مشرقِ وسطیٰ آگ کے گھیرے میں
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
مشرقِ وسطیٰ آگ کے گھیرے میں حسیب اعجاز عاشرؔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے آتش کدے کا منظر میں ڈھل رہا ہے جہاں طاقت او ر سیاست کے لاوے مدتوں سے پک رہے تھے اور اب شعلوں کی صورت آسمان سے ہم کلام ہونے کو ہیں۔ ایک طرف اسرائیل اپنی عسکری برتری اور سفارتی پشت پناہی کے سہارے خطے میں اپنی مرضی کی بساط بچھانے پر مُصر ہے، تو دوسری جانب ایران اپنے نظریاتی وقار، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی بیانیے کو سینے سے لگائے کھڑا ہے۔ ان دونوں کے بیچ بڑھتی ہوئی حدّت نے فضا کو اس قدر مکدّر کر دیا ہے کہ ہر سانس میں بارود کی باس محسوس ہوتی ہے۔ پس منظر میں امریکہ اپنے وقار کو بچانے کی فکر میں اسرائیل کی پشت پر دستِ شفقت رکھے ہوئے ہے، جبکہ مشرق کی سمت چین اور روس خاموشی سے شطرنج کی بساط پر مہروں کی ترتیب بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اِسے دو ریاستوں کا نزاع نہیں کہا جا سکتا؛ یہ طاقت، وقار، معیشت اور نظریے کی وہ کشمکش ہے جس کے اثرات سمندروں اور براعظموں کی حدوں سے ماورا ہو سکتے ہیں۔ اگر چین اور روس اپنے مفادات اور عالمی توازن کی نئی تعبیر کے تحت ایران کی اعانت میں کھل کر میدان میں اتر آتے ہیں،کوئی روایتی بیانات کی حد تک نہیں بلکہ عسکری ساز و سامان، اقتصادی سہارا اور سفارتی حصار کے ساتھ،تو دنیا ایک نئے سرد معرکے کی دہلیز پر جا کھڑی ہوگی۔ تب ممکن ہے کہ عالمی سیاست دو واضح صفوں میں منقسم نظر آئے: ایک صف میں امریکہ اور اس کے دیرینہ اتحادی، اور دوسری میں وہ طاقتیں جو مغربی بالادستی کے مقابل متبادل نظام کی بنیاد رکھنا چاہتی ہیں۔ ایسی صورت میں پابندیوں کی نئی یلغار، توانائی کے راستوں کی بندش، تیل کی قیمتوں میں طوفانی اضافہ اور عالمی منڈیوں میں ہلچل برپا ہونا بعید از قیاس نہ ہوگا۔ ڈالر کی مرکزیت کو چیلنج مل سکتا ہے، علاقائی مالیاتی نظام ابھر سکتے ہیں اور عالمی تجارت کی شاہراہوں پر غیر یقینی کے سائے دراز ہو سکتے ہیں۔ معاملہ اب یہ نہیں رہا کہ جیت کا سہرا کس کے سر ہوگا سوالات یہ اُٹھیں گے کہ اِس جیت کی قیمت کس کس کو ادا کرنا ہوگی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل اس نزاع میں الجھ کر رہ جائیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی عسکری قوت، ٹیکنالوجی اور اتحادی نظام اب بھی بے مثال ہیں؛ تاہم طویل جنگیں ہمیشہ محض اسلحے سے نہیں جیتی جاتیں۔ داخلی سیاست، عوامی رائے، اقتصادی بوجھ اور عالمی ساکھ،یہ سب عناصر مل کر کسی بھی طاقت کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اسرائیل کے لیے بھی یہ مرحلہ آسان نہیں؛ اگر محاذ وسیع ہوا تو اسے بیک وقت کئی سمتوں سے دباؤ سہنا پڑ سکتا ہے۔بات سمجھنے کی ہے کہ جنگیں اب صرف میدان میں نہیں لڑی جاتیں، وہ معیشتوں، سفارت خانوں اور میڈیا کے ایوانوں میں بھی برپا ہوتی ہیں، اور انہی محاذوں پر فیصلہ کن موڑ آتے ہیں۔ اگر عرب دنیا،خصوصاً سعودیہ، امارات اور قطر اپنے مفادات کو خطرے میں محسوس کر کے امریکہ سے تعلقات پر ازسرِ نو نظرثانی کا عندیہ دے، تو یہ سفارتی منظرنامے میں ایک عظیم ارتعاش ہوگا۔ خلیجی ریاستوں کے پاس توانائی کے ذخائر، سرمایہ کی روانی اور جغرافیائی اہمیت کا وہ خزانہ ہے جو عالمی سیاست کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی ترسیل یا دفاعی معاہدوں میں تبدیلی آئی تو اس کے اثرات نہ صرف واشنگٹن بلکہ یورپ اور ایشیا تک محسوس ہوں گے۔ یہ فیصلہ اگرچہ آسان نہ ہوگا، کیونکہ دہائیوں پر محیط تعلقات اور باہمی انحصار کی زنجیریں کمزور نہیں ہوتیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب مفادات پر زد پڑتی ہے تو پرانے عہد نامے بھی نئے معاہدوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایٹمی قوت ہونے کے ناطے محض تماشائی نہیں رہ سکتا۔ حالیہ میزائل تجربہ،جن کی رسائی دو ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے—ایک خاموش مگر واضح پیغام ہیں کہ دفاعی تیاری اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں۔ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ براہِ راست تصادم سے حتی الامکان گریز کی راہ اختیار کرتا ہے، مگر اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا اس کے اسٹریٹجک اثاثوں کو للکارا گیا تو ردعمل محض لفظوں تک محدود نہ ہوگا۔ پاکستان سفارتی سطح پر مسلم دنیا میں آواز بلند کر سکتا ہے، انسانی امداد اور ثالثی کی راہیں نکال سکتا ہے، اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کو اولیت دے سکتا ہے؛ مگر کھلی جنگ کا راستہ ہمیشہ آخری چارہ ہوتا ہے۔ یہ نقطہ ہر صورت اہم ہے جیساکہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ دنیا کیا واقعی دو حصوں میں بٹنے جا رہی ہے؟ شاید مکمل طور پر نہیں، مگر عالمی اتحاد کی لکیریں ضرور گہری ہو رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں مفادات نظریات پر غالب آ چکے ہیں؛ ریاستیں مستقل کیمپوں سے زیادہ عارضی مفاہمتوں پر یقین رکھتی ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ کچھ ممالک بظاہر ایک بلاک کے قریب ہوں مگر پس پردہ دوسرے سے روابط رکھیں۔ یہی کثیرالجہتی سیاست اس عہد کی پہچان ہے۔ تاہم اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے آبنائے ہرمز جیسے حساس راستوں کو لپیٹ میں لے لیا تو عالمی معیشت کو ایسا جھٹکا لگ سکتا ہے جس کی بازگشت دہائیوں تک سنائی دے۔الغرض، ہم ایک ایسے عہد کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں ایک غلط اندازہ، ایک جلد بازی کا فیصلہ یا ایک بے قابو حملہ تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہے۔ اگر طاقت کے یہ مراکز ہوش کے دامن کو چھوڑ بیٹھے تو انسانیت ایک اور طویل آزمائش میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ اور اگر تدبر غالب آیا تو شاید یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھ دے۔ فیصلہ بہرحال انہی ہاتھوں میں ہے جو آج اس آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|