شبیر علی اورسفر نامہ یورپ و ہسپانیہ:ایک طائرانہ تجزیہ

شبیر علی کے سفر نامے بعنوان’’ماضی کے دریچے:سفر نامہ مسلم اندلس‘‘کاایک طائرانہ تجزیہ


شبیر علی کے سفر نامے بعنوان’’ماضی کے دریچے:سفر نامہ مسلم اندلس‘‘کاایک طائرانہ تجزیہ
تحریر:ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
محترم شبیر علی صاحب کا سفر نامہ ’’ماضی کے دریچے‘‘ شائع ہو کر منصۂ شہود پر آچکا ہے۔ آج کی ڈاک سے اس سفرنامے کی دو عدد کاپیاں موصول ہوئیں تو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ سفر نامے کی تحریر اور اس کے اشاعتی ڈیزائن نے بے حد متاثر کیا چنانچہ اس سفر نامے پر لکھاگیاتبصرہ نذرِ قارئین ہے۔
چند سال قبل جناب رانا شاہد جاوید صاحب نے میلبورن میں سالانہ ادبی تقریب کا اہتمام کیا جس میں دو تین کتابوں کی رونمائی بھی شامل تھی اور مجھے مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ چنانچہ شبیر علی صاحب سے میری پہلی ملاقات اسی تقریب میں ہوئی تھی جب ان کے پہلے سفر نامے زیارات مقامات ِ مقدسہ کی رونمائی کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ گزشتہ دنوں شبیر علی صاحب کا ٹیکسٹ میسج آیا کہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی فرصت میں جواب دیا کہ جناب خوش آمدید اور مختصرسی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ موصوف نے ایک اور سفر نامہ مرتب کر لیا ہے اور مجھے اس پر اظہارِ رائے کرنا ہے۔ باوجود مصروفیات کے میں نے ان سے مسودہ ارسال کرنے کو کہا۔ انہوں اگلے ہی دن مسودہ کا پی ڈی ایف ای میل کردیا۔ پہلے چند صفحات پر نظر گردانی سے ہی اندازہ ہو گیا کہ سفر نامے میں ایسا کچھ موجود ہے کہ اسے اول تا آخر غور سے پڑھا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس سفر نامے نے مجھے اسے پڑھنے پر مجبور کردیا۔ اس کی ایک وجہ میری ہسپانیہ کی تاریخ سے دلچسپی بھی ہے۔ طارق بن زیاد سے پہلے کا ہسپانیہ اور طارق بن زیاد کے بعد ہسپانیہ تو شاید قدرے مشترک رکھتا ہو؛لیکن صدیوں پر محیط مسلمانوں کے ہسپانیہ کی نظیر دور دور تک نہیں ملتی۔ کاش! مسلمان طواف الملوکی کا شکا نہ ہوتے تو آج بھی الحمرا سے آذان کی آوازیں گونج رہی ہوتیں۔شبیر علی صاحب کے سفر نامے کا عنوان ”ماضی کے دریچے “ پرکشش اور نہایت جاندار ہے۔ اسی طرح اس سفر نامے کا موضوع بھی تاریخی اور سبق آموزہے۔
”ماضی کے دریچے“کے مصنف شبیر علی صاحب کا تعلق شہر قائد سے ہے۔یہیں سے 1979ء میں کراچی یونیورسٹی سے Logisticsمیں ایم۔اے۔ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور کیپٹن کی حیثیت میں آرمی کو خیر آباد کہہ کر فارماسیوٹیکل کمپنی میں بطورمینیجرخدمات انجام دیں۔آرمی میں خدمات سرانجام دینے کی بدولت ان کی زندگی میں نظم و ضبط جزولاینیفک بن گیا۔بعد ازاں نیوزی لینڈ چلے آئے اور یہاں سے ایم۔بی۔اے کی ڈگری حاصل کی، پھر آسٹریلیا آگئے۔آج کل میلبورن میں بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھارہے ہیں۔
ملکوں ملکوں پھرنے کے شوق نے انہیں سفر نامے کی صنف سے گویا متعارف کرادیا اور ان کے سیاحتی مشاہدات و تجربات اوراقِ تاریخ و ادب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔بایں ہمہ شبیر علی کے سفر نامے پر تو اس اظہاریے میں بات ہو گی ہی؛ لیکن اس سے پہلے سفرنامے کی ابتدا پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ازحد ضروری معلوم ہوتاہے۔ بس اتنا اشارہ ہی کافی ہے کہ اردو میں سفر نامے کی تاریخ اردو کی تاریخ کی طرح مختصر ضرور ہے؛لیکن اردو میں بہترین سفر ناموں کی روایت اپنا ایک مقام رکھتی ہے نیز”سفر نامے کا جو سفر یوسف کمبل پوش کے ’عجائب ِ فرنگ‘ سے شروع ہو اوہ مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں میں عروج پر نظر آیا تاہم معدوم نہیں ہوا اور ان کے بعد سفر نامے کی روایت برقرار رکھنے والے سفر نامہ نگاروں کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے جنہوں نے تارڑ کے تتبع میں کئی سفر نامے لکھے۔ ان میں سے کچھ تو محض کاغذی حد تک رہے اور بہت سے شہرت کے زیور سے بھی آراستہ ہوئے۔برِصغیر پاک و ہند کے سفرنامہ نگاروں میں ہند یاترا۔ ممتاز مفتی،دیکھا ہندوستان۔ حسن رضوی، دلی دور ہے۔ قمر علی عباسی، سفرنامہ مقبوضہ ہندوستان۔ سید انیس شاہ جیلانی، اے آب رود گنگا۔ رفیق ڈوگر، دلی دور است۔ عطاء الحق قاسمی، سفرنامہ ہند - پروفیسر محمد اسلم، لاہور سے اجمیر تک - رفعت سروش فیصل، امریکہ بار بار- پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان، جرنیلی سڑک - رضا علی عابدی، سفر بذریعہ دوستی بس - جسٹس خواجہ محمد شریف، تاج محل سے زیرو پوائنٹ - چودھری محمد ابراہیم، سات دن - امجد اسلام امجد،دلی دور نہیں - انور سدید، دنیا رنگ رنگیلی -طارق مرزا، اورناکا گاوا کے سفر نامے اہم ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ سفر نامہ لکھا کم اور سنایا زیادہ جاتا تھا۔ پشاور کا قدیم اور تاریخی قصہ خوانی بازار اس کی بہترین مثال ہے جہاں وسط ایشیاء سے آنے والے مسافراور تاجر شام ڈھلے اپنے سفر کی روداد، مشاہدات وتجربات سنایا کرتے تھے۔یوں یہ سفر نامے سینہ بہ سینہ اورنسل در نسل منتقل ہوتے رہتے تھے۔ان سفر ناموں کی مدد سے علاقائی معاشرت اور تہذیب کے ساتھ ساتھ تاریخی واقعات کا بھی علم حاصل ہو تاتھا۔”سفر نامہ”ایک مہماتی اندازِ تحریر ہے جس میں، معاشرت، فطرت اورسیاست نیز سفری مصائب اور تکالیف کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں چودھویں صدی کے معروف سیاح ابن بطوطہ کا سفر نامہ،جس کا اردو اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، میں پاک وہند کے تمدن، معاشرت، سیاست اوربود باش کی عکاسی بڑی باریک بینی سے کی گئی ہے۔ اسی طرح بہت سے سفر نامے ایسے ہیں جن میں یورپ، امریکہ اور ایشیا کے کئی ممالک کی سیاحت کرنے والوں نے اسے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا کہ اردو سفر نامے کا آغاز یوسف کمبل پوش سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ہر سیاح اپنی سیاحت کے تجربات و مشاہدات اور تاثرات کو اپنے اپنے پیرائے اور اپنے اپنے انداز سے بیان کر تا ہے۔چنانچہ میں جس سفرنامے پر قلم اٹھانے جارہاہوں، اس سفر نامہ نگار کا مختصر سا سوانحی و تعلیمی تعارف سطورِ بالا میں گزر چکا ہے۔
شبیر احمد کا پہلا سفر نامہ”زیارات۔۔۔“ 2008ء میں شائع ہوا اور جیسا ازیں قبل بیان ہو چکا کہ اس کی رونمائی میرے ہاتھوں ہوئی تھی۔اب وہ یورپ اور ہسپانیہ میں گزارے لمحات کو قلم بند کرکے”ماضی کے دریچے“ کے عنوان سے نذرِ قارئین کر رہے ہیں۔
شبیر احمدکی یہ تصنیف تین سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔فہرس کے بعد پیشِ لفظ میں انہوں نے اپنی اس تصنیف کے بارے لکھا ہے کہ”اندلس کے اس سفر نامے میں کوئی خاص بات نہیں ہے بجز تاریخی تفصیلات کے جس نے جذباتیت اور حساسیت کو ایک منفرد رنگ عطا کیا ہے۔یہ تحریر اس سفر کی خوبصورت یادوں، احساسات اور اس وقت کے حکمرانوں کی کارکردگی کا قرطاس ابیض بھی ہے“۔
