کھانوں کے سٹالز

چکن سموسہ، ملائی سموسہ، تکہ سموسہ۔ پیزا سموسہ، سموکی تکہ سموسہ،
آلو سموسہ، قیمہ سموسہ بیف سموسہ۔۔۔۔۔ شوشا والی جہگوں کی آئٹم
۔'پران سموسہ'۔۔ اسکے علاوہ میکرونی سموسہ بھی مل سکتا ہے۔
رولز ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں پرکھانے والے رولز کی بات ہو رہی ہے ناکہ کرداروں کے رولز کی۔
اگر یہ تمام سموسے اور رولز اور ساتھ میں پکوڑے بھی تل کر ایک جگہ اکٹھے کر دئے جائیں۔
اسکے بعد ۔۔۔۔۔رول پراٹھا۔۔۔۔۔ کچھ تھوڑا بڑا سا۔۔۔۔۔ شوارما۔۔۔۔ بھی ہو جائے۔گول
گول کچوری بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سب کو اپنے کھانے کے ۔۔۔۔ سٹال۔۔۔۔۔میرا مطلب تھا افطاری کے دسترخوان پر
رکھ دیں۔


پھر ان سب کے درمیان 'ٹماٹروں کی چٹنی' مراد کہ کیچپ کی پیالی ہو اور پھر ان
تمام اشیا خورد نوش کی ایک فوٹو ہو اور وہ کسی بھی سوشل میڈیا پر چڑھا دی جائے پھر
نیچے ڈھیروں کمنٹس نہ مل گئے تو کہنا۔


یہ ہے ہمارا دسترخوان۔
جس کو ختم کرتے کرتے اکثر ہی ہمارا مغرب کی نماز کا وقت گزر جاتا ہے ۔پھر
ظہر سے شروع کرتے کرتے عصر اور پھر
مغرب تک ہم کن مشکلوں سے یہ سب مکمل بنا پاتے ہیں۔

یہ بنانے والی خواتین جانتی ہیں۔
اگر کوئی خاتون غلطی سے سوچ لے کہ صرف ایک چیز بنا لیتی ہوں ۔۔۔۔تو یہ اسکی سنگین
غلطی کہلائے گی کیونکہ گھر کا ایک ایسا فرد ضرور ہوگا ۔ ویسے ایک سے ذیادہ
بھی ہو سکتے ہیں جو کہ اعتراض کرے گا فلاں چیز کیوں
نہیں بنائی۔
اور یہ کیا صرف 'اااااااایک چییییییز۔'۔۔۔۔۔۔۔۔


اس کو اس دن وہی کھانی ہوگی۔
اسی لئے اِدھر اَدھر سے یہ صدا بھی آتی ہے کہ روزے فرض ہیں یہ پکوڑے سموسے
کس نے فرض کئے ہیں۔

ایک بہت مزے کی ویڈیو دیکھی کہ ایک پکوڑوں کی دکان میں موٹی سی توند والے صاحب پکوڑے
بیچنے بیٹھے ہیں وہ اپنے
بال نوچ رہے ہیں انکے سامنے بڑے سے کڑاہے میں پکوڑے موجود ہیں۔ پس منظر میں لوگوں
کا شور سنائی دے رہا ہے جو کہ پکوڑے مانگ رہے ہیں اور دکاندار سر پکڑے کہہ رہا ہے
تل جائیں گے تو دوں گا۔۔۔ نا۔۔۔


جب میں نے لکھنے سے پہلے ریسرچ کی کہ ہم لوگ رمضان میں کتنا وزن کم کر سکتے ہیں
یا کم کرنے کے لئے ہاتھ پیر مار سکتے ہیں
تو مجھے پتہ لگا کہ ہم رمضان میں محض ایک کلو ہی کم کر پاتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ ہم افطار وسحر
میں اتنا کچھ کھا چکے ہوتے ہیں۔۔۔۔ کہ۔۔۔
کسی بھی طعام کے بغیر بارہ گھنٹے گزار دینے کے باوجود بھی ہم سائز میں جوں کے
توں ہی رہتے ہیں۔

مگر فیزیکل ایکٹیویٹی سے سستی برتنا ہمیں وزن کم نہیں کرنے دیتا بلکہ اتنا کچھ کھا بیٹھنا ہمارا وزن
بڑھا چکا ہوتا ہے۔

سپر سٹورز پر دوران رمضان جو مختلف پیکجز متعارف کروائے گئے ہیں کہ چاہیں تو دینے
کے لئے خریدیں یا اپنے استعمال کے لئے خریدیں۔ ان میں جو سب سے آگے چیز موجود ہے وہ
میٹھے شربت کی بوتل۔

