چین کی آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل

چین کی آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں ہر سال منعقد ہونے والے ’’دو اجلاس‘‘ قومی پالیسی سازی کے اہم ترین مواقع میں شمار ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں نہ صرف گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ آئندہ برسوں کی سمت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس سال یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چین پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی سالانہ نشستیں بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہیں۔ ان اجلاسوں میں مرکزی حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر غور کیا جائے گا، 2026 کے بجٹ اور ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا اور نئے پانچ سالہ منصوبے کے مسودہ خاکے پر بحث کی جائے گی، جو 2030 تک پالیسی ترجیحات کی بنیاد فراہم کرے گا۔

اس سال قانون سازی کا ایجنڈا بھی خاصا جامع ہے۔ ماحولیات، قومیتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی سے متعلق تین اہم مسودہ قوانین زیر غور آئیں گے۔ مختلف ریاستی اداروں کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ محکموں کے ذمہ داران پریس کانفرنسوں کے ذریعے اقتصادی، سماجی اور خارجہ امور پر وضاحت فراہم کریں گے۔

چین کے حکمرانی نظام میں پانچ سالہ منصوبے اقتصادی و سماجی ترقی کے اسٹریٹجک فریم ورک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا جائزہ دراصل مالیاتی پالیسی، صنعتی تبدیلی اور سماجی ترقی کی آئندہ سمت کا تعین ہے۔

چودہویں پانچ سالہ منصوبے کے اختتام پر چین کی معیشت 2025 میں 140 کھرب یوان سے تجاوز کر چکی ہے۔ بین الاقوامی حلقوں نے نوٹ کیا ہے کہ معاشی نمو، لیبر پیداواریت، تحقیق و ترقی کے اخراجات، شہری آبادی کے تناسب اور اوسط متوقع عمر سمیت متعدد اہداف مجموعی طور پر حاصل یا متجاوز ہوئے۔

تاہم عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی دباؤ اور سست عالمی نمو جیسے عوامل چیلنج بنے ہوئے ہیں، جبکہ داخلی سطح پر ساختی مسائل اور ابھرتی ٹیکنالوجی کی دوڑ بھی نئی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی پس منظر میں نیا منصوبہ محض اہداف کی فہرست نہیں بلکہ ایک جامع رہنما فریم ورک کے طور پر سامنے آئے گا۔

2026 کے لیے جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہے گا۔ ابتدائی اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا، تاہم معیار اور ساختی بہتری کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ 2025 میں 5 فیصد نمو کے ہدف کے حصول کے بعد اب توجہ نئی معیاری پیداواری قوتوں، گھریلو طلب کے فروغ، مینوفیکچرنگ اپ گریڈیشن اور سبز و کم کاربن ترقی پر مرکوز رہے گی۔

ماحولیاتی ضابطہ، قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ سے متعلق قانون اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا قانون اس سال کے نمایاں نکات میں شامل ہیں۔ مجوزہ ماحولیاتی ضابطہ سبز ترقی کے اصول کو قانونی ڈھانچے میں مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ چین 2030 تک کاربن اخراج میں تخفیف کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔

پانچ سالہ منصوبے مستقبل کی صنعتوں کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔ کوانٹم ٹیکنالوجی، بائیو مینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن اور نیوکلیئر فیوژن توانائی، برین-کمپیوٹر انٹرفیس، مجسم ذہانت اور 6جی مواصلاتی نظام کو آئندہ ترقی کے نئے محرکات کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ بنیادی تحقیق، کلیدی ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور اختراعات کی تیز رفتار تجارتی کاری پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ اداروں کو جدت کا مرکزی کردار سونپا جا رہا ہے۔

’’دو اجلاس‘‘ ہمیشہ سے چین کے سفارتی مؤقف کی جھلک بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ تعاون، کشادگی اور کثیرالجہتی نظام پر زور گزشتہ برسوں میں نمایاں رہا ہے۔ اس سال بھی عالمی علاقائی تنازعات، بڑی طاقتوں کے تعلقات اور عالمی حکمرانی جیسے موضوعات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

2026 چین اور افریقی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے آغاز کی سترہویں دہائی کا سال بھی ہے، جبکہ اسی برس اے پیک اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس بھی منعقد ہونا ہے۔ اس تناظر میں چین کے سفارتی مؤقف اور عالمی اقتصادی کردار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز پر منعقد ہونے والے یہ ’’دو اجلاس‘‘ چین کی آئندہ ترقی کی سمت متعین کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی ترقی، صنعتی اپ گریڈیشن، سبز منتقلی اور قانون سازی کے ذریعے ادارہ جاتی مضبوطی کو مرکز بنا کر چین ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں داخلی استحکام اور عالمی شراکت داری دونوں کو ہم آہنگ کرنا بنیادی ہدف ہوگا۔ آنے والے برسوں کی پالیسی ترجیحات انہی مباحث اور فیصلوں کی روشنی میں طے ہوں گی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094200 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More