عالمی غیر یقینی صورت حال اور استحکام کی تلاش

عالمی غیر یقینی صورت حال اور استحکام کی تلاش
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

بین الاقوامی سیاست کے موجودہ دور میں غیر یقینی، طاقت کی کشمکش اور ضابطوں کی کمزوری ایسے عوامل بن چکے ہیں جو عالمی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت، یکطرفہ اقدامات اور علاقائی تنازعات نے عالمی استحکام کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں عالمی برادری کے لیے یہ بنیادی چیلنج بن چکا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی نظام کو کس طرح متوازن، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار بنایا جائے۔

اسی پس منظر میں جرمنی کے شہر میونخ میں منعقد ہونے والی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ہونے والی گفتگو کا مرکزی نکتہ بھی یہی تھا کہ تیزی سے نازک ہوتے عالمی نظام کو کس طرح سنبھالا جائے۔ کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی قواعد و ضوابط کو درپیش چیلنجز اور یکطرفہ طرزِ عمل کے بڑھتے رجحان نے بین الاقوامی نظم و نسق کو کمزور کر دیا ہے۔

کانفرنس کے موقع پر جاری ہونے والی 2026 کی سکیورٹی رپورٹ، جس کا عنوان" انڈر ڈسٹرکشن" رکھا گیا، میں دنیا کو ایسے دور سے گزرتا ہوا قرار دیا گیا جہاں طاقت کی سیاست اور ضابطوں کو توڑنے کے رجحانات نمایاں ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی نظام کے لیے عدم استحکام کے بڑھتے خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ متعدد مقررین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ روایتی اتحاد اور شراکت داریاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

اس تناظر میں جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے خبردار کیا کہ بحرِ اوقیانوس کے آر پار تعلقات کو اب ازخود مستحکم تصور نہیں کیا جا سکتا، جب کہ کانفرنس کے سربراہ وولف گانگ اِشنگر نے بھی اشارہ دیا کہ یورپ اور امریکہ کے تعلقات ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ بیانات اس وسیع تر بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں جو صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے۔

عالمی سطح پر طاقت کی سیاست اور بلاک بندی کے رجحانات میں اضافے نے امن اور خوشحالی کی بنیادوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں استحکام اور پیش گوئی کی صلاحیت کی عالمی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔

کانفرنس کے دوران منعقدہ"چائنا سیشن" میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے چار نکاتی ترجیحات پیش کیں، جن میں اقوامِ متحدہ کے نظام کی بحالی، کثیرالجہتی نظام کا تحفظ، تمام ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ، اور تنازعات کے خاتمے کے ذریعے امن کے قیام کو یقینی بنانا شامل تھا۔ اس مؤقف میں مسابقت یا اختلاف کی موجودگی سے انکار نہیں کیا گیا، تاہم تصادم کے بجائے مکالمے اور علیحدگی کے بجائے رابطے کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے نظام کو فعال بنانے کی تجویز اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، صحتِ عامہ، مالیاتی اتار چڑھاؤ اور دیگر عالمی مسائل کو محدود یا خصوصی اتحادوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح تنازعات کے خاتمے اور سیاسی حل کی حمایت کو بھی ایک مستقل رجحان کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں مختلف عالمی بحرانوں کے حوالے سے مذاکرات اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

کثیرالجہتی نظام پر زور دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ عالمی نظام کو درپیش مسائل اقوامِ متحدہ کے ادارے کی ساخت میں نہیں بلکہ بعض ممالک کے ایسے طرزِ عمل میں مضمر ہیں جو تقسیم کو بڑھاتے اور سرد جنگ جیسی ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں مشترکہ نکات کی تلاش اور اختلافات کے احترام کو پائیدار تعاون کی بنیاد قرار دیا گیا۔

اسی تناظر میں کنفیوشیائی فکر کے اس تصور کا حوالہ بھی دیا گیا کہ "ہم آہنگی یکسانیت کے بغیر بھی ممکن ہے"، یعنی بقائے باہمی کے لیے مکمل ہم آہنگی یا یکساں سوچ ضروری نہیں۔ یہ تصور ایک ایسے عملی فریم ورک کی نشاندہی کرتا ہے جس کے ذریعے اختلافات کو تصادم میں بدلے بغیر منظم کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ہونے والی گفتگو عالمی نظام میں دراڑوں اور بے یقینی کے بڑھتے احساس کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ماحول میں استحکام، مکالمہ اور کثیرالجہتی تعاون پر زور دینے والی آوازیں ایک ایسے لنگر کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی تعاون کو سمت اور پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کر سکے۔ عالمی سیاست کے اس نازک مرحلے میں یہی سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ آیا دنیا تقسیم کے راستے پر آگے بڑھے گی یا مکالمے اور تعاون کے ذریعے ایک متوازن اور پائیدار نظام کی تشکیل کی کوشش کرے گی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093561 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More