بہت سی ریلز اور افطاریوں کے تجربات
سے آپکو یہ بھی پتہ لگ رہا ہوگا کہ ہر گھر میں دیگر مشروب پیچھے ہٹا کر
اسی سے روزے کی افطاری۔۔۔۔۔ محبوب ۔۔۔۔۔۔بن جاتی ہے۔ پورا سال اسکو کوئی پوچھتا نہیں مگر
رمضان میں لو بلڈ لیول میں شوگر کی 'مقدار' بڑھانےکے لئے اسی کو من پسند سمجھا جاتا ہے ۔


پھر جگہ جگہ لگنے والے افطاری بوفے یا سستی افطاری آفرز نے مت ماری ہوئی
ہے اتنے لوگ تراویح میں نہیں ملیں گے جتنے آپکو ایسی جہگوں پر ملیں گے۔
بیچنے والا اپنی پراڈکٹ بیچے گا ہی بیچے گا ۔
اب یہ آپکی سمجھ پر ہے آپ موقع محل صحت وقت سب کی سمجھ بوجھ اور جوڑ توڑ کر کے لیتے ہیں۔
یا انے واہ آفر قبول کر لیتے ہیں۔

یا صرف دوہزار میں انیس ڈشز والی پارٹی پر دوڑ پڑتے ہیں۔
کبھی کبھار ذائقہ بدلنے کے لئے باہر کا کھانا یا 'جنک' کھانا ایک الگ بات ہے۔
پھل یا دیگر کھانے کی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہوتی ہیں۔ مگر۔۔۔ پزا، برگر، شوارمہ، رول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہنگا ہونے کا
کسی نے آج تک شور نہیں کیا۔
اگر قسمت سے کوئی فروٹ چاٹ بنا ہی لی جائے تو پیالی کے پیندے میں فروٹ چاٹ اور
پکوڑوں کا ایک پہاڑ آپکو پلیٹ میں نظر آئیگا۔

ایک حقیقت ہے کہ جس طرح کی چیزیں آپ ذیادہ تر کھاتے ہیں پھر ۔۔۔۔۔آپکی زبان کا ذائقہ بھی
ویسا ہی بن جاتا ہے۔
ہمارے ٹیسٹ بڈز جو کہ زبان پر
موجود سینسرز ہیں ہمیں میٹھا نمکین ترش ذائقے کی پہچان دیتے ہیں۔
انکو بھی آپ جیسے پالتے جائیں گے یہ پلتے جائیں گے۔
اسکی سب سے عام وضاحت جو میں دے سکتی ہوں
آپ بچوں کو دیکھ لیں وہ جس طرح کی مٹھاس سے بھری چاکلیٹس کھاتے ہیں
ان سے تھوڑے بڑے 'بچے' اتنی مٹھاس نہیں کھا سکتے
وہ تھوڑا سا ٹیسٹ بڈز بہتر ہو جانے کی وجہ سے کم مٹھاس والی چیزیں کھاتے نظر
آئیں گے۔
یہ اور بات ہے اشتہارات پوری طرح مٹھائی کی جگہ بڑوں میں بھی چاکلیٹ کی
روایت فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔
اگر ہم کچی سبزیاں کھائیں اور تازہ پھل کھانے لگیں تو بھی ہمیں انکا ذائقہ آہستہ آہستہ
اچھا لگنے لگے گا۔
نیک نیتی شرط ہے۔ کھا کر دیکھنا شرط ہے۔
مگر کوئی آزمانا چاہے تب نا۔۔۔۔۔

دودھ دہی پھل سبزی گوشت دالیں گھر کی بنی روٹی

یہ چیزیں اب شاید بے کار اور ناکارہ سمجھی جانے لگی ہیں جب سے فوڈ ڈیلیوریز
آئی ہیں۔
ہاں صحت بخش چیزوں کی قیمت پکانے کا طریقہ پکانے والے کے پاس موجود وقت
کھانے والوں کے نخرے بہت کچھ اس بارے میں بھی ڈسکس کیا جاسکتا ہے
لیکن اختتام پر صرف
بڑھاپے میں بیماری آنا لازم
مگر جوانی میں اچھا کھانا مزید پیچیدگی کو فروغ دینے سے روک سکتا ہے۔
آزمائش شرط ہے۔


sana
About the Author: sana Read More Articles by sana: 275 Articles with 357161 views A writer who likes to share routine life experiences and observations which may be interesting for few and boring for some but sprinkled with humor .. View More