صحت مند چین 2035

صحت مند چین 2035
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

صحت عامہ کسی بھی معاشرے کی مجموعی ترقی اور عوامی فلاح کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ جدید طبی سہولیات، مضبوط بنیادی صحت کا نظام اور مؤثر عوامی صحت کی حکمتِ عملی کسی بھی ملک کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چین میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت اور طبی خدمات کے شعبے میں نمایاں اصلاحات اور توسیع دیکھی گئی ہے، جس کا مقصد عوام کو زیادہ قابل رسائی اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران چین نے اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس عرصے میں بنیادی سطح کے طبی اداروں کے کردار کو نمایاں طور پر بڑھایا گیا۔ 2025 تک ملک میں مجموعی طبی معائنے اور علاج کے دوروں میں سے 52.6 فیصد بنیادی سطح کے طبی و صحت مراکز میں انجام پائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی صحت کے نظام میں مقامی سطح کی خدمات کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
اسی طرح طبی سہولیات تک رسائی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ شہری اور دیہی خاندان اپنے قریبی طبی ادارے تک 15 منٹ کے اندر پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں طبی اداروں کے جال کو مزید وسیع کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق چین میں اس وقت 11 لاکھ طبی ادارے فعال ہیں جہاں 1 کروڑ 60 لاکھ سے زائد طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس میں 52 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ معالجین اور 60 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ نرسیں شامل ہیں، جو ملک کی وسیع آبادی کو طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

خاندانوں کی فلاح اور بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تین سال سے کم عمر بچوں والے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت یکم جنوری 2022 کے بعد پیدا ہونے والے ہر اہل بچے کے لیے تین سال تک سالانہ 3,600 یوان کی سبسڈی دی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر 10,800 یوان بنتی ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کی دیکھ بھال کی سہولتوں کی تعداد اور معیار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں عوام کی مجموعی صحت کے اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے۔ 2025 میں چین میں اوسط متوقع عمر 79.25 برس تک پہنچ گئی، جو 2020 کے مقابلے میں 1.32 برس زیادہ ہے۔ اس طرح اوسطاً ہر سال متوقع عمر میں 0.26 برس کا اضافہ ہوا ہے۔

آئندہ مرحلے میں ’’صحت مند چین 2035‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کو ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور بحالیٔ صحت کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے متعدد اہم منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

ملک بھر میں بنیادی طبی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بچوں کے امراض، ذہنی صحت، عمومی طب، بحالیٔ صحت اور نرسنگ جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ عوام کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔

اسی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صحت کے شعبے میں زیادہ استعمال کیا جائے گا۔ موبائل طبی خدمات، ٹیلی میڈیسن اور انٹرنیٹ کے ذریعے طبی مشاورت جیسے طریقوں کو فروغ دے کر طبی سہولتوں کو زیادہ منصفانہ اور قابل رسائی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صحت کے نظام میں اصلاحات کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں کاؤنٹی سطح پر تقریباً ایک ہزار مربوط طبی و صحت اتحاد قائم کیے جائیں گے، جن کا مقصد مختلف طبی اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مریضوں کے علاج کے تسلسل کو بہتر بنانا ہے۔ اسی طرح شہروں میں حوالہ جاتی اور مشاورتی مراکز قائم کر کے علاج کی سہولتوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

عوامی صحت کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے متعدی بیماریوں کی نگرانی، ابتدائی انتباہ، خطرے کے جائزے، طبی علاج اور فوری ردِعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ وباؤں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔ ہنگامی طبی امداد کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔

چین عالمی سطح پر بھی صحت کے شعبے میں تعاون کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے شراکت دار ممالک کی طبی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی اور افرادی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ روایتی چینی طب کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور مختلف روایتی طبی نظاموں کے درمیان تبادلۂ علم کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں چین کے صحت کے نظام میں ہونے والی پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی فلاح کو قومی ترقی کا اہم جزو سمجھا جا رہا ہے۔ بنیادی طبی خدمات کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور صحت کے نظام میں مسلسل اصلاحات مستقبل میں زیادہ مؤثر اور جامع طبی سہولتوں کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ’’صحت مند چین 2035‘‘ کا ہدف حاصل کرنے کی سمت نمایاں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094198 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More