہوا شکر اور ہر کیا ہوا نیک عمل آپ کو آپ کے
" عالم برزخ " کے لمبے عرصے کو آسان اور پُرسکون بنادے گا آپ کی قبر کو روشن اور منور کردے گا اس لیئے اپنی اس عارضی دنیاوی زندگی کو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق گزاریئے تاکہ جب ہمیں قبر میں اتارا جائے اور ہم " عالم برزخ " میں پہنچے تو فرشتے ہمارا استقبال کرتے ہوئے کہیں کہ آئو تمہیں خوش آمدید تمہیں تمہارا پُرسکون اور پُرفضا اور خوبصورت ابدی گھر مبارک ہو ترمذی کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق " قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے جو یہاں کامیاب ہوا اس کے آگے کے سارے معاملات آسان ہیں اور یہاں سے نجات نہ ملی تو آگے سختی ہی سختی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں بس یاد رکھیئے کہ " برزخ " وہ ہے جہاں وقت رک سا جاتا ہے اور دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کی ساری حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے وہاں صرف ہم ہیں اور ہمارے اعمال کا انجام جنت کی خوبصورت خوشبو ہے یا جہنم کی آگ کی تپش اس لیئے جب تک سانس چل رہا ہے دنیا کے اس عارضی وقت کو زندگی کو اس طرح گزاریئے کہ جس کا ہمیں حکم ہے دنیا کی رنگینیوں اور روشنیوں سے نکل کر صرف نیک اعمال کی طرف اپنا رخ کرلیں تاکہ وہ نیک اعمال ہمارے قبر کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے روشنی میں بدل دیں اور ہمارے " عالم برزخ " کے ایک لمبے عرصے تک گزرے ہوئے وقت میں ہمیں بھی جنت کی خوشبو نصیب ہو انشاء اللہ اور اسی بات کو ایک شاعر نے دنیا اور اس کی حقیقت کو اجاگر کرنے اور ہمیں اس حقیقت سے آشنا کراتے ہوئے کہا خوب کہا ہے کہ
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جاہ ہے تماشہ نہیں ہے
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہماری آج کی تحریر کا موضوع یعنی " عالم برزخ " ایک طویل یا نا ختم ہونے والا موضوع ہے میں نے کوشش کی ہے کہ مختصر اور واضح الفاظ میں اس تحریر کے ذریعے آپ تک " عالم برزخ " کی تفصیل بیان کرسکوں امید ہے آپ لوگوں کو اس موضوع پر کافی کچھ سمجھنے کو ملے گا انشاء اللہ ۔اخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی میں ہی قبر میں جانے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔مجھے دعائوں میں یاد رکھیئے گا۔

 

محمد یوسف میاں برکاتی
About the Author: محمد یوسف میاں برکاتی Read More Articles by محمد یوسف میاں برکاتی: 206 Articles with 200570 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.