ڈیجیٹل دنیا اور ہمارے بچے
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
ڈیجیٹل دنیا اور ہمارے بچے حسیب اعجاز عاشرؔ اِسے معمہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف انسانی عقل نے ڈیجیٹل دنیا کو تسخیر کر لیا ہے، اور دوسری جانب یہی دنیاہمارے قیمتی سرمائے بچوں کے بچپن کو خاموشی سے نگل رہی ہے۔ وہ بچپن جو کبھی گلیوں کی دھول، کتابوں کی خوشبو اور ماں کی لوری سے پہچانا جاتا تھا، اب اسکرین کی نیلی روشنی، الگورتھم کی گرفت اور نادیدہ دنیا کے بے رحم تقاضوں میں قید ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر فرانس کی قومی اسمبلی یہ اعلان کرے کہ پندرہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر قانونی قدغن لگائی جا رہی ہے، تو بلاشبہ یہ کسی نعمتِ الہی سے کم نہیں کہ اب یہ اجتماعی شعور جاگنے لگا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے نام پر ہمارے گھروں میں فساد و فتنے پالے جارہے ہیں۔ فرانس میں منظور ہونے والا یہ بل جو اب سینیٹ کی منظوری کا منتظر ہے دراصل اس اعتراف کا نام ہے کہ سوشل میڈیا اب تفریح یا اظہار کا ذریعے کے بجائے ایک ایسا طاقتور نفسیاتی ہتھیار بن چکا ہے جو کم عمر ذہنوں کو روند رہا ہے۔ فرانسیسی قانون سازوں کا مؤقف واضح ہے: کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال ذہنی دباؤ، تشدد کے رجحانات، سماجی تنہائی اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ اسی لیے نہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے بلکہ اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر عائد قدغن کو ہائی اسکول تک بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں پہلے ہی سوشل میڈیا کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور منفی رویوں کی ایک بڑی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ محض اخلاقی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سماجی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلنے کے لیے آمادہ نظر آتا ہے۔آسٹریلیا، جس نے دسمبر 2025 میں دنیا میں پہلی بار سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کی، اس بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کا استدلال نہایت دو ٹوک ہے: سوشل میڈیا بچوں کو اضطراب، ڈپریشن، آن لائن بُلینگ اور خود تنہائی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ ڈنمارک نے بھی پندرہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، اگرچہ والدین کی اجازت کے ساتھ کچھ نرمی رکھی گئی ہے۔ وجہ وہی جو ہم بھی بھگت رہے ہیں نیند کی کمی، توجہ کی بربادی، اور سماجی مہارتوں کا زوال۔ ناروے نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کو والدین کی رضامندی سے مشروط کر دیا ہے، کیونکہ مطالعات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ سوشل میڈیا بچوں کی خود اعتمادی کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔یورپ کے دیگر ممالک برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور یونان بھی اسی سمت سوچ رہے ہیں۔ کہیں عمر کی تصدیق کے سخت قوانین زیر بحث ہیں، کہیں اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی کی بات ہو رہی ہے۔ ایشیا میں جنوبی کوریا نے رات کے اوقات میں بچوں کے لیے گیمنگ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا عمر کی تصدیق کے نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی متعدد ریاستیں اسکولوں میں موبائل فونز پر قدغن لگا چکی ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس اور سائنسی مطالعات اس امر پر متفق ہیں کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال، خصوصاً روزانہ تین گھنٹے سے زائد، بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ امریکہ کے Surgeon General کی حالیہ ایڈوائزری کے مطابق سوشل میڈیا بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہیں، جبکہ لانگی ٹیوڈینل مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بارہ سے پندرہ سال کی عمر میں زیادہ استعمال ذہنی بگاڑ کے امکانات کو دوگنا کر دیتا ہے۔ یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرتا ہے، جس کے نفسیاتی اثرات بعض اوقات خودکشی کے خیالات تک پہنچ جاتے ہیں۔خوبصورتی کے غیر حقیقی معیار، فلٹر شدہ تصاویر اور مسلسل موازنہ نوعمر بچوں، خاص طور پر بچیوں میں خود اعتمادی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسمانی ساخت سے عدم اطمینان، کھانے پینے کے مسائل اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو آہستہ آہستہ شخصیت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے اور بچے کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اب ذرا پاکستان کی طرف نظر دوڑائیے ایک ایسا ملک جہاں آبادی کا تقریباً چالیس فیصد حصہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اکتوبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد تقریباً 79.9 ملین ہے، جو کل آبادی کا 31 فیصد بنتی ہے۔ فیس بک کے صارفین ہی 63 ملین سے زائد ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے حوالے سے کوئی مستند سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ بیشتر پلیٹ فارمز کی کم از کم عمر تیرہ سال مقرر ہے۔ پاکستانی بچوں کا ڈیجیٹل رویہ تشویشناک صورت اختیار کر رہا ہے۔ یہ بچے کیا دیکھتے ہیں؟ کیا سرچ کرتے ہیں؟ مختصر ویڈیوز، پرتشدد گیمز، غیر اخلاقی مواد، فضول چیلنجز، اور ایسی دنیا جو انہیں فوری تسکین تو دیتی ہے مگر سوچنے، برداشت کرنے اور جینے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 2 سے 12 سال کے بچوں میں موبائل استعمال کے نتیجے میں 53 فیصد رویوں کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ 77 فیصد بچے موبائل کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نیند کی کمی، موٹاپا، توجہ کی کمی، غصہ، اور آن لائن ہراسانی یہ سب ہمارے گھروں کے اندر بھی پنپ رہے ہیں۔کووڈ کے بعد یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ آن لائن تعلیم کے نام پر دی گئی اسکرین نے بچوں کی علمی کارکردگی کو عارضی سہولت تو دی، مگر طویل المدت نقصان کہیں زیادہ ہوا۔ خاندانی روابط کمزور پڑ گئے، اور بچے مجازی دنیا میں رہ کر حقیقی سماج سے کٹنے لگے۔ تعجب تو اِس بات کا ہے کہ پاکستان، ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی اس صورت حال سے آنکھیں چرا رہا جو اسلامی اقدار کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔اسلام ہمیں اعتدال سکھاتا ہے۔ قرآن وقت کی قدر، نفس کی حفاظت اور فتنوں سے بچاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر شخص اپنے ماتحتوں کا ذمہ دار ہے۔ یہ ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے، ریاست پر بھی، اور پورے معاشرے پر بھی۔ بچوں کی ذہنی و اخلاقی صحت کا تحفظ کوئی مغربی ایجنڈا نہیں، بلکہ اسلامی فریضہ ہے۔اگر اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو وعظوں سے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر سختی سے عمر کی تصدیق، اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی، والدین کے لیے آگاہی مہمات، PTA کے ذریعے فلٹرنگ سسٹمز، کھیل کے میدانوں اور لائبریریوں کا احیاء، اور اسلامی اقدار پر مبنی متبادل سرگرمیوں کا فروغ پر کوئی باقاعدہ حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ اب دنیاتو جاگ رہی ہے،تو بہتر ہے کہ ہم بھی جاگ جائیں کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کو ڈیجیٹل غلامی سے آزاد نہ کیا، تو کل ہمیں ایک ایسی نسل ملے گی جو اسکرین تو دیکھ سکے گی، مگر زندگی نہیں اور پھراِن کا مستقبل کہیں ایک خالی اسکرین بن کر نہ رہ جائے۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|