فیول کی بچت مضبوط دفاع کیلئے اہم

فیول کی بچت مضبوط دفاع کیلئے اہم
حسیب اعجاز عاشرؔ
طاقت کے تصادم اور لرزتی ہوئی عالمی معیشت کے شکنجے میں خطے کے عوام کو ایک نئی بے یقینی کے سائے تلے سانس لینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے عالم کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ جنگ ایک ایسا بحران ہے جس کے ارتعاشات سمندروں اور سرحدوں کی حدود سے بہت دور نکل چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جنگ کی آگ جب کسی خطے میں بھڑکتی ہے تو اس کے شعلے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے۔ تیل کی منڈیاں، عالمی تجارت، سمندری راستے اور توانائی کی فراہمی سب اس کے اثرات سے لرز اٹھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج دنیا کے کئی ممالک اپنی معیشت اور توانائی کے وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی طرف مائل ہو رہے ہیں،سونا خریدنے والے بھی اب تیل کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیلئے کود پڑ ے ہیں۔ تیل اور پیٹرول کی عالمی رسد میں کسی بھی تعطل کا خدشہ براہِ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہی وہ ایندھن ہے جس سے صنعتوں کے پہیے گھومتے ہیں، کھیتوں میں ٹریکٹر چلتے ہیں اور شہروں میں گاڑیاں رواں رہتی ہیں۔
پاکستان بھی اسی عالمی منظرنامے کا ایک حساس حصہ ہے۔ یہاں کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، لہٰذا عالمی بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے دانشمندانہ تدابیر اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایسے میں یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ ریاستی قیادت نے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کفایت شعاری اور توانائی کے مؤثر استعمال کی جانب قدم بڑھایا ہے۔
اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں قومی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ایسے فیصلے سامنے آئے جو غریب میں پسی عوام سے اِس عزم کا اظہار ہیں کہ مشکل وقت میں قربانی کا آغاز اِس بار حکمرانوں سے ہوگا۔ وفاقی کابینہ کے اراکین کا دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ ایک قابل تحسین امر ہے۔ یہ اقدام بظاہر مالی اعتبار سے شاید بہت بڑا نہ ہو، مگر اس کی اخلاقی اور علامتی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ریاستی نظم و نسق میں ایسے فیصلے عوام کے اعتماد کو تقویت دیتے ہیں۔ اسی اجلاس میں سرکاری اخراجات میں کمی، توانائی کے بہتر استعمال اور ورک فرام ہوم جیسی سہولیات کو برقرار رکھنے پر زور دینا دراصل جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے کا ثبوت ہے۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رکھی گئی کہ صنعتی اور زرعی شعبے کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ لہٰذا کفایت شعاری کے اقدامات کو ان شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر کارخانوں کے پہیے رک جائیں یا کھیتوں میں ہل چلنا بند ہو جائے تو معیشت کا دھارا خشک ہونے لگتا ہے۔ اس لیے حکومت نے جہاں ایک طرف بچت کی راہ اپنائی وہیں دوسری جانب پیداوار کے عمل کو متاثر ہونے سے بچانے کی کوشش بھی کی۔
وفاقی حکومت کے بعد صوبائی حکومتوں نے بھی اسی جذبے کے ساتھ اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نوازنے پیٹرولیم بحران کے خدشات کے پیشِ نظر جو فیصلے کیے وہ قابلِ توجہ ہیں۔ صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند کرنا اور سرکاری افسران کے پیٹرول و ڈیزل الاؤنس میں پچاس فیصد کمی دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ بچت کا آغاز حکمرانوں کے دروازے سے ہونا چاہیے۔ اسی طرح پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی اور سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی رکھنے کا فیصلہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی وسائل کو فضول نمائش کا ذریعہ بنانے کا زمانہ اب گزر جانا چاہیے۔
پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کی پالیسی اختیار کرنے اور تعلیمی اداروں کو کچھ عرصے کے لیے بند کر کے آن لائن تعلیم کی اجازت دینے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔ اگرچہ یہ فیصلے بظاہر عارضی نوعیت کے ہیں، مگر یہ ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم کئی عملی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال کے پیش نظر قابلِ ذکر اقدامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں کمی، میٹنگز کو مکمل طور پر آن لائن کرنے اور سرکاری تقریبات و ڈنرز پر پابندی جیسے فیصلے کیے ہیں۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھنا بھی ایک دانشمندانہ اقدام ہے کیونکہ امن و امان اور ایمرجنسی سروسز میں کسی قسم کی کمی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کوشش کی ہے کہ عوام کو اِس مشکل وقت میں ریلیف مل جائے، جس کے لئے بائیس روپے فی کس دیئے جائیں گے۔ یہی وہ سوچ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو کئی ممالک اس بحران کے پیشِ نظر غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔ جییے بنگلہ دیش میں ایندھن کی بچت کے لیے تعلیمی اداروں کے اوقات میں تبدیلی اور بعض جامعات کو عارضی طور پر بند کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر ایشیائی ممالک بھی توانائی کے استعمال کو محدود کرنے اور متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہماری حکومتیں پیشگی اقدامات کر رہی ہیں تو اسے ہم سیاسی زاویے سے دیکھنے کے بجائے ایک قومی ضرورت کے طور پر سمجھیں اور پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں۔ ہمیں غافل نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے تناظر میں ایندھن کی بچت اور اس کا محتاط استعمال دفاعی نقطہ نظر سے نہایت اہم ہے اور اب تو حالات ویسے ہی نہایت حساس ہیں امریکہ اسرائیل مل کر ایران پر چڑھ دوڑا ہے اور ہمارے دفاعی وزیر بھی اِن خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اسرائیل پاکستان کی سرحدوں تک آنا چاہتا ہے جبکہ ایک طرف پہلے ہی پاکستان کے حالات افغانستان سے کشیدہ ہیں اور دوسری طرف بھارت بھی کڑ ی نظریں رکھے موقع کی تلاش میں ہے۔ اگر ہم ایندھن کو ضائع کریں گے تو یہ ہماری قومی طاقت کو ضرب لگانے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم ایندھن کی بچت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اسے دانشمندی سے استعمال کریں تاکہ ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط اور مستحکم رہے۔خدارا ”پٹرول مہنگا،پٹرول مہنگا“ کہ نعروں سے نکل کر یہ بات سمجھیں کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، مگر بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں جب قومی مفاد کو سیاست سے بالا رکھنا پڑتا ہے۔ آج اگر وفاق اور صوبے بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہے کہ آنے والے ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے بلکہ خدشات پر قابو رکھا جا سکتے۔ توانائی کا محتاط استعمال، غیر ضروری سفر سے گریز اور وسائل کی حفاظت دراصل قومی ذمہ داری ہے۔بحران کے زمانے میں جو قومیں نظم و ضبط اور اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ نہ صرف مشکلات سے نکل آتی ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہیں۔آج پاکستان کو بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757



Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176701 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More