ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی کتاب ، میرے رہنما ،میرے ہم نوا طارق محمود مرزا۔ آسٹریلیا تقریباً ڈیڑھ دو برس قبل کی بات ہے کہ مجھے ترکی سے ایک ای میل موصول ہوئی۔ بھیجنے والے نے اپنا تعارف عمار فیصل پراچہ کے نام سے کرایا اور لکھا کہ وہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کے پوتے ہیں اور ان دنوں ترکی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ پاکستان کے حالیہ سفر کے دوران انہوں نے اپنے دادا ابو سے مطالعے کے لیے کسی اچھی کتاب کی فرمائش کی تو انہوں نے میرا سفرنامہ " ملکوں ملکوں دیکھا چاند"انھیں تھما دیا اور اس کی خصوصی تعریف کی۔ عمار نے لکھا کہ وہ کتاب اپنے ساتھ ترکی لے آئے، ابھی اسے مکمل کیا ہے، اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ خود میرے ہمراہ ان ملکوں کی سیاحت کر کے لوٹے ہوں۔ ان کے سادہ مگر پُرخلوص جملوں نے میرے دل میں مسرت کی ایک نرم لہر دوڑا دی۔ ایک نوجوان قاری کا یہ اعتراف کہ کتاب نے اسے اپنے ساتھ سفر پر آمادہ رکھا، کسی بھی قلم کار کے لیے سب سے بڑا انعام ہوتا ہے۔ لیکن اس ای میل کی اصل خوشی اس بات میں مضمر تھی کہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ جیسی ہمہ جہت اور باوقار شخصیت نے اپنی نئی نسل کو میری کتاب کے مطالعے کی ترغیب دی۔ یہ میرے لیے اعزاز بھی تھا اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ اس سے قبل بھی وہ دو مرتبہ لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد تشریف لائے اور میری کتابوں کی تقریبات میں شرکت فرما کر اپنی شفقت اور محبت کا اظہار کیا۔ ان کا یہ خلوص میرے لیے محض رسمی تعلق نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی شخصیت بیک وقت سادگی اور وقار کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ایک بلند پایہ مقرر، صاحبِ اسلوب ادیب، مدّبر سیاسی و مذہبی رہنما اور دلنشیں سفرنامہ نگار ہیں۔ ان کی گفتگو میں استدلال کی پختگی اور لہجے میں شائستگی کا ایسا سنگم ملتا ہے جو سامع کو متوجہ بھی رکھتا ہے اور مطمئن بھی۔ میں ان کی متعدد تصانیف پڑھ چکا ہوں، مگر حال ہی میں ان کی نئی کتاب " میرے رہنما میرے ہم نوا" کا مطالعہ میرے لیے ایک خاص تجربہ ثابت ہوا۔یہ کتاب پاکستان کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور صحافتی تاریخ کے اہم کرداروں پر مشتمل خاکوں کا ایک گراں قدر مجموعہ ہے۔ اس میں سو سے زائد شخصیات سے ملاقات و تعلقات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ قاری کو محض تعارف نہیں ملتا بلکہ ایک زندہ عہد کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان شخصیات میں سید ابو الاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، شاہ احمد نورانی،پیر کرم شاہ،امین حس اصلاحی،سید منور حسن اور سراج الحق جیسے مذہبی و سیاسی رہنما شامل ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان، مجیب الرحمن شامی، ضیا شاہد اور بے نظیر بھٹو جیسی قد آور شخصیات کا تذکرہ بھی کتاب کو ہمہ رنگ بنا دیتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کتاب میں صرف جماعت اسلامی سے وابستہ افراد ہی نہیں بلکہ مختلف سیاسی و فکری مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی نمایاں ہستیاں بھی شامل ہیں، جس سے مصنف کی وسعتِ نظر اور فکری توازن کا اندازہ ہوتا ہے۔ "میرے رہنما میرے ہم نوا" محض خاکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد نامہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان شخصیات کو صرف ایک سیاسی یا مذہبی شناخت کے حوالے سے پیش نہیں کیا بلکہ ان کے انسانی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شخصیت کے ساتھ اپنے تعلق اور مشاہدے کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری کو ایک اندرونی منظر دکھائی دینے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بھی ان ملاقاتوں کا حصہ ہوں، ان محفلوں میں موجود ہوں اور ان تاریخی لمحوں کے گواہ بن رہے ہوں۔ ان تحریروں میں ایک خاص قسم کی محبت اور احترام کی خوشبو رچی بسی ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے یہ خاکے محض قلم کی سیاہی سے نہیں بلکہ دل کی روشنائی سے رقم کیے ہیں۔ الفاظ موتیوں کی طرح جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ کہیں عقیدت ہے، کہیں رفاقت کا رنگ، کہیں اختلاف کے باوجود احترام کا جذبہ۔ یہی توازن ان کی شخصیت کا بھی وصف ہے۔ وہ اپنے فکری مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی دوسروں کے لیے دل میں وسعت رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں کئی مقامات پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے مخالفین کو بھی عزت اور شائستگی کے ساتھ یاد کیا ہے۔ کتاب کا ایک اور دلنشیں پہلو ان کا خاندانی پس منظر اور بالخصوص والدِ گرامی مولانا گلزار احمد مظاہری کے اوصاف اور خدمات کا ذکر ہے۔ اس حصے میں عقیدت اور فخر کی ایک نرم چمک دکھائی دیتی ہے جو تحریر کو مزید مؤثر بنا دیتی ہے۔ یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ایک فرد کی شخصیت محض اس کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر، تربیت اور خاندانی روایت کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بچپن سے لے کر آج تک تحریکی، مذہبی اور سیاسی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس طویل سفر میں انہوں نے عزت اور وقار ہی سمیٹا۔ یہ احترام صرف ان کے ہم خیال حلقوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے ناقدین بھی ان کی شرافتِ کردار اور متانت کے معترف ہیں۔ بڑے ہوں یا چھوٹے، سب کے ساتھ ان کا محبت آمیز برتاؤ ان کی انسان دوستی اور ادب نوازی کا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک باوقار ادبی اور فکری شخصیت کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔ اس کتاب کو قلم فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے جس کے روحِ رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔ اشاعتی معیار اور پیشکش کے اعتبار سے بھی یہ کتاب ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ مجموعی طور پر "میرے رہنما میرے ہم نوا" پاکستان کی فکری و سیاسی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ محض واقعات کا سلسلہ نہیں بلکہ انسانوں کی جدوجہد، رشتوں اور احساسات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جب کوئی صاحبِ دل شخص اسے قلم بند کرتا ہے تو وہ خشک معلومات کے بجائے زندہ تصویریں بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنی اس تصنیف میں یہی کام کیا ہے۔ میں اس گراں قدر کتاب کی تخلیق پر انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ مزید علمی و ادبی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ ایسے لوگ اور ایسی کتابیں قوموں کے حافظے کو روشن رکھتی ہیں اور نئی نسل کو اپنے فکری ورثے سے جوڑے رکھتی ہیں۔
|