انتظار

(Dr. Sabeera shafique, Karachi)

وہ بیمار نہیں تھی
مگر صحت مند بھی نہیں رہی تھی۔
یہ جملہ اس کی پوری زندگی کا خلاصہ تھا۔
وہ صبح اٹھتی،
کام کرتی،
ہنستی بھی تھی
مگر اندر کہیں مسلسل ایک جنگ جاری رہتی۔
ایسی تھکن جو جسم پر نہیں،
نگاہوں پر نظر آتی ہے۔
ایسی بے چینی جو دل کی دھڑکن میں چھپی رہتی ہے۔
رپورٹس کے صفحے صاف تھے،
مگر زندگی بکھری ہوئی۔
ہر دروازے سے یہی جواب ملا:
“سب نارمل ہے”
اور وہ سوچتی رہی
اگر سب نارمل ہے
تو یہ بے نام سی کمزوری کہاں سے آ رہی ہے؟
اصل اذیت بیماری نہیں تھی،
اصل اذیت انتظار تھا۔
انتظار اس دن کا
جب کوئی کہے:
“میں سمجھ گیا/گئی ہوں”
انتظار اس رات کا
جب نیند خوف کے بغیر آئے۔
اور انتظار اس لمحے کا
جب وہ خود کو پھر سے پہچان سکے۔
یہ انتظار آہستہ آہستہ اس کے اعصاب کھا گیا۔
سوچ مسلسل جاگتی رہی،
جسم تھکتا گیا،
اور ہارمونز جیسے تال میل بھول گئے ہوں۔
وہ مسکرائی
کیونکہ عورتیں اکثر یہی کرتی ہیں۔
مگر ہر مسکراہٹ کے پیچھے
کچھ اور بکھر جاتا تھا۔
کچھ لوگ بیمار اس دن ہوتے ہیں
جب وہ سب کے لیے مضبوط بنتے ہیں…
وہ مضبوط بنی رہی،
خاموش رہی،
اور انتظار کرتی رہی
اس دن کا
جب کوئی اس کی خاموشی پڑھ لے۔
جب ہومیوپیتھک علاج کا آغاز کیا
تو سب سے پہلے اس کی کہانی سنی گئی۔
کوئی جلدی نہیں تھی،
کوئی فیصلے کی عجلت نہیں۔
بس سوال،
خاموشی،
اور پھر اعتماد۔
دوا معمولی سی تھی،
مگر پیغام بہت گہرا:
“جلدی مت کرو،
جسم دشمن نہیں ہوتا۔”
دن نہیں بدلے،
ہفتے بھی نہیں۔
مہینوں بعد جا کر
دل کچھ ہلکا ہوا،
نیند نے ہمت کی،
اور خوف پیچھے ہٹنے لگا۔
وہ مکمل ٹھیک نہیں تھی—
مگر وہ ٹوٹی ہوئی بھی نہیں رہی۔
اور بعض اوقات
یہی کافی ہوتا ہے۔
ایک بات جو اکثر نہیں بتائی جاتی
طویل ذہنی دباؤ اعصابی نظام کو خاموشی سے کمزور کرتا ہے۔
جب اعصاب تھک جائیں تو
ہارمونز، نیند، دل اور ہاضمہ
سب اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
ایسی حالت میں شفا دوائی سے نہیں،
سمجھ، وقت اور صبر سے شروع ہوتی ہے۔
اسی لیے
کچھ بیماریوں میں
انتظار بھی دوا بن جاتا ہے۔

 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Dr. Sabeera shafique
About the Author: Dr. Sabeera shafique Read More Articles by Dr. Sabeera shafique : 4 Articles with 1118 views میں ذہنی صحت اور جذبات پر دل سے لکھنے والی لکھاری ہوں۔ چاہتی ہوں کہ میری تحریر کسی دل کے لیے تھوڑی سے امید بن جائے ۔.. View More