نئی مہارتیں، نئے مواقع: بدلتی ہوئی ملازمتوں کی دنیا
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
نئی مہارتیں، نئے مواقع: بدلتی ہوئی ملازمتوں کی دنیا تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں معیشت اور صنعت کا ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ روایتی پیشوں کی جگہ اب ایسی ملازمتیں لے رہی ہیں جو جدید مہارتوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور مختلف شعبوں کے امتزاج کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی طرح ترقی کا تصور بھی محض تعمیراتی منصوبوں یا سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اب انسانی صلاحیتوں کی ترقی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں کامیابی کا انحصار صرف محنت پر نہیں بلکہ مہارت، تربیت اور جدت پر ہے۔
اسی تناظر میں چین کے آئندہ ترقیاتی منصوبے ایک نئی تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں معیشت کے ساتھ ساتھ روزگار کے ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں شامل بڑے منصوبے صرف تعمیر و ترقی تک محدود نہیں بلکہ وہ ایسے روزگار پیدا کر رہے ہیں جن کے لیے اعلیٰ مہارت، تکنیکی مہارت اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت درکار ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مستقبل کی ملازمتیں زیادہ متنوع اور پیچیدہ ہوں گی۔
دوسری جانب روایتی محنت کش طبقے میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پہلے جہاں تعمیراتی یا صنعتی کام زیادہ تر جسمانی محنت پر مبنی ہوتے تھے، اب وہی شعبے جدید ٹیکنالوجی کے باعث مہارت کا تقاضا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر توانائی کے نئے منصوبوں، جدید ٹرانسپورٹ نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں کام کرنے والے افراد کو نہ صرف مشینری کی سمجھ ہونی چاہیے بلکہ انہیں پیچیدہ نظاموں کو چلانے اور برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ہنر مند مزدوروں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کی سماجی حیثیت میں بہتری آئی ہے۔
اسی طرح حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ افراد کو بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ نئی معیشت کے اہم شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، نئی توانائی، جدید گاڑیاں اور بزرگوں کی دیکھ بھال میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ افراد نہ صرف روزگار حاصل کر سکیں بلکہ بہتر معیار زندگی بھی حاصل کریں۔
دوسری طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر افراد کی مانگ میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ جدید صنعتوں جیسے چِپس سازی، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی پیداوار اور جدید بیٹری ٹیکنالوجی میں ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو تحقیق، انجینئرنگ اور کاروباری حکمت عملی کو یکجا کر سکیں۔ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد نہ صرف زیادہ تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں بلکہ انہیں عالمی سطح پر بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کی معیشت علم اور تحقیق پر زیادہ انحصار کرے گی۔
اسی طرح ایک اور اہم رجحان مختلف شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک ہے۔ زراعت، جو ایک قدیم شعبہ سمجھا جاتا تھا، اب جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑ کر ایک نئے انداز میں سامنے آ رہی ہے۔ کھیتوں میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی مشینیں، فصلوں کی نگرانی کرنے والے سینسرز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے مصنوعات کی فروخت اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح ایک ہی شعبے میں کئی نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
شہری صنعتوں میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ روبوٹکس، خودکار نظام اور ڈیجیٹل خدمات نے ایسے نئے پیشے پیدا کیے ہیں جو پہلے موجود ہی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر روبوٹ چلانے، ان کی دیکھ بھال کرنے اور مختلف نظاموں کو مربوط کرنے والے ماہرین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو تکنیکی علم کے ساتھ ساتھ انتظامی اور خدماتی مہارت بھی رکھتے ہوں۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل کا روزگار صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ مختلف مہارتوں کے امتزاج کا تقاضا کرے گا۔ جو افراد نئی ٹیکنالوجی کو سمجھنے، مختلف شعبوں میں کام کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کریں گے، وہی اس بدلتی ہوئی دنیا میں کامیاب ہو سکیں گے۔ یہی تبدیلی نہ صرف معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ افراد کو بھی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔ |
|