ممتاز ماہرِ تعلیم و نقاد ڈاکٹر محمد رفیق خان انتقال کر گئے:علمی و ادبی دنیا ایک عہد ساز استاد سے محروم

ممتاز ماہرِ تعلیم و نقاد ڈاکٹر محمد رفیق خان انتقال کر گئے:علمی و ادبی دنیا ایک عہد ساز استاد سے محروم
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی – آسٹریلیا
خلوص، حلم، محبت تھی جس کی پہچان
وقارِ علم کا پیکر، شفقت تھی جس کی مہمان
اے ربِ ذوالجلال! انہیں مقامِ خیر عطا فرما
خطاؤں سے درگزر، جنت کا گھر عطا فرما
علم و ادب کی دنیا آج ایک باوقار استاد، سنجیدہ محقق اور مخلص انسان سے محروم ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر محمد رفیق خان کی رحلت نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ شاگردوں، رفقائے کار اور علمی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے خاموشی اور وقار کے ساتھ اپنی پوری زندگی علم کی خدمت میں گزاری۔
پروفیسرڈاکٹر محمد رفیق خان یکم فروری 1939ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ 1961ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے M.Sc کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی اور پھر بایوکیمسٹری میں Ph.D کے لیے سٹریتھکلائیڈ، گلاسگو یونیورسٹی کا رخ کیا۔ 1978ء میں پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کر کے وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دینے لگے۔ تقریباً 46سال تک تدریس اور تحقیق کے شعبے میں ان کی خدمات جاری رہیں، اور وہ کیمسٹری و مینجمنٹ سائنس کے نمایاں استاد رہے۔
پروفیسرڈاکٹر محمد رفیق خان نے تدریس سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور تدریجاً تحقیق و تنقید میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ انہوں نے اردو ادب، تنقید اور فکری موضوعات پر گہرے مباحث پیش کیے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ استاد کا کام صرف معلومات پہنچانا نہیں بلکہ شخصیت سازی اور فکری بیداری بھی ہے۔ اسی نظریے کے تحت انہوں نے طلبہ میں مطالعے کا ذوق، تحقیقی دیانت اور مکالمے کی روایت کو فروغ دیا۔ آج ان کے شاگرد مختلف اداروں میں خدمات انجام دے کر استاد کی علمی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے اردو تنقید کے اصولی مباحث، کلاسیکی و جدید ادب کے تقابلی مطالعے اور فکری شخصیات کے تجزیے پر متعدد تحقیقی مضامین تحریر کیے۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات میں:مضبوط استدلال، حوالہ جاتی صحت،متوازن تجزیہ، شائستہ اور باوقار اسلوب شامل ہیں۔ اقبال شناسی اور فکری مباحث میں ان کے کام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے ادب کو محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ فکری و تہذیبی شعور کا ذریعہ قرار دیا۔
ڈاکٹر محمد رفیق خان نہایت منکسرالمزاج، بردبار اور اصول پسند شخصیت کے مالک تھے۔ اختلافِ رائے کو وہ علمی روایت کا حصہ سمجھتے اور مکالمے کے ذریعے فکری وسعت پیدا کرتے تھے۔ رفقائے کار کے مطابق وہ علمی دیانت میں انتہائی حساس تھے اور تحقیق میں صداقت کو بنیادی شرط سمجھتے تھے۔ شاگردوں کے ساتھ ان کا تعلق رسمی نہیں بلکہ ذاتی دلچسپی اور رہنمائی پر مبنی تھا۔
ڈاکٹر محمد رفیق خان کی وفات سے اردو ادب ایک ایسے محقق سے محروم ہو گیا جو خاموشی سے مگر مستقل مزاجی کے ساتھ علمی خدمت انجام دیتا رہا۔ ان کا تحریری سرمایہ، تربیت یافتہ شاگرد اور علمی طرزِ فکر ان کی دائمی یادگار ہیں۔ یہ مضمون اس عزم کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ مرحوم کی علمی روایت کو زندہ رکھا جائے اور نئی نسل کو تحقیق و تنقید کے اعلیٰ معیارات سے روشناس کرایا جائے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمد رفیق خان نے علمی و ادبی میدان میں متعدد گراں قدر تصانیف و مضامین تحریر کیے جن میں سے چیدہ یہاں درج کیے جارہے ہیں:
اقبالؒ، فیضؔ اور ہم – علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے فکری و ادبی مطالعے پر مبنی علمی تصنیف
کھول آنکھ زمیں دیکھ – بین الاقوامی سفرنامہ
انڈیا بہ چشمِ بینا – ہندوستان کے تاریخی و ثقافتی مشاہدات
امریکہ بار بار – امریکہ کے تعلیمی و معاشرتی پہلوؤں پر مبنی سفرنامہ
بالِ جبریل – ان کا انگریزی ترجمہ، اردو ادب میں اہم کارنامہ
100 سے زائد تحقیقی مضامین، بین الاقوامی جرائد میں شائع
میرا تعلق محترم ڈاکٹر محمد رفیق خان سے زمانہ طالب علمی سے ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ان سے اکتسابِ فیض حاصل کیا۔ 2017ء میں پاکستان میں ”دربرگِ لالہ و گل“ کی تقریب رونمائی میں اچانک ملاقات ہوئی، جس نے ماضی کی یادیں تازہ کر دیں۔ڈاکٹر رفیق خان فطرتاً نرم خو، لیکن میدانِ تحریر و تقریر کے شہسوار تھے۔ ان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آئے، مگر قلم و کتاب کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ ان کے سفرنامے اور کتب اردو ادب میں گراں بہا اضافہ ہیں۔ماہرِ تعلیم ہونے کے ناطے انہوں نے اپنے شاگردوں میں روشنی بکھیرنے اور تحقیق و تجسس کا جذبہ پیدا کیا۔ ڈاکٹر رفیق خان کا کلام نہ صرف علمی اور تحقیقی بلکہ شاعرانہ جذبات و مثبت اقدار کا بھی عکاس ہے۔2014ء میں Award of Excellence in Research کے حقدارقرار پائے۔
وہ ایک شاعر بھی تھے۔ان کے کلام میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی کیفیت، عشق و فکر کی گہرائی، آرزو و جستجو، تیرگی و روشنی، سب یکجا نظر آتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کو بھرپور اور سلیقے سے جیا اور اسے اپنی تحریر اور شاعری میں منتقل کیا۔ڈاکٹر محمد رفیق خان کی وفات سے علم و ادب کا ایک عظیم سرمایہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا، لیکن ان کی علمی وراثت، کتب، شاگرد اور فکری میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249291 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More