ازراہ تفنن عرض ہے

محمد مستقیم

اس بندہ ناچیز کی بات سنجیدہ نہ سمجھی جائے مگر سیاست تو ہوئی ہے۔ میری مراد آنکھ سے ہے۔ وہ ہی آنکھ جس کو وقت کے آرمی چیف میں قوم کا باپ اور صحافیوں میں غدار دکھتا تھا ۔ جس آنکھ کو مریم کےچچا تو نالائق مگر بزدار میں شاہ سوار دکھتا تھا۔ خیر۔۔
وقت نے آخر پلٹا کھایا۔ آنکھ کو ماتھے سے جگہ پر لے آیا۔ جب موصوف کا یہ سب دیکھ کر جی بھر آیا۔ امریکہ سے سائفر منگوایا ۔ اور قوم کو سب دیکھایا۔ اداروں کو بھی تو کیا خوب آزمایا۔مگر قوم نے بھی اسکا ماضی یاد دلایا۔موصوف نے خود کو نادم ظاہر کرایا۔ غلطی ہو گئی کہہ کر خوب ور غلایا۔ پھر ‌‌قوم نے اس کو دل میں بسایا۔ لیڈر لیڈر کہہ کہ خوب بہلایا۔ الیکشن کا دن جو آیا۔ آخرعوام نے بھی وعدہ نبھایا۔ اور خوب گرم جوشی سے اس کو جتوایا۔
لیکن! لیکن وقت ابھی تک اپنی جگہ براجمان تھا۔ ہوائیں مخالف تھیں۔ مگرتو موصوف کو اب ہر صورت تخت چاہیے تھا۔ گزشتہ سال کی گئی اپنی بغاوتی مہم جوئیوں سے سبق نہ لیتے ہوئے پھر سے بغاوت کا منصوبہ بنایا ۔ اور معصوم غریب عوام کو مروایا۔انہی تمام ہنگاموں کے دروان ، سننے میں آیا تھا کہ دور کسی ریاست میں ایک بادشاہ کی تقرری ہونے جارہی۔ اب وہ ہی ہے جو موصوف کی کشتی کو اس منجد ھار سے نکالے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے ہمارے حاکم اعلیٰ نے بھی اس بادشاہ سے تعلقات بہتر کرلیے۔ اور بیٹھا رہ گیا وہ پھر اکیلا- خیر ایسے وقت میں ہی تو بہن بھائی کام آتے ہیں ۔ افسوس ! بھائی تو کوئی تھا نہیں۔ مگر بہنیں بھائیوں سے کم تھوڑا ہی نہ تھیں۔ بس پھر کیا ،بہنیں بھائی کے ‎شانہ با شانہ کھڑی ہو گئیں اور دنیا کو بھائی بن کر بھی دیکھایا ۔ اس سارے عمل سے پارٹی بپّھر گئی۔ اپنی اپنی جگہ کا سب کو فکر لاحق ہوگیا۔ پارٹی رہنما تو شایدبڑے عہدوں کے لالچ میں اس جماعت کے ساتھ تھے ۔کیونکہ یہ وہ واحد جماعت تھی جو موروثی سیاست کا رد کرتی تھی۔شاید سب کو ہی امید تھی کہ موصوف کا کوئی اپنا قریبی رشتہ دارتو اسطرح سے سیاست میں متحرک نہیں ہے لہذا عہدے تو ہمیں ہی ملیں گے۔ مگربہنیں اور کوئی انقلاب لائی یا نہیں۔ مگر موروثیت کا خطرہ ضرور ساتھ لے آئی تھی۔ اور باقی جماعت کو یہ بات گوارہ نہ تھی۔ پس جماعت میں ذاتی کشیدگیاں بڑھنے لگیں ۔ حکومت اس سب معاملات کے دوران اپنے پاؤں جما چکی تھی۔ اورحکومت کے قریب ان کا ڈر تو مانوں ختم ہی ہو گا کیا تھا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکل کر آیا کہ حاکم اعلیٰ نے جیل میں بیٹھے موصوف سے ملاقات کا حق بھی چھین لیا۔ بات گھوم گھما کے پھرسے آنکھ پر ہی آ رو کی ۔ ایک آنکھ کیا بند ہونے کی نہج پے آئی ،حاکم اعلیٰ اور حکومت کی دونوں آنکھیں کھل کے رہ گئی ۔ بات کافی چھپائی گئی۔ مگر بات کو تو باہر آنا ہی تھانہ اک روز ۔ اصل کھیل تو مانو اب شروع ہوا۔ بات کوحسب ضرورت کافی گھمایا گیا۔ بہت کوشش کی عوام کو الجھانے کی۔ بہرکیف کرتے کراتےکچھ راز عیاں کرنا پڑے۔ اپنا تین ماہ پرانا اور متعداد سفر سے سرشار جہاز بھی عوام کو دیکھنا پڑا ۔ جو شایدچھ ماہ تک اور جھپایا جاسکتا تھا۔کیونکہ جہاز روز تھوڑا ہی نہ لیا جا سکتا ہے ۔ لہذا سوچ سمجھ کے ،کوئی بڑی کاروائی چھپانے اورعوام کا دھیان ہٹانے کےلے ہی اس کا استعمال کیاجانا تھا۔ خیرعوام نےبھی جہاز پر تنقید تو خوب کی ۔مگراس سب میں آنکھ نہ بھول پائی ۔
لیکن جب سے عوام نے ا پنی انکھیں اسرائیل ایران جنگ پےکی ہیں۔ تب سے حضرت کی آنکھ کا تو کوئی پر سان حال ہی کوئی نہ رہا ۔ اب تو بس اس روز کا انتظار ہےمجھے ۔ جب پھر سے اک عشق کپتان میں غارت اٹھ کر بولے گا ۔
"جب کوئی اور حربہ کام نہ آیا ، تو حاکم اعلیٰ اور حکومت کے حمائتی اس ہی دوووور کی ریاست کے اسی بادشاہ نےمحض ان سب کو قیدی کے قہر سے بچانے اور عوام کا دھیان موصوف کی آنکھ سے ہٹانے کے لیے ایران پر حملہ کردیا!!!"
ازرہ تفنن عرض ھے

 

 

 

Muhammad Mustaqeem
About the Author: Muhammad Mustaqeem Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.