|
پروفیسر معین الدین عقیل کی ”حاصل عمر“ پر ایک طائرانہ نظر از ڈاکٹر افضل رضوی---آسٹریلیا پروفیسرڈاکٹرمعین الدین عقیل سید اُن اہلِ علم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی کتاب، قلم اور تدریس کے گرد گھومتی رہی۔ وہ محض ایک استاد نہیں بلکہ ایک ایسے قاری اور محقق کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے علم کو رسمی ذمہ داری کے بجائے زندگی کی مستقل جستجو سمجھا۔ ان کی شخصیت میں روایت کی سنجیدگی بھی ہے اور جدید فکر کی تازگی بھی۔ برسوں کی تدریس، مطالعہ اور علمی رفاقت نے ان کے اندر ایک ایسا فکری توازن پیدا کیا جس میں ادب، فلسفہ، تاریخ، مذہب اور انسانی علوم سب ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی اصل پہچان ان کی لائبریری رہی۔وہ لائبریری جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک استاد کے ذہنی ارتقاء کا عکس بنتی گئی۔ اسی مسلسل مطالعے اور علمی وابستگی کا نچوڑ”حاصلِ عمر“کی صورت میں سامنے آیاہے، جو دراصل ان کتابوں کی فہرست ہے جو ابتدائی زمانے سے لے کر آج تک ان کی لائبریری کا حصہ رہیں اور ان کے زیرِ مطالعہ آئیں۔ ”حاصلِ عمر“ کو جب پہلی نظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف کتابوں کی ایک طویل فہرست محسوس ہوتی ہے، مگر جیسے ہی قاری اس کے اوراق میں ٹھہرتا ہے، اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فہرست نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کی دھڑکن ہے جو لفظوں کے سائے میں پروان چڑھی۔ یہاں واقعات کی گہماگہمی نہیں، مگر ایک خاموش دریا کی سی روانی ہے؛ ایسا دریا جو پروفیسر معین الدین عقیل کی پوری عمر کے فکری سفر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ان کتابوں کے نام محض عنوان نہیں بلکہ ان کے ذہن کے موسم ہیں؛کبھی بہار کی طرح تازہ، کبھی خزاں کی طرح سنجیدہ، اور کبھی سرد راتوں کی طرح گہرے اور پُراسرار۔ ان کی فہرستِ مطالعہ میں کلاسیکی و تحقیقی نوعیت کی متعدد اہم تصانیف کے ساتھ مولوی یحییٰ کی دو جلدوں پر مشتمل اہم کتاب”سیر المصنفین“بھی شامل ہے، جسے پروفیسر معین الدین عقیل نے نہایت محنت، تحقیق اور تدوینی بصیرت کے ساتھ مرتب کیا۔ یہ تصنیف اہلِ قلم کی سوانح، علمی خدمات اور فکری روایت کو محفوظ کرنے والی ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے راقم الحروف نے اس پر ایک مفصل تحقیقی و تجزیاتی مضمون بھی تحریر کیا، جس میں نہ صرف مولوی یحییٰ کی علمی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا بلکہ پروفیسر معین الدین عقیل کی تدوینی مہارت اور تحقیقی بصیرت کو بھی سراہا گیا۔ اس تذکرے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پروفیسر صاحب کا علمی شوق صرف مطالعے تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے علمی ورثے کو محفوظ کرنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی عملی ذمہ داری بھی نبھائی۔ یہ کتاب قاری کو بتاتی ہے کہ کچھ لوگ اپنی کہانی خود نہیں لکھتے، ان کی کہانی ان کی لائبریری لکھتی ہے۔ الماریوں میں سجی ہوئی کتابیں کسی استاد کی خاموش گفتگو ہوتی ہیں؛ وہ اس کے خوابوں، سوالوں، شکستوں اور دریافتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔“حاصلِ عمر”میں جب ابتدائی مطالعے کی کتابیں سامنے آتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ایک کم عمر ذہن پہلی بار دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مذہبی متون، اخلاقی حکایات، کلاسیکی ادب اور زبان کی بنیادی کتابیں ایک ایسے شعور کی تعمیر کرتی نظر آتی ہیں جس میں تہذیب، روایت اور روحانی وابستگی کی پہلی اینٹ رکھی جا رہی ہے۔ ان ابتدائی صفحات میں ایک طالب علم کی سادگی بھی ہے اور ایک استاد کی آئندہ جھلک بھی۔ جیسے جیسے زندگی اپنے قدم آگے بڑھاتی جاتی ہے، ویسے ویسیکتابوں کی فہرست میں بھی تبدیلی آتی جاتی ہے اور قاری محسوس کرتا ہے کہ مطالعہ اب شوق سے آگے بڑھ کر جستجو میں بدل رہا ہے۔ فلسفے کی کتابیں ذہن میں سوال جگاتی ہیں، تاریخ انسان کو اس کے ماضی کے آئینے میں دیکھنا سکھاتی ہے، نفسیات انسان کے باطن کی گہرائیوں کو کھولتی ہے اور سماجیات معاشرتی پیچیدگیوں کی پرتیں واضح کرتی ہے۔ اس مرحلے میں پروفیسر معین الدین عقیل کی شخصیت ایک نئے سانچے میں ڈھلتی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں مطالعہ صرف علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ریاضت بن جاتا ہے۔ ہر نئی کتاب گویا ذہن کی کسی بند کھڑکی کو کھول دیتی ہے اور ہر مصنف ایک نئے مکالمے کا آغاز کرتا ہے۔ پھر ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب انسان کے سوال بدل جاتے ہیں۔ معلومات کی کثرت کے بعد معنی کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ اسی مقام پر اقبال کی فکر، رومی کی حکمت، تصوف کی لطافت اور روحانیت کی خاموش روشنی اس فہرست میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب مطالعہ انسان کے باطن میں اتر کر اسے صرف عالم نہیں بلکہ صاحبِ بصیرت بناتا ہے۔ کتابیں اب ذہن کو نہیں بلکہ روح کو مخاطب کرتی ہیں۔ یہاں الفاظ کے درمیان خاموش وقفے بھی معنی رکھتے ہیں اور مطالعہ ایک عبادت کی سی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ ”حاصلِ عمر“کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ایک استاد کی اصل سوانح اس کے لیکچروں یا عہدوں میں نہیں بلکہ اس کی پڑھی ہوئی کتابوں میں چھپی ہوتی ہے۔ ان کتابوں کے درمیان ایک ایسی شخصیت کا عکس ابھرتا ہے جو روایت سے جڑی ہوئی بھی ہے اور جدید فکر سے مکالمہ کرتی ہوئی بھی۔ وہ نہ ماضی سے بے خبر ہے اور نہ حال کی تیز رفتار تبدیلیوں سے خوف زدہ۔ اس شخصیت کی لائبریری میں کلاسیکی شاعری بھی ہے اور جدید تنقید بھی، مذہبی فکر بھی ہے اور عالمی فلسفہ بھی۔ یہی امتزاج اس کے ذہن کو وسعت دیتا ہے اور اسے ایک ایسا استاد بناتا ہے جو اپنے شاگردوں کے لیے صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری بیداری کا چراغ بن جاتا ہے۔ یہ کتاب اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ مطالعہ دراصل ایک مسلسل سفر ہے جس کی کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ ہر کتاب کے بعد ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے اور ہر سوال کے بعد ایک نئی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ پروفیسر معین الدین عقیل کی لائبریری اس سفر کی گواہ ہے۔ یہاں کتابیں جمع کرنے کا شوق نہیں بلکہ علم کے ساتھ ایک روحانی تعلق نظر آتا ہے۔ وہ کتابیں جو برسوں پہلے پڑھی گئیں، آج بھی ان کے فکری وجود کا حصہ معلوم ہوتی ہیں، جیسے وہ محض کاغذ کے اوراق نہ ہوں بلکہ یادوں اور تجربوں کے زندہ پیکر ہوں۔ آج کے اس دور میں، جب مطالعہ کی جگہ سرسری معلومات نے لے لی ہے،“حاصلِ عمر”ایک خاموش احتجاج بھی ہے اور ایک نرم سی نصیحت بھی۔ یہ بتاتی ہے کہ حقیقی علم وقت مانگتا ہے، تنہائی مانگتا ہے اور مسلسل جستجو کا تقاضا کرتا ہے۔ کتابوں کے ساتھ گزارا گیا وقت انسان کے اندر وہ گہرائی پیدا کرتا ہے جو کسی فوری خبر یا سرسری مطالعے سے ممکن نہیں۔ اس فہرست کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ایک انسان نے اپنی پوری عمر کتابوں کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے گزاری، اور اسی مکالمے نے اسے ایک ایسا وجود بنایا جو خود بھی ایک زندہ کتاب بن گیا۔ جب قاری اس تحریر کے آخری ورق تک پہنچتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی لائبریری سے نہیں بلکہ ایک زندگی کے سفر سے گزر کر آیا ہو۔“حاصلِ عمر”ایک یاد دہانی ہے کہ انسان کی اصل میراث اس کا علم، اس کی فکر اور اس کی مطالعہ دوستی ہوتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ وقت گزر جاتا ہے مگر کتابوں سے حاصل ہونے والی روشنی باقی رہتی ہے، اور شاید اسی لیے کسی اہلِ علم کی سب سے بڑی پہچان اس کے نام سے زیادہ وہ کتابیں ہوتی ہیں جنہوں نے اس کے ذہن کو روشن کیا اور اس کی روح کو وسعت دی۔ المختصریہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ آج کے افراتفری اور بے جا ہنگامہ آرائی کے دور میں جہاں اہلِ علم کہلائے جانے والے لوگ ذاتی مراسم کی بنیاد پر پر عوام الناس کی نظروں میں رہتے ہیں وہاں پرفیسر معین الدین عقیل جیسے مدبر محققین گوشہٗ تنہائی میں آنے والی نسلوں کے لیے ادبی و علمی مرقعے تیارکر جاتے ہیں۔ میرے نزدیک دیگر تمام صدقہ ہائے جاریہ سے یہ صدقہ جاریہ بہت اعلیٰ پائے کا ہے۔
|