سطح آب پر تیرتے ؒ گاؤں منچھر جھیل میں کشتیوں پر بسا گاؤں، معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے
رپورٹ: رفیع عباسی
دنیا کے مختلف ممالک میں سطح آب پر بسی بستیوں کے بارے میں تو پڑھتے رہتے ہیں، جو دریا یا سمندر میں بانس اور شہتیروں کی مدد سے بنائے گئے جھونپڑوں پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ میانمار کی ریاست ’’شان‘‘ میں ضلع ٹانگی کے ’’نیاشیو‘‘کے قصبے کے نزدیک سطح سمندر سے 2900فٹ کی بلندی پر ’’انلے جھیل ‘‘ میں درختوں کے بڑے بڑے تنوں کی مدد سے مضبوط پلیٹ فارم بنا کر ’’لارپاگاؤں‘‘ بسایا گیا ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ویت نام میں خلیج ’’ہالانگ‘‘ میں بڑی بڑی کشتیوں پر بانس اور کھپریل کی مدد سے گھر بنائے گئے تھے جو بعد میں بستی کی صورت اختیار کرگئے۔ تھائی لینڈ کے صوبے’’پھانگ نگا‘‘ کے ضلع ’’ موئنگ ‘‘میں 360 گھروں پر مشتمل کشتیوں پر بسا’’ کوپانی‘‘ گاؤں ہے۔18ویں صدی عیسوی میں ملائشیا کی مسلمان برادری کے نومیڈک قبیلے کے افراد ملائشیا سے ہجرت کرکے تھائی لینڈ کے مو ئنگ ضلع میں آباد ہوئے اور سطح آب پر کشتیوں کے گھر بنا کر رہنے لگے۔ اسے ’’پالاؤچی‘‘ گاؤں کہا جاتا ہے۔ جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں ’’پونو‘‘ شہر کے قریب جھیل ’’ٹی ٹی کاکا‘‘میں یورو قبیلے کےافراد تورا نامی سرکنڈوں سے تعمیر کیے ہوئے مصنوعی جزائر پر رہتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ بات باعث مسرت ہے کہ ہمارے ملک کو بھی سطح آب پر تیرتے ہوئے گائوں کا حامل ہونے کا اعزاز ہے۔ صوبہ سندھ کی منچھر جھیل میں کشتیوں پر بسا ایک گاؤں موجود ہے جس میں درجنوں خاندان کئی پشت ہا پشت سے اس میں مقیم ہیں۔ قارئین کی یاددہانی کے لئے عرض ہے کہ سندھ سمیت دنیا کی مختلف تیرتی ہوئی بستیوں کے بارے میں، میں نے نومبر 2019 اور جنوری 2021میں مضامین تحریر کیے تھے جو روزنامہ جنگ اور بعد ازاں پاکستان و غیر ملکی اخبارات کے علاوہ بین الاقوامی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوئے تھے۔ سندھ کے اس تیرتے گاؤں کے باسیوں کا رہن سہن زمانہ قدیم کے باشندوں کی طرز رہائش سے مماثلت رکھتا ہے۔ کشتیوں پر بنا پاکستان کا یہ منفرد گاؤں سیہون شریف سے 20 اور کراچی سے 280 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق منچھر جھیل موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے بھی زیادہ قدیم ہے اور اس کے کھنڈرات سے ملنے والی کشتی کی شبیہ بالکل ویسی ہی کشتیوں جیسی ہے، جو منچھر جھیل میں مچھلیوں کے شکار کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ مؤرخین کے مطابق ،جس زمانے میں موئن جو دڑو کی تہذیب زوال پذیر تھی اور اسے قدرتی آفات کا سامنا تھا، تو اس وقت یہاں کے باشندوں نے سندھ کی جانب ہجرت کی۔ مہاجروں کی بڑی تعداد سیہون کے قریب منچھر جھیل کے کنارے آباد ہوگئی جو بعد میں جھیل کے درمیان کشتیوں پر جھونپڑے بنا کر رہنے لگے ۔ اس جھیل کو ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کہا جاتا ہےجب کہ یہ پاکستان کے بڑے آبی ذخائر میں سے ایک ہے۔ منچھر جھیل کب وجود میں آئی، اس کے بارے میں متضاد آراء ہیں۔ قدیم آثار کے محققین کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ جھیل قدامت میں موئن جو دڑو اور ہڑپہ تہذیب سے کسی طور کم نہیں۔ سندھ کے قدیم دانشوروں نے ان محققین کی تحقیقی رپورٹ مسترد کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1930میں سکھر بیراج کی تعمیر کے وقت یہ جھیل بھی معرض وجود میں آئی تھی۔ کراچی سے ضلع دادو کی جانب سفر کریں تو جوہی تعلقہ میں کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ منچھر جھیل میں پانی کا منبع بلوچستان کی کیرتھر پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والے پانی کا مرہون منت ہے۔ بارش کا پانی بھی جھیل کی سطح آب میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کا رقبہ 350مربع کلومیٹر سے 520 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ منچھر جھیل جھانگارہ سے شاہ حسن بوبک تک پھیلی ہوئی ہے ۔خوب صورتی اور دل موہ لینے والے مناظر کی وجہ سے اس کا شمار سندھ کے پرکشش تفریحی مقامات میں ہوتا ہے۔ جھیل کی سیر کے لئے ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ ویسے تو قدرتی مناظر اور جنگلی و آبی حیات کی موجودگی کی وجہ سے یہ جھیل دنیا بھر میں معروف ہے لیکن اس کا اصل حسن سطح آب پر دیار کی لکڑی سے تیار کی گئی کشتیوں پر ہچکولے کھاتی بستی سے ہے۔ یہاں آنے والے سیاح حیدرآباد سے گزرتے ہوئے سیہون پہنچتے ہیں۔ وہاں سے بیس کلومیٹر مزید سفر طےکرکے منچھر جھیل آتے ہیں۔ جھیل کے کنارے بنے گھاٹ سے کرائے پر کشتی لے کر پاکستان کے سب سے بڑے عجوبے، سطح آب پر تیرتے ہوئے گائوں پہنچتے ہیں۔ وہ گائوں کے باسیوں کے طرز معاشرت ، بود و باش، تہذیب و ثقافت کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس گاؤں میں ’’موہانا‘‘ قبیلے کے افراد رہتے ہیں، جنہیں ’’ میر بحر ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔یہ قبیلہ گزشتہ کئی نسلوں سے کشتیوں پر تعمیر کی گئی جھونپڑیوں میں فطرت سے قریب تر ماحول میں زندگی گزار رہا ہے۔ ان کی کشتیوں پر نہ تو روشنی کا انتظام ہے ، نہ گیس اور پینے کے صاف پانی کی سہولت موجود ہے۔ انہیں زندگی کی بنیادی ضرورتیں اور آسائشیں بھی میسر نہیں۔لیکن موہانہ یا میر بحر قبیلے کے افراد اس دشوار گزار زندگی کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہاں کے رہائشیوں کے مطابق چند عشرے قبل تک اس جھیل میں 400 کشتیوں پر محیط وسیع و عریض جھونپڑ پٹی آباد تھی جس میں ہزاروں افراد رہائش پذیر تھے۔ان کا ذریعہ معاش ماہی گیری تھا۔ لیکن جھیل میں آلودگی کے باعث معاشی مسائل اور روزگار کے مواقع کم ہونے کے بعد زیادہ تر خاندان ہجرت کرکے سندھ کے مختلف علاقوں میں جا بسے۔ کشتیوں پر بنے گاؤں کے باسیوں کا رہنا سہنا،کھانا پینا، اٹھنا ، بیٹھنا، سوناحتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقریبات اور میت کی آخری رسومات بھی کشتیوں پر بسے گاؤں میں ادا کی جاتی ہیں۔ سطح آب پر تیرتے گھروں کی تعمیر کے لیے دوکشتیاں جوڑ کر ان پر چھپر ڈال دیاجاتا ہے، جو جھونپڑی کی طرح معلوم ہوتا ۔ یہ چھپرسطح آب پر رہنے والے باسیوں کو دھوپ، سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں اور بارش سے محفوظ رکھتا ہے۔ برسات کے دنوں میں جب جھیل میں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ان کشتیوں کو کنارے پر لگادیا جاتا ہے۔پانی کی سطح پر بنے گھروں کے اندر بانس اور چٹائیوں کی مدد سے کمپارٹمنٹ بنائے جاتے ہیں جن میں چارپائیاں بچھی ہوتی ہیں۔ کشتی کے ایک حصے میں جھولے ڈالے جاتے ہیں، جن میں بستی کے مکین اپنے بچوں کو سلاتے ہیں یا خواتین جھولے کے ہچکولوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ پانی کی ٹنکیاں،برتن،باہر رسی پر لٹکےرنگ برنگے کپڑے، تیرتی ہوئی بستی کے مکینوں کا کل اثاثہ ہیں۔ دن کے اوقات میں ان رنگین رلّیوں کو کشتی کے چھپروں پر ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس تیرتے گاؤں کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔جھیل کے سینے پر تیرتی ہر جھونپڑی میں آٹھ سے دس افراد رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میر بحر قبیلے کی روایات کے مطابق شادی کے وقت دولہا والوں کو نوبیاہتا جوڑے کے لیے ایک کشتی پر علیحدہ کشتی گھر بنانا ہوتا ہے جو دولہا کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ ایک بڑی سی کشتی پر گھر کی تعمیر کے لیے رقم پس انداز کرتا ہے۔ گاؤں کے باسیوں کا پیشہ ماہی گیری ہے۔ بڑی کشتیوں کے ساتھ گاؤں کے ہر خاندان کے پاس ایک چھوٹی کشتی بھی ہوتی ہے۔ میر بحر قبیلے کے افراد کشتی پر بیٹھ کر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ رات کے اوقات میں یہاں ہر سو گھپ اندھیرا چھاجاتا ہے ۔سطح سب پر بنے گھروں کے مکین موم بتی، چراغ یا لالٹین جلا کراہنے گھروں جو روشن کرتے ہیں۔ جھونپڑی کے ایک حصے میں انہوں نے مٹی کے چولہے بنائے ہوئے ہیں ۔ جھیل میں کنول کی بیلوں کی بہتات ہے، زیادہ تر افراد، کنول کے بیج، کلیوں اور اس کی جڑوں کو بطور سبزی پکا کر کھاتے ہیں، جو ان کی مرغوب غذاہے۔ خواتین کشتیوں پر ہی کپڑے دھونے کے بعد بانسوں پر بندھی رسیوں پر ڈال کر سکھاتی ہیں۔ اکثر گھروں کی طوالت 45 فٹ جب کہ چوڑائی 32 فٹ ہوتی ہے۔ سردیوں میں سائبریا اور دیگر سرد ممالک سے پرندے منچھر جھیل کی طرف ہجرت کرکے آتے ہیں۔ ان پرندوں میں ہنس لاکو جانی، راج ہنس، گنگ مرغیاں اور مختلف اقسام کی بطخوں کے علاوہ کلغی دار مرغ کے علاوہ دیگر پرندے شامل ہیں ۔ سائبیرین پرندے طویل پرواز کے بعد تھک کر سستانے کے لیے ان کشتیوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں جنہیں وہاں موجود افراد ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتے ہیں۔ بعد میں وہ ان پرندوں کوبازار لے جا کر فروخت کرتے ہیں ۔ پرندوں کی فروخت سے انہیں معقول رقم حاصل ہوتی ہے، جس سے یہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ جھیل کے وسط میں ایک مزار ہے جو عدم توجہی کے باعث جھیل میں اگنے والی خودرو جھاڑیوں کی آڑ میں چھپ گیا ہے۔پندرہ سال قبل تک منچھر جھیل میں 400 اقسام کی آبی حیات موجود تھیں جن کا شکار کرکے ماہی گیر افراد خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ اب یہاں کی معاشی صورت حال انتہائی ابتر ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا یہ تیرتا ہوا گاؤں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ منچھر جھیل کے گردو نواح میں صنعتوں کے قیام کی وجہ سے فیکٹریوں کا سارا فضلہ اور کیمیاوی مادہ بہہ کر جھیل میں گر تا ہے ۔