| رات کے اس سنسان ڈھلتے پہر میں، جب زمانے کی گرد بیٹھ چکی ہے اور قدموں کی چاپ بھی دل کے اندر تک سنائی دیتی ہے، ایک سوال بار بار روح میں چبھتا ہے، وہ لوگ کہاں گئے جن کے ساتھ سفر شروع کیا تھا؟ وہ آوازیں کہاں ڈوب گئیں جو کبھی ہم قدموں کو حوصلہ دیتی تھیں؟ وہ ہاتھ کہاں چھوٹ گئے جن پر اعتماد کر کے راستہ چُنا تھا؟ میرے ہم سخن، زندگی ایک سفر ہے، مگر یہ سفر ہمیشہ اُن لوگوں کے ساتھ نہیں رہتا جن کے ساتھ ہم چلنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات قافلہ راستے میں بکھر جاتا ہے۔ کچھ لوگ خود کو بدل لیتے ہیں، کچھ حالات سے بدل دیے جاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جنہیں راستہ جتنا لمبا ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اپنے اصل چہرے سامنے لانے پڑتے ہیں۔ سفر کی دھول آج بھی میرے قدموں سے لپٹی ہوئی ہے، اور دِل اب بھی اُس خاموشی کو یاد کرتا ہے جو قافلے کے بکھرنے کے بعد اُتری تھی۔ وہ خاموشی جو شور سے زیادہ چبھتی ہے، جو دل کے اندر جا کر یوں ٹھہرتی ہے جیسے کوئی سوال جم کر بیٹھ گیا ہو۔ ہم کبھی سوچتے بھی نہیں کہ جنہیں ہم رہبر سمجھتے ہیں، وہ بھی بھٹک سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو رہنما سمت دکھانے کے بجائے خود ہی نئے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں، اور ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ سچائی کا راستہ کہاں سے ٹوٹ گیا۔ میرے ہم نوا، درد اس میں نہیں کہ قافلہ بکھر گیا، درد اس میں ہے کہ وہ آوازیں خاموش ہو گئیں جن پر یقین تھا۔ وہ لوگ بدل گئے جن سے امید تھی۔ وہ رہنما تھک گئے جن پر دل نے بھروسہ کیا تھا۔ یہ سفر ایسا تھا جہاں ہر موڑ پر روشنی کا وعدہ تھا، مگر جیسے جیسے چلتے گئے، اندھیروں کی پرتیں کھلتی گئیں، اور آخر معلوم ہوا کہ کچھ لوگ رہبر نہیں، بس راستے کے مسافر تھے، وقتی، مختصر، اور کمزور۔ دل چاہتا ہے کہ ان سب سے سوال کروں، کہ وہ کیوں رکے؟ کیوں مڑ گئے؟ کیوں اُن قدموں نے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دی جنہیں آگے بڑھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی؟ جو لوگ قافلے کے سامنے چل رہے تھے، جو ہاتھ میں مشعل لیے آگے بڑھتے دکھائی دیتے تھے، جن کے الفاظ میں یقین، اور جن کی آنکھوں میں سمت ہوتی تھی، آج وہ سب خاموش کیوں ہو گئے؟ کیا راستہ اُن کے لیے مشکل ہو گیا تھا، یا اُن کے دل کمزور؟ مگر ایک بات سچ ہے، سفر کبھی کسی ایک انسان کا نہیں ہوتا۔ اگر رہبر چھوڑ جائے، تو راستہ ختم نہیں ہوتا۔ اگر قافلہ بکھر جائے، تو منزل مٹ نہیں جاتی۔ البتہ انسان کا دل ضرور بدل جاتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ محتاط، زیادہ گہرا، اور زیادہ زندہ ہو جاتا ہے۔ میرے ہم نوا، میں نے جب سفر شروع کیا تھا، تو دل میں ایک عجیب سا یقین تھا، یقین کہ جو لوگ میرا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں، وہ تھکن کے لمحوں میں میرا سہارا بنیں گے، اور مشکل موڑوں پر میرا راستہ روشن کریں گے۔ مگر وقت نے یہ راز کھول دیا کہ ہر ہاتھ مضبوط نہیں ہوتا، ہر دل وفادار نہیں ہوتا، اور ہر رہبر اپنی روشنی کا سچا محافظ نہیں ہوتا۔ رستے میں کچھ لوگ اتنے مضبوط تھے کہ میں نے سمجھا وہ کبھی نہیں رکیں گے، مگر وہی لوگ ایک دن ایسے خاموش ہوئے جیسے اُن کے اندر کی آواز ہی بجھ گئی ہو۔ وہ جن کے قدموں کی چاپ آگے بڑھنے کی دعا لگتی تھی، وہی ایک دن پیچھے مُڑ گئے، اور میں حیران رہ گیا کہ وہ کیوں رکے؟ کیوں ٹوٹ گئے؟ کچھ لوگ تو یوں بچھڑے کہ اُن کا جانا محسوس ہی نہ ہوا، بس ایک دن احساس ہوا کہ اُن کی گفتگو غائب ہے، اُن کا حوصلہ گم ہے، اور اُن کی واپسی کی امید بھی کہیں دور دفن ہو چکی ہے۔ میرے ہم سفر، سوال رہبروں سے کرنا چاہیے، مگر اُن کے رک جانے سے اپنی رفتار روک دینا دانشمندی نہیں۔ جو لوگ اپنی سوچ، اپنے وعدے، اور اپنے حوصلے سے بے وفائی کر بیٹھیں، اُن کے جواب چاہے کبھی نہ ملیں، مگر یہ جان لینا ضروری ہے کہ سفر تیری ذمہ داری ہے، منزل تیری منتظر ہے، اور روشنی کا حق تجھ پر ہے، نہ کہ ترکِ سفر کرنے والوں پر۔ بھروسے ٹوٹ جائیں تو دل زخمی تو ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی یہی زخم رہنمائی بن جاتے ہیں۔ یہی دکھ انسان کو سکھاتا ہے کہ اصل قوت بیرونی رہبروں سے نہیں، بلکہ اپنے اندر کے چراغ سے آتی ہے۔ قافلہ ٹوٹ بھی جائے تو بھی انسان اکیلا نہیں ہوتا، کیونکہ جو اپنی سچائی پر قائم رہتا ہے، وہ خود ہی اپنا رہبر بن جاتا ہے۔ میرے ہم نَفَس، میں نے بہت چاہا کہ اُن سے پوچھوں، کہ جنہیں میں نے راستہ دیا، جنہیں میں نے اپنے دل کا یقین دیا، وہ کیوں منزل کے قریب آ کر پھسل گئے؟ کیا یہ سفر اُن کا نہیں تھا؟ یا وہ راستہ جسے میں نے سچ سمجھا، اُن کے لیے بوجھ تھا؟ میں نے چاہا کہ اُن سے سوال کروں، مگر پھر احساس ہوا کہ شاید اُن کے پاس جواب ہی نہیں۔ کیونکہ جو لوگ اپنی رہبری چھوڑ دیتے ہیں، وہ سب سے پہلے اپنی ہی سچائی کھو دیتے ہیں۔ ایسے لوگ لفظوں میں مضبوط لگتے ہیں، مگر اندر سے ریت کی مانند ٹوٹے ہوتے ہیں۔ اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ رہبر ایسے تھے جو رہبری کا تاج تو چاہتے تھے، مگر روشنی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ وہ لوگوں کو آگے بڑھنے کی دعوت دیتے تھے، مگر خود اُن موڑوں پر رک جاتے تھے جن پر انسان کو اپنے دل کی سچائی ثابت کرنا ہوتی ہے۔ مگر اے عزیزِ من، میں یہ بھی سیکھ گیا ہوں کہ سفر کبھی رکتا نہیں، چاہے لوگ رک جائیں، چاہے قافلے بکھر جائیں، چاہے رہبر سوال بن جائیں۔ سفر تو اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنا راستہ دل سے چنتے ہیں، جو چلتے رہتے ہیں، جو تھکتے ضرور ہیں مگر رکنے کا فیصلہ اپنی کمزوری سے نہیں، اپنی ذمہ داری سے کرتے ہیں۔ اور آج، میں تیرے سامنے محض یہ نہیں کہہ رہا کہ قافلہ کھو گیا، بلکہ یہ بھی کہہ رہا ہوں، کہ جب قافلہ بکھر جائے، تو انسان اپنے اندر کا راستہ دیکھنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ رہبر جن سے سوال کرنا ہے، وہ شاید کبھی جواب نہ دیں، مگر یہ جان لے، اُن کے جواب نہ دینے سے تیری منزل نہیں چھن جاتی۔ اُن کے رکنے سے تیرا سفر رکتا نہیں، بلکہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ جو لوگ راستے میں چھوڑ گئے، اُن کی تقدیر وہیں رک گئی۔ مگر جو اکیلا چلتا رہا، وقت اُس کے قدموں کی دھڑکن سے نیا قافلہ بناتا ہے، ایسا قافلہ جو بکھرتا نہیں، جو چھوڑ کر نہیں جاتا، کیونکہ وہ دل کے یقین سے بنتا ہے، لوگوں کی کمزوری سے نہیں۔ |