آگ اور سفارت کے درمیان: امریکہ–ایران بحران میں پاکستان کا کردار
(Ghulamullah Kiyani, Islamabad)
|
آگ اور سفارت کے درمیان: امریکہ–ایران بحران میں پاکستان کا کردار |
|
آگ اور سفارت کے درمیان: امریکہ–ایران بحران میں پاکستان کا کردار
تحریر: غلام اللہ کیانی
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حالات اس نہج پر ہیں کہ معمولی غلطی بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اگرچہ کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، مگر یہ بات اہم ہے کہ بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ یہی تسلسل امید کی کرن ہے اور یہی امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب زمینی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے پر دباؤ بڑھنے سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے۔ ایک متوازن اور غیر جانبدار پالیسی کے ذریعے پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس نازک جنگ بندی کو ٹوٹنے نہ دیا جائے اور اسے مزید وقت دیا جائے تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔
وقت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے: جلدی کا کام شیطان کا
اسی طرح صبر اور تدریج ہی کامیابی کی کنجی ہیں: بوند بوند سے دریا بنتا ہے
مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے: بات چیت سے بگڑے کام سنور جاتے ہیں
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کوئی بھی تنازع یکطرفہ طور پر حل نہیں ہو سکتا: ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی
کشیدگی کے اس ماحول میں تحمل اور حکمت کی اشد ضرورت ہے: نرم گرم ہوا ہی لوہے کو موڑتی ہے
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تصادم کا نقصان سب کو ہوتا ہے: دو ہاتھی لڑتے ہیں تو گھاس ہی کچلی جاتی ہے
پاکستان کے لیے یہی مناسب راستہ ہے کہ وہ تحمل، حکمت اور مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے اس بحران کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ: امن میں سب کی بھلائی، جنگ میں سب کی رسوائی
اسی لیے موجودہ حالات میں بہترین حکمت عملی یہی ہے: پہلے جنگ بندی میں توسیع، پھر مسائل کا حل۔ |