”ماضی کے دریچے“کا پہلا ذیلی عنوان”میری ڈائیری کا ایک ورق: بیاد رہبر اسلام“ ہے جس میں مصنف نے اپنے ایک دیرینہ دوست کے ساتھ کراچی یونیورسٹی اور پھر لندن میں گزاری سرد شاموں کاتذکرہ دلکش اور دلگیر پیرائے میں کیا ہے۔لکھتے ہیں ”جامعہ کی زندگی کے یہ خوشگواراور سہانے دن اس طرح اڑ گئے جیسے پرندوں کے بچے پر نکلنے کے ساتھ ہی گھونسلا چھوڑ کر انجانی منزلوں کی جانب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اڑ جاتے ہیں“۔شبیر علی کا یہ سفر نامہ کہیں کہیں افسانے کا روپ دھار نے لگتا ہے تو ان کی پروازِ فکر انہیں یہ کہنے پر مجبور کر دیتی ہے:

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا
اس عنوان کے تحت مصنف نے نہایت کامیابی سے اپنے دوست کے خد وخال اور پھر اس کی ملک ِ عدم روانگی کو موضوع بناتے ہوئے بھرپور جذباتی عکاسی کی ہے۔اور جب مصنف کو دوست کی یاد آتی ہے تو فیض احمد فیض ؔ کے اشعار کا بہت خوب استعمال کرتا ہے۔
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویارانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
دوست کی یادوں کا یہ سفر لندن میں مزید جاری رہتا ہے اور مصنف دوست کی لحد پر فاتحہ پڑھنے کے بعد کچھ وقت رہبر کے بیوی بچوں کے ساتھ گزار کر ”ہسپانیہ براستہ پیرس“ اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔سفر نامے کا اگلا عنوان ”ماضی کے دریچے: ہسپانیہ“ رکھا گیا ہے اور مصنف نے اپنے اس سفر نامے کا انتخابِ عنوان یہیں سے کیا ہے۔ریل گاڑی کے سفر کو بھی نہایت دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح ٹرین تین سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرتی ہوئی پہلے بار سلونا اور پھر دوسری ٹرین میڈرڈ پہنچی۔”میڈرڈ“ کے ذیلی عنوان کے تحت جہاں اس شہر کی رونقوں کو اجاگر کیا ہے وہاں تاریخ کے اوراق سے مسلمان شہداء کی داستانیں بھی رقم کی ہیں۔”میڈرڈ“ سے ”قُرطبہ“ کی طرف روانگی بھی مصنف نے ایک پیرائے میں بیان کی ہے؛لیکن جب مصنف دریائے کبیر کے کناروں پر گیا تو اسے حکیم الامت علامہ اقبال ؒکی یاد بھی آگئی اور ان کا قلم لکھنے پر مجبور ہوگیا:
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہاہے کسی اور زمانے کا خواب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرہئ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگمیری نواؤں کی تاب
ایک اور خاص بات جو یہاں قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ مصنف نے”قدیم قرطبہ“ کا ذکر بڑے دلگیر انداز سے بیان کرتے ہوئے اس شہر کی تاریخ بھی نذرِ قارئین کی ہے جو یقیناقاری کی دلچسپی کا باعث ہے۔شبیر علی صاحب لکھتے ہیں:”قرطبہ کے قدیم شہر کی گلیوں میں گھومتے رہے۔ یہ شہر اب بھی ایسا ہی ہے جیسے صدیوں قبل۔۔۔قوموں کے زوال اوران کی تباہی میں ان کے ماضی اور مستقبل کی صدیاں بھی برباد ہوجاتی ہیں۔ میں انہی لٹی ہوئی صدیوں میں مسلم اندلس کی یادوں کو تلاش کر رہاتھا، جو قرطبہ کے طول وعرض میں بکھری پڑی ہیں “۔
گویامصنف سفر کی جزئیات کو کل کا جزو بنانے کے فن سے واقف ہیں، چنانچہ بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ ان کے اپنے تاثرات ِ سفر ہیں جنہیں انہوں کمال فنکاری سے قارئین کے لیے قرطاسِ ابیض پر بکھیر دیا ہے۔ میرے تین دہائیوں کے ادبی سفر میں میری نظر سے کئی سفر نامے گزرے ہیں اور اگرچہ میں پچھلے صفحات میں لکھ آیا ہوں کہ ”سفر نامے کا جو سفر یوسف کمبل پوش کے ’عجائب ِ فرنگ‘ سے شروع ہو اوہ مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں میں عروج پر نظر آتا ہے“ لیکن شبیر علی کے سفرنامے کو پڑھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا سفر نامہ بھی دوسرے معروف سفرناموں سے کچھ کم نہیں۔
