کبھی تُو بھی روشنی بن جا

رات کی خاموشیوں میں، جب آسمان پر چاند اپنی نرم روشنی بکھیرتا ہے، دل کے گوشوں میں ایک انوکھی بات جاگتی ہے۔ وہ بات جو زبان سے ادا نہیں ہوتی مگر روح کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کہہ رہا ہو، ”کبھی تُو بھی روشنی بن جا، کبھی تُو بھی اُبھرتا ہوا چاند بن جا۔“
میرے محبوب، میں تجھ سے کوئی رقابت نہیں رکھتا۔ مگر دل چاہتا ہے کہ تُو خود کو پہچان لے۔ تجھے اندازہ نہیں کہ تیری خاموشیوں میں کتنی قوت چھپی ہے۔ تُو اگر چاہے تو اندھیری راتوں کو دن بنا دے۔ مگر تُو نے خود پر یقین کرنا بھُلا دیا ہے۔ تُو دوسروں کے اجالے دیکھ کر خود کو سیاہی میں گم کر دیتا ہے۔
میرے ہمراز، کبھی کبھی سوچتا ہوں، ہم کیوں دوسروں کی روشنیوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں؟ کیوں ہم اُن کے چمکتے چہروں، اُن کے بلند مقام، اُن کی کامیابیوں کو دیکھ کر اپنے دل میں دھواں بھر لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری مٹی بھی اُسی خالق نے گوندھی ہے جس نے اُنہیں بنایا۔ ہم بھی اُسی سانس کے ذرے ہیں، جس سے کائنات نے زندگی پائی۔ زندگی میں کئی چاند چمکتے ہیں، کچھ آسمان پر، کچھ زمین پر۔ مگر سب سے حسین وہ لمحہ ہے جب انسان خود اپنی روشنی پیدا کرتا ہے۔ وہ روشنی جو ادھار نہیں ہوتی، جو کسی اور کے چہرے سے منعکس نہیں ہوتی۔ وہ روشنی جو دل سے پھوٹتی ہے، ایمان، عزم، اور یقین سے۔ میں تجھ سے کہتا ہوں، اے میرے محبوب، کہ تُو اپنے اندر کے زخموں کو ماتم نہ بنا۔ ان زخموں میں روشنی کے بیج بو دے۔ تُو جس غم کو کمزوری سمجھتا ہے، وہی تیری طاقت ہے۔ تُو اگر اُس درد کو سمجھ لے، تو وہ تجھے ایسی بلندی پر لے جائے گا جہاں حسد، خوف، یا شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ دنیا میں وہی لوگ نایاب بنتے ہیں جو دوسروں کے چمکنے سے جلنے کے بجائے، خود کو جلا کر روشنی پیدا کرتے ہیں۔ جلنا اگر ہے تو حسد میں نہیں، جذبے میں جل۔ ایسا جل کہ اندھیروں کو مٹا دے۔ ایسا جل کہ تیرے وجود کی آنچ سے زمانہ روشن ہو جائے۔ میرے محبوب، اگر تُو کسی اور کے اُبھرتے چاند کو دیکھ کر دُکھی ہوتا ہے، تو جان لے، وہ چاند بھی کبھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کسی نے اُسے بھی وقت کی ٹھوکروں سے تراشا، کسی نے اُس کی راتوں کو تنہائی کی آگ میں پگھلایا، تب جا کر وہ چمکا۔ تو پھر تُو کیوں سوچتا ہے کہ تیری راتیں بس اندھیری رہیں گی؟ نہیں، تُو بھی ایک دن چمکے گا، مگر شرط یہ ہے کہ تُو اپنے اندھیرے سے لڑنا سیکھ لے۔ تُو اپنے اندر کی آگ کو بجھا مت، اسے جلنے دے، مگر حسد کی آگ نہیں، جدوجہد کی آگ۔ ایسی آگ جو تیرے خوابوں کو کندن بنا دے۔ تُو جب کسی کی کامیابی دیکھے، تو حسد کے بجائے یہ سوچ، کہ اگر وہ کر سکتا ہے، تو میں کیوں نہیں؟ دنیا کے بڑے معرکے اُن لوگوں نے جیتے جو کسی سے جلنے کے بجائے خود کو جلانے پر آمادہ ہوئے۔
محبوب، میں بار بار تجھے پکار کے کہہ رہا ہوں، غور سے میری بات سن، کامیابی کسی چاندنی رات کا تحفہ نہیں، یہ تو اُن راتوں کی مزدوری ہے جن میں نیند اُڑ چکی ہوتی ہے۔ جب دل زخمی ہوتا ہے مگر ہاتھ پھر بھی کام کرتے ہیں، جب جسم تھک جاتا ہے مگر خواب سونے نہیں دیتے۔ اور جب انسان ہر شے سے مایوس ہو کر بھی خود پر یقین رکھتا ہے، تب کہیں جا کر روشنی جنم لیتی ہے۔ تُو سمجھتا ہے کہ چاند صرف دوسروں کا ہے؟ نہیں، تُو خود بھی ایک چاند ہے، ابھی بادلوں کے پیچھے، مگر مکمل طور پر معدوم نہیں۔ بس ذرا سا یقین، ذرا سی ہمت، اور ذرا سا جنون چاہیے۔ جو تُو خواب میں دیکھتا ہے، وہ تعبیر بننے کا منتظر ہے۔ میں تجھ سے کچھ مانگتا نہیں، مگر یہ چاہتا ہوں کہ تُو اپنے اندر کے چاند کو پہچان لے۔ تُو کسی کا عکس نہیں، تُو اپنی ذات کا مرکز ہے۔ تیرے اندر کمال چھپا ہے، بس اسے جگانے کی دیر ہے۔ اور جب تُو جاگے گا، جب تُو اپنی روشنی کو مان لے گا، تو نہ کوئی چاند تجھ سے بڑھ کر لگے گا، نہ کوئی تاروں کی چمک تیرے دل کو چبھ پائے گی۔ بس اُس دن تُو خود کہے گا: ”میں جلنا جان گیا ہوں، مگر اپنی روشنی میں، نہ کہ کسی اور کے مقابل۔“ مگر یاد رکھ، چاند بننے کے لیے سورج کی آنکھوں میں دیکھنا پڑتا ہے۔ روشنی کے قابل بننے کے لیے اندھیروں میں وقت گزارنا پڑتا ہے۔ اور وہ جو اپنے دل کے اندھیروں سے ڈرتا ہے، وہ کبھی آسمان پر نہیں چمکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ تُو اپنے اندر کے ڈر کو شکست دے، اپنے زخموں کو قوت بنا، اپنے اشکوں سے وضو کر، اور پھر ایک دن ایسا بھی آۓ گا جب تُو کہے گا، ”میں نے جلنا سیکھ لیا، مگر اپنی روشنی کے لیے۔“

 

Shayan Alam
About the Author: Shayan Alam Read More Articles by Shayan Alam: 68 Articles with 45789 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.