چین میں دواسازی کی جدید صنعت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں دواسازی کی جدید صنعت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں ادویات کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوامی صحت کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی سطح پر اصلاحات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ادویات کی تحقیق، پیداوار، فروخت اور نگرانی سے متعلق ضوابط میں بہتری کو نہ صرف دواسازی کی صنعت کی ترقی بلکہ عوام کو محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں چینی حکومت نے ادویات کے انتظام سے متعلق قوانین میں جامع ترامیم متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد جدت کی حوصلہ افزائی، آن لائن فروخت کے نظم کو مضبوط بنانا اور ادویات کے تحفظ سے متعلق نگرانی کو مزید سخت کرنا ہے۔
اس ضمن میں چینی وزیرِاعظم لی چھیانگ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل کے ایک فرمان کے ذریعے ادویات کے قانون پر عمل درآمد سے متعلق نظرثانی شدہ ضوابط جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ ضوابط نو ابواب اور 89 دفعات پر مشتمل ہیں اور ان کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔ ان ترامیم کے ذریعے موجودہ نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ ضوابط کا مرکزی نکتہ ادویات کی تحقیق اور رجسٹریشن کا نظام ہے۔ دستاویز میں ادویات کی تیاری کے لیے طبی افادیت پر مبنی نقطۂ نظر کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کے تحت نئی ادویات کی تحقیق میں جدت کی حوصلہ افزائی اور ان کے طبی استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نئی ادویات حقیقی طبی ضروریات کو پورا کریں اور مریضوں کے علاج میں مؤثر ثابت ہوں۔
ان ضوابط میں کلینیکل ٹرائلز کے انتظام سے متعلق تقاضوں کو مزید واضح کیا گیا ہے، جبکہ ادویات کو مارکیٹ میں لانے کے لیے تیز رفتار جانچ اور منظوری کے طریقہ کار بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی دوبارہ رجسٹریشن اور نسخے پر دستیاب ادویات کو بغیر نسخے کی ادویات میں تبدیل کرنے کے عمل کے لیے بھی واضح ضابطہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
ادویات میں جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے نظرثانی شدہ قوانین میں بچوں کے لیے تیار کی جانے والی مخصوص ادویات اور نایاب بیماریوں کے علاج سے متعلق ادویات کو مارکیٹ میں خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نئی کیمیائی ساخت پر مشتمل ادویات کے لیے ڈیٹا کے تحفظ کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
پیداوار کے شعبے میں بھی نظم و ضبط کو سخت کیا گیا ہے۔ خاص طور پر روایتی چینی ادویات کے جوشاندہ اجزا اور گرینولز کی تیاری اور فروخت سے متعلق انتظامی تقاضوں کو مزید واضح کیا گیا ہے، تاکہ معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور صارفین کو محفوظ مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔
ادویات کی ترسیل اور استعمال کے حوالے سے آن لائن فروخت کی نگرانی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان ضوابط کے تحت تھرڈ پارٹی ای کامرس پلیٹ فارمز پر ذمہ داریوں میں اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ غیر معیاری یا غیر قانونی ادویات کی فروخت کو روکا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی فروخت کے عمل کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
طبی اداروں کو بچوں کے لیے مخصوص ادویات تیار کرنے میں بھی معاونت فراہم کی گئی ہے، تاکہ بچوں کے امراض کی طبی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ادویات کے تحفظ سے متعلق نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے معائنہ، نمونہ جات کے حصول اور جانچ کے طریقہ کار کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اگر کسی فریق کو جانچ کے نتائج پر اعتراض ہو تو دوبارہ جانچ کی درخواست دینے کی گنجائش بھی فراہم کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزیوں پر سخت قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔
ادویات کے انتظام سے متعلق نظرثانی شدہ ضوابط چین میں دواسازی کے شعبے کو زیادہ منظم، محفوظ اور جدید بنانے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی، آن لائن فروخت کی مؤثر نگرانی اور سخت حفاظتی اقدامات کے ذریعے عوامی صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کا ہدف سامنے رکھا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے نفاذ سے توقع کی جا رہی ہے کہ ادویات کی دستیابی، معیار اور تحفظ کے نظام میں مزید بہتری آئے گی اور دواسازی کی صنعت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے گا۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.