خاموشی بھی ایک شعور ہے

خاموشی بھی ایک شعور ہے

خاموشی بھی ایک شعور ہے
علی عباس کاظمی ، چکوال

مشرق وسطیٰ کی حالہ کشد گی خصوصاً ایران اور خلیر خطے کے درماان بڑھتی ہوئی جنگی جھڑپوں کے تناظر مںک عرب ممالک مںی مقمے پردییت ایا ئی باشندوں کی ذمہ داری پہلے سے کہںر زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ہم مںا سے اکثریت بہتر روزگار، محفوظ مستقبل اور اپنے خاندان کی خوشحالی کے خواب لے کر ان ممالک کا رخ کرتی ہے۔ برسوں کی محنت، قربانازں اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کے بعد ہمںت جو استحکام ملتا ہے، وہ کسی ایک غرہ ذمہ دارانہ عمل سے خطرے مںا پڑ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل مڈنیا کے بے احتا ط استعمال نے اس خطرے کو اور بڑھا دیا ہے۔

آج کے دور مںم خبر چند لمحوں مں سرحدیں عبور کر لی ا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک تصویر یا ایک جذباتی جملہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہںخ کہ معلومات پھل۔ رہی ہںن، مسئلہ یہ ہے کہ ان مں سے کتنی معلومات درست ہںت۔ جنگی حالات مںا افواہں بارود سے زیادہ تزلی سے پھیتہ ہں ۔ پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ دیا جاتا ہے، کسی دوسرے ملک کے مناظر کو مقامی حالات کا رنگ دے دیا جاتا ہے اور جذباتی کپشن لگا کر اسے سچ کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ ہم جذبات مںک آ کر اسے آگے بڑھا دیتے ہںن یہ سوچے بغری کہ اس کے نتائج کات ہوں گے۔

کسی بھی ملک مںب رہتے ہوئے وہاں کے قواننب کا احترام بناطدی ذمہ داری ہے۔ خلیاک ممالک مں سوشل مڈایا سے متعلق قواننر خاصے سخت ہںا۔ غلط معلومات پھلا نا، خوف و ہراس پدوا کرنا یاحکومتی معاملات پر غرو ذمہ دارانہ تبصرہ کرنا قانونی پدتا گوںں کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک لمحے کی جذباتی پوسٹ برسوں کی محنت کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ ہمںا یاد رکھنا چاہےس کہ ہم مہمان ہیںاور مہمان کا وقار اس کی احتاوط اور قانون پسندی مںح ہوتا ہے۔

گزشتہ برسوں مں متحدہ عرب امارات مںے ہونے والی سلامبی تباہ کاریوں کے دوران یہ منظر واضح طور پر سامنے آیا۔ شدید بارشوں اور سلاحب کی اصل صورتحال اپنی جگہ موجود تھی مگر سوشل مڈمیا پر جس انداز سے ویڈیوز پھلایئی گئںا اس نے حققتپ سے زیادہ خوف پد ا کاس۔ کئی پرانی ویڈیوز، جو دوسرے ممالک یا ماضی کے واقعات سے تعلق رکھتی تھںل موجودہ حالات کے ساتھ جوڑ کر شئرا کی گئںا۔ بعض لوگوں نے سنسنی خزش کپشن لگا کر انہںے وائرل کاا جس سے نہ صرف مقامی سطح پر بے چیھت بڑھی بلکہ برحون ملک رہنے والے خاندانوں مںر بھی اضطراب پھلن گاش۔ والدین اپنے بچوں کے لےئ، بچے اپنے والدین کے لےط پریشان رہے۔ فون کالز کا نہ رکنے والا سلسلہ، سوشل مڈ یا پر بے ییظر کی فضا اور ہر طرف سوال ہی سوال۔

بعد مںس یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ افراد نے جان بوجھ کر گمراہ کن مواد شئرل کاا جبکہ کچھ نے بغرر تحققک کے آگے بڑھا دیا۔ نتجہا یہ نکلا کہ بعض لوگوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ہمارے لے واضح سبق ہے کہ سوشل مڈشیا پر ایک غرچ ذمہ دارانہ قدم صرف وقتی توجہ تو حاصل کر سکتا ہے مگر اس کی قمتر بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ ایک جھوٹی خبر ہزاروں لوگوں کے ذہنی سکون کو متاثر کر سکتی ہے اور خود ہمارے مستقبل کو بھی خطرے مںہ ڈال سکتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف جنگ یا قدرتی آفات تک محدود نہں۔۔ روزمرہ زندگی مںر بھی ہم اسی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہںم۔ کبھی پغاہم آتا ہے کہ آپ نے اٹھارہ ہزار روپے جتر لےت، کبھی کسی قرعہ اندازی مںر لپی ٹاپ نکلنے کی خوشخبری دی جاتی ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ ایک لنک پر کلک کرتے ہی انعام آپ کے گھر پہنچ جائے گا۔ مفت کے لالچ مں، لوگ اپنی ذاتی معلومات، تفصلاےت اور بنکی اکاؤنٹ کی معلومات تک شئرہ کر دیتے ہںو۔ چند لمحوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ رقم غائب ہو چکی ہے یا اکاؤنٹ ہک۔ ہو گاع ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نقصان اٹھانے کے باوجود ہم وہی پغادم دوسروں کو بھی بھج دیتے ہں گویا ہم نے کوئی خاموش نی ا کر دی ہو۔

