ڈاکٹر نذیر قیصرؒ

ڈاکٹر نذیر قیصرؒ برصغیر کے اُن معدودے چند اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلسفہ، نفسیات، تعلیم اور اقبالیات کو ایک ہمہ گیر فکری وحدت میں سمو دیا۔
30 اکتوبر 1922ء کو ایمن آباد، ضلع گوجرانوالہ (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نذیر قیصر نے اپنی علمی زندگی کا ہر لمحہ فکرِ اقبال کی تفہیم، تعبیر اور عصری معنویت کے لیے وقف کر دیا۔

بطور ماہرِ فلسفہ، ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات اور ممتاز ماہرِ اقبالیات، ان کی شناخت محض ایک محقق کی نہیں بلکہ ایک فکری معمار کی تھی۔ علامہ اقبال کے صد سالہ جشنِ پیدائش کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی اقبال کانگریس میں ان کا پیش کردہ تحقیقی مقالہ—جس میں علامہ محمد اقبال کو بطور ماہرِ نفسیات متعارف کرایا گیا—اقبالیات میں ایک منفرد اور جرات مندانہ زاویۂ نظر کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس مقالے نے اقبال کو محض شاعر یا فلسفی نہیں بلکہ ایک Philosophical Psychotherapist کے طور پر پیش کر کے اقبالی فکر کی نئی جہات وا کیں۔

1983ء میں ڈاکٹر نذیر قیصر نے اقبال فورم انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی، جو اقبالی مطالعات کے فروغ اور عالمی سطح پر فکری مکالمے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ انہوں نے زیادہ تر کتب انگریزی زبان میں تحریر کیں، جن میں Rumi’s Impact on Iqbal’s Religious Thought, A Critique of Western Psychology and Psychotherapy and Iqbal’s Approach, Iqbal Today, Iqbal: A Philosophical Psychotherapist and Beyond, Iqbal and Western Philosophers, Creative Dimensions of Iqbal’s Thought, Realization of Iqbal’s Educational Philosophy in Montessori System اور فکرِ اقبال کے تحقیقی پہلو شامل ہیں۔ یہ تصانیف اس بات کی شاہد ہیں کہ ڈاکٹر نذیر قیصر نے مغربی نفسیات اور فلسفے کو اقبالی فکر کی کسوٹی پر پرکھنے کی ایک منظم روایت قائم کی۔

ان کی علمی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی چار کتب کا فارسی ترجمہ ایرانی عالم ڈاکٹر بقائی ماکان نے کیا، جو ایران سے معنای زندگی از نگاہِ مولانا و اقبال، اقبال و شش فیلسوفِ غربی، نقدِ روان شناسی و روان درمانیِ غرب از نگاہِ اقبال اور بالندگی شخصیتِ کودک از نگاہِ اقبال لاہوری و مونتہ سوری کے ناموں سے شائع ہوئیں۔ مزید برآں، ان کے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالے کے فارسی ترجمے کو 2004ء میں ایران میں Season Book Award سے نوازا گیا، جبکہ یہی مقالہ بھارت سے بھی شائع ہوا—جو ان کی علمی قبولیت کی بین الاقوامی سند ہے۔

راقم الحروف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر نذیر قیصر بطور اقبال شناس کے عنوان سے ایم فل اقبالیات کے لیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ اسی علمی ربط کی توسیع کے طور پر 2025ء میں راقم الحروف کی مرتب کردہ کتاب Dr. Nazir Qaiser’s Reflections on Iqbal’s Thought اقبال اکادمی پاکستان، لاہور سے شائع ہوئی، جو ڈاکٹر نذیر قیصر کی فکری خدمات کا معتبر دستاویز ہے۔

علم و فکر کے اعتراف کے طور پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ، لاہور میں ان کے نام سے ایک کتب خانہ قائم کیا گیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ان کے علمی ورثے کا زندہ استعارہ ہے۔

24 فروری 2013ء کو لاہور، پاکستان میں ڈاکٹر نذیر قیصر اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے اور جی بلاک، گلبرگ، لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تحریریں، افکار اور اقبالی تعبیرات آج بھی زندہ ہیں—اور یہ گواہی دیتی ہیں کہ ڈاکٹر نذیر قیصرؒ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ 
SALMA RANI
About the Author: SALMA RANI Read More Articles by SALMA RANI: 69 Articles with 42638 views I am SALMA RANI . I have a M.PHILL degree in the Urdu Language from the well-reputed university of Sargodha. you will be able to speak reading and .. View More