مہنگائی کا طوفان اور خاموش ہوتا متوسط طبقہ

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث مسئلہ اگر کوئی ہے تو وہ مہنگائی ہے۔ بازاروں میں جائیں تو سبزی فروش سے لے کر یوٹیلیٹی اسٹور تک ہر جگہ قیمتوں کا نیا ریٹ سننے کو ملتا ہے۔ تنخواہیں وہی پرانی مگر اخراجات دوگنے، بلکہ بعض صورتوں میں تین گنا ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بوجھ کو کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے؟
مہنگائی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا کڑوا سچ ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی اور گیس کے بل — ہر چیز بجٹ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ متوسط طبقہ جو کبھی سفید پوش کہلاتا تھا، اب خاموشی سے معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ نہ احتجاج کر سکتا ہے، نہ ہی ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔ بس اپنے اخراجات کم کر کے گزارا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ نجی اسکولوں کی فیسیں بڑھ رہی ہیں اور والدین سوچنے پر مجبور ہیں کہ بچوں کو بہتر تعلیم دلائیں یا گھر کا چولہا جلائیں۔ صحت کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات محدود اور نجی اسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ بیماری اب صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ مالی آزمائش بھی بن گئی ہے۔
کاروباری طبقہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی ہے۔ صنعت کار پیداواری لاگت بڑھنے کا شکوہ کرتے ہیں تو دوسری طرف صارف مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہے۔ یوں ایک ایسا دائرہ بن چکا ہے جس میں ہر فرد متاثر ہو رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کیوں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ منصفانہ طریقے سے کیوں تقسیم نہیں ہو رہا؟ کیا اشرافیہ بھی وہی مشکلات محسوس کرتی ہے جو ایک عام سرکاری ملازم یا دیہاڑی دار مزدور کرتا ہے؟ جب پالیسی سازی میں عام آدمی کی آواز کمزور پڑ جائے تو مسائل گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی منصوبہ بندی زمینی حقائق کے مطابق کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی ہو۔ مقامی صنعت کو سہارا دیا جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ آمدن میں اضافہ ہو، نہ کہ صرف اخراجات میں۔
مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی استحکام کا بھی سوال ہے۔ اگر متوسط طبقہ کمزور ہو جائے تو معاشرہ توازن کھو دیتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ متعلقہ ادارے عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے لیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جو عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔
اگر آپ بھی کسی موضوع پر معیاری اور تحقیقی آرٹیکل لکھوانا چاہتے ہیں تو راقم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ 
Sardar Muhammad Shoaib Saifi
About the Author: Sardar Muhammad Shoaib Saifi Read More Articles by Sardar Muhammad Shoaib Saifi: 25 Articles with 4642 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.