رمضان کےروزوں کے سائنسی اور طبی فوائد
(Dr. Iqbal Ahmad Akhtar ul Qadri, Karachi)
روزہ سے جہاں روح کو طاقت ملتی ہے، وہیں اس سے بدن کی بھی اصلاح ہوتی ہے…اسلام میںروزہ کا اصلی مقصد تقویٰ و پرہیزگاری تو ہے ہی مگر روحانی اور قلبی سکون کے علاوہ طبی اور سائنسی لحاظ سے بھی روزوں کے بے شمار فوائد ہیں جن کی آج کی جدید طب اور سائنس بھی تصدیق کرتی ہے…یہاں اسی حوالے سے کچھ حقائق عرض کرتے ہیں۔
|
|
|
﷽
رمضان کےروزوں کے سائنسی اور طبی فوائد پروفیسر ڈاکٹراقبال احمد اخترالقادری "Scientific and Medical Benefits of Fasting During Ramadan" by: Dr. Iqbal Ahmed Akhtar-ul-Qadri, Karachi. ٭ روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیے گئے،یعنی اسلام میں روزے سنہ دو ہجری سے فرض قرار دیے گئے جس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمان روزہ رکھتے چلے آ رہے ہیں… روزے کی فرضیت سے متعلق قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يٰاَ يُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ: 183) ”اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے“۔ قرآن حکیم کی جس آیت میں روزہ فرض کیا گیا اسی میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عمل ایسے ہی لازم ہے جیسے کے ماضی کی قوموں پر فرض تھا… اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام سے قبل بھی اقوام میں روزہ رکھنے کی روایت موجود تھی، مگر ان میں اسلامی روزوں میں بڑا فرق ہے … جس طرح اسلام نے نماز، زکوٰۃ میں جامعیت و مرکزیت پیدا کرکے، انھیں دیگر ادیان و مذاہب کی نماز وزکوٰۃ سے ممتاز بنادیا۔ اسی طرح سے روزہ کو بھی دیگر مذاہب کے روزوں کے مقابلہ میں اختصاص و امتیاز عطاکیاہے چنانچہ اسی غرض سے صومِ مفروض کو ایک مہینہ کے لیے خاص کیاگیا اور پھر اس کے لیے وہ مہینہ منتخب کیاگیا ،جس میں اللہ کی جانب سے مسلمانوں کو دستور ہدایت یعنی قرآن حکیم مرحمت فرمایاگیا ارشاد باری تعالیٰ ہے: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدَی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنَ الْھُدٰی وَالفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرہ) ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں نازل کیاگیا قرآن جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیل اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے، لہٰذا جو اس مہینہ کو پائے تو اُس کے روزے ضرور رکھے“۔ روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں،جس کے معنی کسی چیز سے رک جانا اور شرعی اصطلاح میں ایک مخصوص طرز پر صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مخصوص شرائط اور نیت کے ساتھ کھانے پینے سے رک جانا روزہ ہے… صوم سے صرف رمضان المبارک کے فرض روزے ہی نہیں بلکہ اس سے تمام طرح کے روزے مراد ہیں۔ روزہ کی کل پانچ اقسام ہیں۔ (1) فرض معین: یعنی جو روزہ فرض ہو اور اس کی ادائیگی کا وقت متعین ہو جیسے رمضان کا روزہ۔ (2) فرض غیر معین: یعنی جو روزہ فرض ہو اور اس کی ادائیگی کا وقت متعین نہ ہو جیسے کفارہ کا روزہ اور قضاء کا روزہ۔ (3) واجب معین: یعنی جو روزہ واجب ہو اور اس کا وقت متعین ہو جیسے نذر معین کا روزہ۔ (4) واجب غیر معین: یعنی وہ روزہ جو واجب ہو اور اس کا وقت متعین نہ ہو جیسے نذر غیر معین۔ (5) نفل روزہ: جسے انسان اپنی خش دلی سے جب چاہے رکھ سکتا ہے۔ روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کے اندر صبر و استقامت کی قوت پیدا ہوتی ہے (جو انسان کے لیے بڑی خوبی کی چیز ہے) روزہ دار کے سامنے عمدہ اور مرغوب غذائیں ،ٹھنڈا اور شیریں پانی رکھا رہتا ہے،مگروہ ان کی طرف نگاہ اُٹھاکر بھی نہیں دیکھتا،حالانکہ بظاہر اس کو ان چیزوں کے استعمال کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی لیکن اس کا ضمیر اس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے روزہ کو برباد کرکے خدا کے غضب کا مستحق بنے… ایک مہینہ کی یہ مشق و تمرین لامحالہ انسان کے اندر استقلال و استقامت کی زبردست طاقت پیدا کردیتی ہے… ماہرین نفسیات نے اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے کہ روزہ سے زیادہ ارادوں میں پختگی اور عزائم میں پائیداری پیدا کرنے والی دوسری کوئی چیز نہیں ہے۔ روزہ میں خواہشاتِ نفسانیہ کو دبانے سے قوتِ روحانیہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے… روزہ میں خواہشِ نفس وبطن کی شکست و ریخت ہوتی ہے اس لیے لازمی طور پر روحانیت کو قوت و طاقت ملتی ہے اور اسی جوہرِ روحانی کے میسر آجانے پر آدمی انسان کہلاتا ہے تو گویا روزہ کے ذریعہ انسانیت کی تشکیل و تکمیل ہوتی ہے۔ روزہ سے جہاں روح کو طاقت ملتی ہے، وہیں اس سے بدن کی بھی اصلاح ہوتی ہے…اسلام میںروزہ کا اصلی مقصد تقویٰ و پرہیزگاری تو ہے ہی مگر روحانی اور قلبی سکون کے علاوہ طبی اور سائنسی لحاظ سے بھی روزوں کے بے شمار فوائد ہیں جن کی آج کی جدید طب اور سائنس بھی تصدیق کرتی ہے…یہاں اسی حوالے سے کچھ حقائق عرض کرتے ہیں۔ < روزہ کا اصلی مقصدتو تقویٰ وپرہیزگاری ہے… رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کے لیے روزے رکھنے کے ساتھ ذکرو فکر، تسبیح و تہلیل، کثیر تلاوت و نوافل اور صدقہ و خیرات کا باعث بھی بنتا ہے… اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے… اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں … اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے…ان روحانی اورقلبی سکون کے علاوہ طبی لحاظ سے بھی روزوں کے بے شمار فوائد ہیں ،جدید طب اور سائنس بھی روزے سے وابستہ ان فوائد کی تصدیق کرتی ہے…اب سائنس داں اور اطباء اپنی تحقیقات و تجربات کی بدولت ایسے فوائد دریافت کر چکے جن سے انسان پہلے ناواقف تھا…ان میں انسانی عمر میں اضافہ اور انسان کی ذہنی صلاحیتوں کا طاقتور ہو نا روزوں کے دو بڑے فائدے ہیں۔ Professor Walter Longo, University of Southern California, USA سے منسلک خلیاتی حیات داں ہیں۔ وہFasting یعنی روزوں پہ عرصہ دراز سے تحقیق کر رہے ہیں… ان کے مطابق روزے رکھنا انسانی جسم میں ایک پیدائشی (یا بلٹ ان) نظام ہے، اس نظام کی مدد سے انسانی جسم زہریلے عناصر اور کوڑے کرکٹ سے نجات پاتا ہے… جدید انسان چونکہ ہر وقت کچھ نا کچھ کھاتا پیتا رہتا ہے، اس لیے یہ نظام اب غیر متحرک ہو چکا… ماہرین کے مطابق ایک انسان ’تین سو ستر کھرب‘ سے زائد خلیوں (Cells) کا مجموعہ ہے۔ یہ خلیے جینز (Genes) کی ہدایات پہ عمل کرتے ہیں… روزوں سے متعلق پروفیسر والٹر لونگو کی تحقیق سے افشا ہوا کہ جب انسانی جسم میں بھوک پیاس جنم لے اور اسے کیلوریز (Calories) یا حرارے نہ ملیں تو ایسے جین متحرک ہو جاتے ہیں جو خلیوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں روک دیں تاکہ اپنے وسائل محفوظ رکھ سکیں۔ معنی یہ کہ خلیے تقسیم ہو کر نشوونما پانے کے بجائے جامد ہو جاتے ہیں۔ غذا اور پانی نہ ملنے سے خلیوں کا اپنی روایتی سرگرمیاں روک دینے کا عمل سائنسی اصطلاح میں آٹوفیگی (Autophagy) کہلاتا ہے۔ اس عمل میں داخل ہو کر کوئی مرض خلیوں پر اثر انداز نہیں ہو پاتا۔ نیز وہ دباؤ (Stress) اور سوزش (Inflammation) سے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں جو انسان پہ بڑھاپا لانے والے عناصر ہیں… اس کے برعکس خلیے اعضا کے خراب حصوں کی مرمت کرنے لگتے ہیں۔ نیز انسانی جسم میں جو خلویاتی فضلہ جمع ہو گیاہوتا ہے، اسے نکال باہر کرتے ہیں جو کہ نہایت صحت افضا ہوتا ہے۔ (Professor Mark Mattson, Johns Hopkins University, (USA سے منسلک مشہور نیورو سائنس داں ہیں۔ ان کے مطابق جب انسان بارہ گھنٹے یا زائد عرصے کھانے پینے سے پرہیز کرے تو اس کے جسم میں گلائکوجن کم ہو جاتا ہےجو گلوکوز کی ایک قسم ہے جسے خلیے بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں… گلائکوجن کی کمی کے بعد خلیے اپنے کام جاری رکھنے کے لیے انسانی جسم میں محفوظ چربی یا چکنائی کو بطور ایندھن استعمال کرنے لگتے ہیں… جب چربی استعمال ہو تو انسانی جسم میں خاص قسم کے سالمے یا مالیکیول، کیٹون (Ketone) پیدا ہوتے ہیں۔ یہ توانائی فراہم کرنے والے سالمے ہیں جنھیں ہمارا جگر بناتا ہے…تحقیق و تجربات سے پتا چلا ہے کہ جب انسانی جسم چربی بطور ایندھن استعمال کرنے لگے اور کیٹون پیدا ہوں، تو یہ تبدیلی انسان کوبہترین تندرستی عطا کرتی ہے جو کہ خصوصاً اس کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے…اس کی وجہ یہ ہے کہ کیٹون کی ایک قسم ـ بی ایچ بی (Beta-hydroxyButyrate) کی دماغ میں کثرت ہو جاتی ہے جو انسان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر کرتی ہے۔ نیز اس میں آٹوفیگی کا عمل جنم دینے میں مددگار بنتی … اسی قسم کے باعث ہمارا دماغ دماغی طاقت بڑھانے والے نیورون یا دماغی خلیے پیدا کرتا ہے۔ ان دماغی خلیوں میں سب سے اہم بی ڈی این ایف (Brain Derived Neurotrophic Factor) ہے۔ اس کو ہمارے دماغ میں یادداشت کا مرکز سمجھا جانے والا علاقہ ہپوکیمپس (Hippocampus) جنم دیتا ہے… بی ڈی این ایف ایک پروٹینی مادہ ہے جو ہماری یادداشت تیز کرتا ہے… سیکھنے کی ہماری صلاحتیں مانجھ دیتا ہے… نیز ہمارا موڈ یا مزاج بھی بہتر کرتا ہے… یہی وجہ ہے، جو انسان کئی گھنٹے بھوکے پیاسے رہتے ہیں، وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہوشیار، تازہ دم اور چاق و چوبند ہو جاتے ہیں… ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تیز ہوتی ہے… حواس بہتر انداز میں کام لگنے لگتے ہیں… وہ سستی اور مایوسی سے چھٹکارا پا لیتے ہیں…اس کے برعکس اگر انسان دن بھر کھاتا پیتا رہے تو اسے یہ فوائد حاصل نہیں ہوپاتے…عمر اور دماغی صلاحیتوں میں اضافے کے علاوہ روزہ رکھنے سے معدے کی بیماریاں بھی ٹھیک ہو جاتی ہیں… نظام ہضم بھی بہتر ہو جاتا ہے… شوگر لیول، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اعتدال آجاتا ہے… روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے اور ا س کی وجہ سے دل کو انتہائی فائدہ مند آرام پہنچتا ہے… روزے سے جسمانی کھچاؤ، ذہنی تناؤ ، ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے… روزہ رکھنے سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے… اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔ مگریاد رہے کہ یہ تمام طبی اور سائنسی فائدے اسی وقت ملتے ہیں جب روزے دار ایسی غذا کھائے جس میں چکنائی، نمک اور چینی معتدل مقدار میں ہوں۔ورنہ ان اشیا کا زیادتی سے استعمال روزے رکھنے کے بیشتر فوائد زائل کر دیتا ہے…لہٰذا اگر ہم روزے کے روحانی اور دینی فوائد کے ساتھ ساتھ طبی اور سائنسی فائدے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ سحرو افطار میں نہایت میانہ روی سے غذا استعمال کریں تاکہ روزے کے دینی اور طبی فوائد حاصل ہو سکیں۔ ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقادری‘ کراچی 0303-9205511 [email protected]
|
|