نوجوانوں کی زندگی میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جب جسم میں طاقت، دماغ میں تازگی اور دل میں امنگوں کا سمندر لہراتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جوانی کو ایک عظیم نعمت بنایا ہے، جہاں انسان نہ بچپن کی کمزوری کا شکار ہوتا ہے اور نہ بڑھاپے کی تھکاوٹ کا۔ مگر افسوس کہ آج کے بیشتر نوجوان اس نعمت کو سمجھے بغیر موبائل، سوشل میڈیا، غیر ضروری گپ شپ اور وقتی لذتوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب آنکھ کھلتی ہے تو عمر کا بڑا حصہ گزر چکا ہوتا ہے اور حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ وقت کی قدر کرنے والا نوجوان ہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، جبکہ اسے ضائع کرنے والا زندگی بھر پچھتاوے میں مبتلا رہتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھا کر فرمایا: "والعصر، ان الانسان لفی خسر" یعنی زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔ اس آیت میں اللہ نے واضح کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان نقصان اٹھاتا ہے اگر وہ ایمان، نیک اعمال، حق کی تلقین اور صبر نہ اپنائے۔ یہ آیت نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی تنبیہ ہے کہ وقت بے دردی سے گزر رہا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا: "دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں صحت اور فراغت"۔ جوانی میں صحت اور فراغت دونوں میسر ہوتے ہیں، مگر نوجوان انہیں فضول کاموں میں لٹا دیتے ہیں۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، دولت کو فقر سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ نوجوانوں کے لیے یہ حدیث روشنی کی کرن ہے کہ جوانی کا وقت ضائع نہ کرو۔ آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے جہاں ایک کلک پر دنیا ہاتھ میں آ جاتی ہے مگر یہی ٹیکنالوجی وقت کا سب سے بڑا دشمن بھی بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا، ویڈیوز، گیمز گھنٹوں بیت جاتے ہیں۔ ایک نوجوان دن میں ۴-۵ گھنٹے موبائل پر گزارتا ہے تو سال بھر میں ہزاروں گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ وقت اگر علم حاصل کرنے، ہنر سیکھنے، ورزش کرنے، نماز کی پابندی کرنے یا کوئی نیا کام شروع کرنے میں لگایا جائے تو زندگی بدل سکتی ہے۔ یاد رکھو، ایک گھنٹہ روزانہ نئی چیز سیکھنے سے پانچ سال میں آپ ماہر بن جاتے ہو۔ وقت کی قدر کرنے والے نوجوان ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم اسے نہ کاٹو تو یہ تمہیں کاٹ ڈالے گا"۔ یعنی اگر تم وقت کو مفید کاموں میں استعمال نہ کرو تو یہ تمہاری زندگی کو برباد کر دے گا۔ نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کیا جائیں؟ سب سے پہلے روزانہ کا شیڈول بنائیں۔ صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں، نماز فجر سے دن کی شروعات کریں۔ دن کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تعلیم یا نوکری کے لیے وقت، ورزش اور صحت کے لیے وقت، نئی مہارت سیکھنے کے لیے وقت اور عبادت کے لیے وقت۔ موبائل استعمال کو محدود کریں، دن میں صرف مخصوص وقت رکھیں۔ گول سیٹ کریں ایک سال میں کیا حاصل کرنا ہے؟ پھر اسے روزانہ کے کاموں میں تقسیم کریں۔ منفی دوستوں سے فاصلہ رکھیں جو وقت ضائع کرتے ہیں۔ مثبت لوگوں کا ساتھ رکھیں جو حوصلہ افزائی کریں۔ کتابیں پڑھیں، motivational لیکچرز سنیں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ وقت کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ یاد رکھیں، وقت واپس نہیں آتا۔ جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی نہیں لوٹے گا۔ آج کا نوجوان کل کی قوم کا معمار ہے۔ اگر آج وقت کی قدر کی تو کل کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔ اللہ نے آپ میں بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں، بس انہیں وقت دے کر نکھاریں۔ جوانی ضائع نہ کریں، ورنہ بڑھاپے میں حسرت رہے گی۔ آج سے عزم کریں کہ ہر لمحہ مفید بنائیں گے۔ اللہ کی مدد سے آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔ وقت کی قدر کرو، کیونکہ وقت ہی زندگی ہے۔ آج سے شروع کریں، کل بہت دیر ہو جائے گی! |