عالمی گورننس میں انصاف اور تعاون کا تصور
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
عالمی گورننس میں انصاف اور تعاون کا تصور تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
اس وقت ،موجودہ عالمی نظام کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ علاقائی تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں، معاشی عدم استحکام اور عالمی اداروں کی مؤثریت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بحث نے عالمی حکمرانی کے ڈھانچے کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں زیادہ منصفانہ، متوازن اور تعاون پر مبنی عالمی نظام کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
چین کی جانب سے پیش کیا گیا گلوبل گورننس انیشی ایٹو ، اسی پس منظر میں عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں عالمی نظام کو زیادہ منصفانہ اور متوازن بنانے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ مختلف ممالک کے مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو بہتر طور پر مدنظر رکھا جا سکے۔
عالمی سطح پر جاری بحرانوں، جیسے علاقائی تنازعات اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگیوں نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ موجودہ عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاح کی ضرورت موجود ہے۔ یکطرفہ اقدامات، اقتصادی پابندیاں اور طاقت کے استعمال پر مبنی پالیسیاں بھی عالمی اصولوں اور تعاون کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔
چین کے پیش کردہ تصور میں ریاستی خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور کثیرالجہتی تعاون کو بنیادی اصولوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل کا حل مشترکہ مشاورت، مشترکہ شرکت اور مشترکہ فائدے کے اصولوں کے تحت تلاش کیا جائے۔
اسی تناظر میں ترقی کو عالمی ایجنڈے کا مرکزی عنصر بنانے، موسمیاتی تبدیلی، نئی ٹیکنالوجی اور عالمی اقتصادی حکمرانی جیسے موضوعات پر مشترکہ ضابطہ سازی کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق عالمی حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
یہ تصور اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنا ترقیاتی ماڈل دوسروں پر مسلط کرنے کے بجائے وسیع مشاورت اور مشترکہ شراکت کے اصولوں کو اپنائے۔ اس طرح مختلف تہذیبوں، نظاموں اور ترقیاتی راستوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے اعلان کے بعد عالمی برادری کی جانب سے اس پر مثبت اور تیز رفتار ردعمل سامنے آیا۔ اب تک 150 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس انیشی ایٹو کی حمایت یا خیر مقدم کر چکی ہیں۔ دسمبر 2025 میں ’’گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس‘‘ کے قیام نے اس حمایت کو مزید ادارہ جاتی شکل دی، جس کا مقصد عالمی حکمرانی کے اہم معاملات پر مکالمے، تعاون اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ اس گروپ میں اب تک 43 ممالک کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی سطح پر اصولوں کو عملی کثیرالجہتی اقدامات میں ڈھالنے کی خواہش بڑھ رہی ہے۔
دنیا کا ماننا ہے کہ اس انیشی ایٹو کی اصل قوت ایسے اصولوں کی تشکیل میں ہے جو وسیع عالمی قبولیت حاصل کر سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق یہ اصول نہ صرف گلوبل ساوتھ کے بڑے ممالک بلکہ کئی یورپی ریاستوں کے لیے بھی قابلِ قبول ہیں اور مستقبل کی عالمی ترقی کے لیے سنگِ بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔
وسیع تناظر میں ،عالمی حکمرانی میں اصلاح اور بہتری کے حوالے سے چین کا نقطۂ نظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل کا عالمی نظام زیادہ تعاون، شمولیت اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ اختلافات کو کم کرنا، مشترکہ ذمہ داریوں کو قبول کرنا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہی ایک زیادہ مستحکم اور متوازن عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، اور یہی چینی دانش کی اساس ہے۔ |
|