چین کی انسان نما روبوٹکس میں نئی پیش رفت کا عالمی مظاہرہ
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کی انسان نما روبوٹکس میں نئی پیش رفت کا عالمی مظاہرہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں گھوڑے سے منسوب سال کی آمد کے ساتھ ہی اسپرنگ فیسٹیول گالا2026 ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ تاہم اس بار یہ تقریب محض ایک ثقافتی جشن نہیں بلکہ جدید ہارڈ ٹیکنالوجی کی بھرپور نمائش بھی ثابت ہوئی۔ قومی نشریات پر انسان نما روبوٹس کی منظم اور مربوط پرفارمنس نے واضح پیغام دیا کہ چین کی روبوٹکس صنعت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور عالمی برادری اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے۔
اس سال کے اسپرنگ فیسٹیول گالا میں چین کی معروف روبوٹکس کمپنیوں کے تیار کردہ انسان نما روبوٹس نے قومی ٹیلی وژن پر مارشل آرٹس کی بے عیب پیشکش کر کے ناظرین کو حیران کر دیا۔ یونٹری روبوٹکس، میجک ایٹم، گیلیکسی جنرل اور سونگ یان پاور کے روبوٹ گروپس نے مربوط انداز میں حرکات انجام دیں، جن میں توازن، رفتار اور ردعمل کی ہم آہنگی نمایاں تھی۔ اس مظاہرے کو چین میں انسان نما روبوٹکس کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس مظاہرے کو نمایاں کوریج دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ انسان نما روبوٹس اب اسپرنگ فیسٹیول گالا کا باقاعدہ حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو چین کی مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ اگلی نسل کی روبوٹکس میں مہارت اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ سی بی ایس نے اس پرفارمنس کو نشر کرتے ہوئے روبوٹس کی ہموار اور قدرتی حرکات کو جدید ٹیکنالوجی کی مثال قرار دیا۔
ہسپانوی اخبار ایل ایسپانیول نے 2025 اور 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول گالا کے درمیان فرق کو ’’حقیقی انقلاب‘‘ سے تعبیر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس کے روبوٹس نسبتاً سخت اور میکانکی انداز میں حرکت کرتے تھے، جبکہ 2026 میں یونٹری جی ون ماڈلز نے غیر معمولی روانی اور آزادی کے ساتھ حرکات انجام دیں۔ اس امر کو بھی نمایاں کیا گیا کہ یہ روبوٹس محض نمائشی نمونے نہیں بلکہ تجارتی مصنوعات ہیں، جو یورپی منڈیوں میں دستیاب ہو چکی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارہ روئٹرز نے گالا کو چین کی صنعتی پالیسیوں کی جھلک قرار دیا۔ ’’وو بوٹ‘‘ نامی حصے میں روبوٹس کی جانب سے پیش کی گئی باکسنگ طرز کی پرفارمنس نے کثیر روبوٹ اشتراک، مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی اور خرابی کے بعد بحالی جیسی تکنیکی پیش رفت کو نمایاں کیا۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے نشاندہی کی کہ چین نے روبوٹکس کو اپنی ’’اے آئی پلس مینوفیکچرنگ‘‘ حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا ہے، جو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے تناظر میں آٹومیشن کو فروغ دینے کا ایک عملی قدم ہے۔
اسپرنگ فیسٹیول گالا نے صنعتی حکمتِ عملی کو عوامی تفریح کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا۔ یوں ’’نئے معیار کی پیداواری قوتوں‘‘ کا تصور محض پالیسی دستاویزات تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے براہِ راست عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ مینوفیکچررز کے لیے بھی اس نمائش کے فوری اثرات سامنے آئے۔ یونٹری کا جی ون ماڈل پہلے ہی یورپی منڈی میں داخل ہو چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مظاہرے سے تجارتی فروخت تک کا عمل تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ چین کی روبوٹکس حکمتِ عملی اب تجربہ گاہوں سے نکل کر پیداواری خطوط تک پہنچ چکی ہے۔ جہاں بعض مغربی حریف مہنگے اور محدود نمونوں تک محدود ہیں، وہیں چینی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر پیداوار اور مستحکم سپلائی چین کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ گالا کے اسٹیج پر پیش کیے گئے روبوٹ فارمیشنز میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی ادراک، فیصلہ سازی اور ایکچیویٹر ٹیکنالوجی کی جھلک نمایاں تھی۔
روبوٹکس کی یہ پیش رفت اب عملی شعبوں تک منتقل ہو رہی ہے۔ بزرگوں کی دیکھ بھال، اعلیٰ درجے کی صنعت، اور خطرناک ماحول میں تحقیق جیسے میدانوں میں انسان نما روبوٹس کے استعمال کی آزمائش جاری ہے۔ چین کا ماڈل، جو تیز رفتار جدت اور بڑے پیمانے پر اطلاق پر مبنی ہے، عالمی سطح پر افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل کے لیے ایک عملی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گھوڑے سے منسوب سال کے اسپرنگ فیسٹیول گالا نے ثابت کیا کہ چین میں ثقافت اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے لیے لازم بن چکے ہیں۔ انسان نما روبوٹس کی شاندار پیشکش نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ صنعتی اور سائنسی پیش رفت کا واضح پیغام بھی دیا۔ یہ مظاہرہ اس امر کی علامت ہے کہ چین کی روبوٹکس صنعت تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھ کر عالمی صنعتی منظرنامے کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور آنے والے برسوں میں اس کا اثر مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ |
|