ٹک ٹاکر کلچر: شہرت یا وقتی فریب؟
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
موجودہ دور میں شہرت کا معیار بدل چکا ہے۔ کبھی نام بنانے کے لیے برسوں کی محنت، علم، فن یا خدمات درکار ہوتی تھیں، مگر اب چند سیکنڈ کی ویڈیو بھی انسان کو راتوں رات مشہور کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم TikTok نے ایک نئی دنیا متعارف کرائی ہے جہاں ہر شخص اپنے موبائل کیمرے کے ذریعے “اسٹار” بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ شہرت واقعی کامیابی ہے یا وقتی فریب؟ ٹک ٹاک نے نوجوان نسل کو اظہار کا ایک آسان ذریعہ دیا۔ گاؤں ہو یا شہر، امیر ہو یا غریب، ہر فرد کو یکساں موقع ملا کہ وہ اپنا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ کئی ایسے نوجوان سامنے آئے جنہوں نے مزاح، اداکاری، تعلیم اور سماجی آگاہی کے ذریعے مثبت شناخت حاصل کی۔ کچھ لوگوں نے تو اسی پلیٹ فارم سے معاشی استحکام بھی پایا اور باعزت روزگار کمانا شروع کیا۔ یہ پہلو یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ وائرل ہونے کی دوڑ نے مواد کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ سنجیدہ تخلیق کے بجائے چونکا دینے، متنازع بنانے اور حدود توڑنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ لائکس اور فالوورز کی خواہش بعض اوقات اخلاقی قدروں پر غالب آ جاتی ہے۔ نوجوان غیر شعوری طور پر اپنی نجی زندگی کو عوامی نمائش بنا دیتے ہیں، جس کے اثرات بعد میں ذہنی دباؤ اور پچھتاوے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو خاندانی نظام پر اثرات کا ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں کیونکہ وقت کا بڑا حصہ اسکرین کی نذر ہو جاتا ہے۔ تعلیم متاثر ہوتی ہے اور حقیقی صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ وقتی شہرت کا نشہ انسان کو یہ بھلا دیتا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا بے حد غیر مستقل ہے؛ آج کا ہیرو کل گمنام بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود مکمل طور پر اس رجحان کو منفی قرار دینا درست نہیں۔ اصل مسئلہ پلیٹ فارم نہیں بلکہ استعمال کا طریقہ ہے۔ اگر ٹک ٹاک کو مثبت پیغام، تعلیم، ہنر اور معاشرتی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا مستقبل کی معیشت کا حصہ بن چکا ہے، اور ہمیں بھی اسے سمجھداری سے اپنانا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل تربیت دی جائے، اخلاقی حدود کا شعور پیدا کیا جائے اور والدین رہنمائی کا کردار ادا کریں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے بھی مناسب پالیسی سازی کے ذریعے مثبت مواد کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹک ٹاکر کلچر نہ مکمل طور پر نعمت ہے نہ مکمل طور پر زحمت۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں معاشرہ اپنا چہرہ دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم سنجیدگی، ذمہ داری اور توازن کو اپنالیں تو یہی پلیٹ فارم ترقی کا زینہ بن سکتا ہے، ورنہ وقتی فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔ |
|