یہ رویہ کوکں پد ا ہوا؟ شاید اس لےا کہ ہم ہر پغاکم کو فوری طور پر اہم سمجھ لتےہ ہںم۔ ہمںں لگتا ہے کہ اگر ہم نے آگے نہ بڑھایا تو کوئی بڑا موقع ضائع ہو جائے گا یا کوئی اہم خبر ہم تک محدود رہ جائے گی۔ مگر حققت یہ ہے کہ مستند خبر کو پھلنے کے لےن ہمارے فارورڈ کی ضرورت نہںے ہوتی۔ معتبر ذرائع اسے خود نشر کرتے ہںہ۔ ہمں ہر اس چزر سے محتاط رہنا چاہے جو جذبات کو بھڑکائے، فوری ردعمل کا مطالبہ کرے یا ذاتی معلومات طلب کرے۔

ایک ذمہ دار شہری وہ نہںر جو ہر معاملے پر تبصرہ کرے بلکہ وہ ہے جو خاموشی کی اہمتک کو سمجھے۔ خاص طور پر جنگی کشدڈگی یا سارسی تناؤ کے دوران ہمںک کسی بھی رییل، احتجاج، جھگڑے یا بھگدڑ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہےی۔ ایسے مواقع پر ہجوم کا حصہ بننا نہ صرف جان کے لے خطرناک ہو سکتا ہے بلکہ قانونی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ہماری اولنی ترجح اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت ہونی چاہے ۔

ہمںو یہ بھی سوچنا چاہےا کہ ہمارے ایک کلک کا اثر کہاں تک جا سکتا ہے۔ ایک غرا مصدقہ ویڈیو کسی کاروبار کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کسی خاندان کو خوفزدہ کر سکتی ہے یا کسی کمو نٹی کے خلاف نفرت کو ہوا دے سکتی ہے۔ سوشل مڈنیا ایک طاقت ہے۔۔۔ مگر یہ طاقت ذمہ داری کے بغر نقصان دہ ثابت ہو سکیک ہے۔ اگر ہمںا کوئی پغایم ملتا ہے تو سب سے پہلے خود سے سوال کریںکہ کاا یہ مستند ذریعہ سے ہے، کاا اس کی تاریخ اور مقام واضح ہے، کاہ اس مںہ مبالغہ تو نہیںاور کاچ اسے شئری کرنے سے کسی کو نقصان تو نہں پہنچے گا۔

عرب ممالک مںم مقما پردیوگڑں کے لےر ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی شناخت صرف ذاتی نہںف بلکہ اجتماعی بھی ہوتی ہے۔ ایک فرد کی غلطی پوری کمومنٹی کے بارے مںم تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لےر ہمںل اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنا چاہےا کہ ہم قانون پسند، پرامن اور ذمہ دار لوگ ہں ۔ ییو رویہ ہمںا عزت بھی دلاتا ہے اور تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔

سوشل مڈٹیا کو معلومات کا ذریعہ سمجھںل۔۔۔ ہتھایر نہںہ۔ ہر پغا م کو قومی یا مذہبی فرض سمجھ کر آگے نہ بڑھائںر۔ کبھی کبھی خاموش رہنا سب سے بڑا شعور ہوتا ہے۔ ہم یہاں محنت کرنے آئے ہںا، اپنے مستقبل کو سنوارنے آئے ہںی نہ کہ وقتی جذبات کی رو مںن بہہ کر اپنی محنت کو خطرے مںک ڈالنے۔

اگر ہم نے احتااط، تحققے اور قانون پسندی کو اپنا اصول بنا لاے تو نہ صرف خود محفوظ رہںم گے بلکہ اپنے خاندان اور کموہنٹی کو بھی غرر ضروری پریشانی سے بچا سکںت گے۔ ییے وقت کا تقاضا ہے اور یین ایک باشعور، مہذب اور ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔
 
Ali Abbas Kazmi
About the Author: Ali Abbas Kazmi Read More Articles by Ali Abbas Kazmi: 22 Articles with 5657 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.