ابوالکلام محی الدین احمد آزاد

ابوالکلام محی الدین احمد آزاد

مولانا ابوالکلام آزادؒ کی شخصیت برصغیر کی فکری، ادبی اور سیاسی تاریخ میں ایک ہمہ گیر اور باوقار حوالہ ہے۔
11 نومبر 1888ء کو بمقام مکہ معظمہ، سلطنتِ عثمانیہ میں آنکھ کھولنے والے مولانا ابوالکلام آزاد نے کم عمری ہی میں علم و آگہی کے وہ چراغ روشن کیے جن کی لو آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ بھارت کے پہلے وزیرِ تعلیم مقرر ہوئے، اور ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں بھارت میں 11 نومبر کو قومی یومِ تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مولانا آزاد کی ذہانت اور وسعتِ مطالعہ کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ محض پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے ماہنامہ لسان الصدق جاری کیا۔ 1914ء میں الہلال کی اشاعت نے برصغیر کے فکری حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ جب یہ جریدہ بند ہوا تو انہوں نے البلاغ کے ذریعے اپنے فکری مشن کو جاری رکھا۔ ان رسائل میں شائع ہونے والے مضامین اسلامی فکر، سیاسی شعور اور قومی بیداری کا حسین امتزاج تھے۔

19 فروری 1914ء کو مولانا آزاد انجمن ہلالِ احمر قسطنطنیہ کے وفد کے ہمراہ لاہور تشریف لائے، جہاں ان کی ملاقات شاعرِ مشرق علامہ اقبال سے ہوئی۔ یہ ملاقات محض دو افراد کی نہیں بلکہ دو فکری دھاراؤں کا مکالمہ تھی۔ بعد ازاں جب مولانا آزاد رانچی میں نظر بند تھے اور اقبال کی مثنوی رموزِ بیخودی شائع ہوئی تو اقبال نے اس کا ایک نسخہ مولانا آزاد کو ارسال کیا۔ 28 اپریل 1918ء کو اقبال نے سید سلیمان ندوی کے نام اپنے ایک خط میں اس خوشی کا اظہار کیا کہ مولانا آزاد نے ان کی اس “ناچیز کوشش” کو پسند فرمایا ہے۔ یہ خطوط دونوں عظیم شخصیات کے باہمی احترام اور فکری ربط کی گواہی دیتے ہیں، اگرچہ ان کے درمیان خط و کتابت بہت کم رہی۔

سیاسی طور پر مولانا ابوالکلام آزاد کی وابستگی ہمیشہ انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ رہی۔ فکری اعتبار سے اگرچہ اقبال اور مولانا آزاد دونوں عظیم اسلام شناس تھے، مگر دین کی تفہیم و تعبیر میں ان کے راستے مختلف ہو گئے۔ اقبال نے اپنے سیاسی فکر و عمل میں ہندوستانیت سے اسلامیت کی جانب پیش قدمی کی، جبکہ مولانا آزاد نے اسلامیت سے ہندوستانیت کی جانب مراجعت کا راستہ اختیار کیا۔ نتیجتاً برصغیر کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے اقبال کی جدید دینی تعبیر کو قبول کیا اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔

اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مولانا آزاد کے مضامین—خصوصاً الہلال اور البلاغ میں شائع ہونے والی تحریریں—اور اقبال کی شاعری، دونوں میں اسلامی فکر کی گہرائی، اجتہادی شعور اور امت کے درد کی جھلک نمایاں ہے۔ اختلاف کے باوجود فکری مماثلتیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں شخصیات کا مقصد دین کی بالادستی اور انسان کی فلاح تھا، اگرچہ راستے جدا جدا تھے۔

22 فروری 1958ء کو نئی دہلی میں مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد کا انتقال ہوا، مگر ان کا فکری ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ علم و قلم کا ایسا استعارہ ہیں جن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فکر کی آزادی، علم کی جرات اور اختلاف کے باوجود وقار—یہی بڑے انسانوں کی پہچان ہوتی ہے۔ 
SALMA RANI
About the Author: SALMA RANI Read More Articles by SALMA RANI: 69 Articles with 42604 views I am SALMA RANI . I have a M.PHILL degree in the Urdu Language from the well-reputed university of Sargodha. you will be able to speak reading and .. View More