مصنف نے قرطبہ کے قدیم شہر اور مسجد قرطبہ کا ذکر جس طرح کیا ہے، قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مصنف کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو اور ایک کا میاب سفر نامہ نگار کے لیے یہ شرط اولین مانی جاتی ہے کہ اس کے قلم میں اتنا زورِ بیان ہو کہ وہ قاری کو اپنے سفر میں اپنا ہمسفر بنالے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس پہلے حصے کو پڑھ کر اتنا کہہ دینا میرا استحقاق ہے کہ شبیرعلی کے اس سفر کے دوران چونکہ ان کی اہلیہ ان کے ہمراہ تھیں اس لیے انہوں نے قاری کو متوجہ کرنے کے لیے فرضی اور غیر ضروری واقعات کو درج کرنے سے اجتناب کیا ہے اور یہی ان کی بڑی خوبی ہے جو دورِ حاضر کے ادیبوں سے انہیں اس صنف میں ممتاز کرتی ہے۔شبیر علی اپنے قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں، اس کی زبان رواں اور سلیس ہے، انداز بیاں دل نشیں اور جاذب نظر ہے،واقعات میں زیب داستان کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔نیز شبیر علی نے جہاں دیگر جزئیات کو کل کا حصہ بنایا ہے وہاں منظر نگاری بھی کسی حد تک ان کے قلم کی مرہونِ منت ہے۔ مثلاًانہوں نے مسجد قرطبہ کی خوبصورتی اور ان کے ذہن پر اس کے مرتبہ اثرات ایک منظر جس طر ح رقم کیا ہے وہ ملاحظہ کیجیے:”مسجد کی ذہن کو ماؤف کردینے والی حد تک خوب صورتی کے دھارے کی لہروں نے میرے وجود کو اچھال دیا تھا۔مسجد کے سوگوار حسن نے میرے جسم پر میرا ذہنی اختیار چھین کر مجھے اپنے جمال کی رعنائیوں کے سمندر میں غرق کر دیا تھا۔ دعاگو ہوں ربِ کریم میرے اشکوں کی عبادت کو قبول کر لے“۔
گویامنظر نگاری اور مکالمہ نگاری کے ساتھ ساتھ مصنف نے کمال مہارت سے تاریخی حقائق و واقعات کو بھی جمع کر دیا ہے جس سے اس سفر نامے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے میڈرڈ، بار سلونا اور قرطبہ کے گرد و نواح کی کہانی دلکش پیرائے میں بیان کی ہے۔مثلاً ”ابن رشد سے ملاقات“ ایک انوکھا ذیلی عنوان ہے جس کے تحت مصنف نے ابن رشد کے مجسمے کا جادوئی منظر پیش کیا ہے۔پھر مدینہ الزہرا کی داستان ِ آشوب محی الدین ابن عربی کے اشعار کے اردو ترجمہ سے بیان کی ہے۔”مسلم اندلس کے عظیم لوگ“ کے تحت مصنف نے ولید بن عبدالملک، علامہ قرطبی، ابن حزم، ابوالقاسم الزاہروی، ابن زیدون، زریاب، اورعباس ابن فرناس کے بارے تاریخی معلومات جمع کرکے قاری کی دلچسپی کا سامان مہیا کیا ہے۔ قاری ان عظیم لوگوں کی سوانح اور کارہائے نمایاں پڑھتے ہوئے ایک طلسماتی ماحول میں کھو جاتا ہے جو یقنا ً مصنف کی کامیابی کا ثبوت ہے۔پھر مصنف نے جس طرح الحمرا اور غرناطہ کی تصویر کشی کی ہے وہ بے نظیر ہے اور اشعار کا بر ملا اور موقع و محل کے مطابق لایا جانا بھی مصنف کا کمال ہے۔ الغرض ”ماضی کے دریچے“میں شبیر علی نے ثقافت، تاریخ اور معاشرت کو کچھ یوں یکجا کر دیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں۔ اس سفرنامے میں ادبی رنگ بھی نظر آتا ہے اور سلاست بھی۔ میں انہیں ایک کامیاب سفر نامہ تصنیف کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور قارئین سے کہوں گا کہ اگر وہ ہسپانیہ کے گلی کوچوں، تاریخی وتہذیبی اور صحت افزا مقامات کے بارے جاننا چاہتے ہوں تو اسے ضرور پڑھیے کیونکہ یہ سفر نامہ سپین کی ماضی کی تصویر بھی ہے اور حال کا منظر نامہ بھی۔ میری دعا ہے کہ اللہ مصنف کو ایسے اور سفر نامے لکھنے کی تو فیق عطا فرمائے، آمین!

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249332 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More