جھیل کے پانی کے زہریلے اثرات کے نتیجے میں 360اقسام کی مچھلیاں مرچکی ہیں اور صرف 40 اقسام باقی بچی ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کے باعث مہاجر پرندوں کی آمد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔اس صورت حال کی وجہ سے ماہی گیروں کو اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنا دشوار ہورہا ہے۔دوسری جانب بستی کے لوگ پوری جھیل میں تلاش بسیار کے بعد جو مچھلی پکڑتے ہیں انھیں تھرڈ مین یعنی ایجنٹ کم قیمت میں خریدتا ہے جب کہ خود بازار میں چار گنا زیادہ نرخوں پر فروخت کردیتا ہے۔ ان وجوہات سے یہاں کےزیادہ تر باسی نقل مکانی کرچکے ہیں اور اب اس میں موہانہ یا میر بحر قبیلے کے افراد کی انتہائی قلیل تعداد بچی ہے ، جو معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر کسی وقت بھی یہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں جس کے بعد عالمی اہمیت کے حامل پاکستان کے ’’تیرتے ہوئے گاؤں‘‘ کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اہم قومی ورثے کے تحفظ کے لیے دور رس اقدامات کی ضرورت ہے۔ سطح آب پر آباد گاؤں دنیا کے دیگر ممالک کی حکومتوں کی جانب سے دیکھ بھال کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ لیکن پاکستان میں کشتیوں پر بسے گاؤں سے سندھ سمیت پاکستانی عوام کی اکثریت ناواقف ہے۔ جھیل میں زہریلے مادے کی آمیزش کے بعد آبی حیات کو خاصا نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سطح آب پر بسے اس گاؤں کے باسیوں کے روزگار کے مواقع کم ہوگئے ہیں اور وہ نقل مکانی پر مجبور ہورہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے جھیل پر بسے اس گاؤں کے ماہی گیروں کو صوبائی و وفاقی وزارت سیاحت و ثقافت کی جانب سے متبادل روزگار فراہم کیا جائے۔ میر بحر قبیلے کی خواتین و بچیوں کو حکومتی سطح پر فنی تربیت کی فراہمی کے لیےکشتیوں پر بنے گھروں میں فنی تربیت کے ادارے اور دستکاری مرکز قائم کیے جائیں۔ کشتیوں پر بنکاک کے آبی بازار کی طرز پر کشتیوں پر تیرتے ہوئے بازار بنائے جائیں جن میں خواتین کے ہاتھ سے تیار کی گئی دستکاری ، اشیائے خورونوش و ضروریات جھیل کی سیر کے لیے آنے والے ملکی و غیرملکی سیاحوں کو فروخت کی جائیں۔ پاکستان کے تیرتے ہوئے گاؤں کی طرف سیاحوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ذرائع ابلاغ پر تشہیر ضروری ہے۔ منچھر جھیل کی سیاحت کے لیے آنے والے سیاحوں کو ضروری سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ سطح آب پر شب بسری کے لیے سیاحوں کے لیے ’’بوٹ ہاؤسز‘‘ تعمیر کیے جائیں۔ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں کراچی کی ایک این جی او، دعا فاؤنڈیشن کے ارکان نے منچھر جھیل اور کشتیوں پر بسے گاؤں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر دعا فائونڈیشن کی جانب سے گاؤں کے باسیوں میں راشن کے تھیلے تقسیم کیے گئے۔ بچوں اور بڑوں کے لیے عید کے ملبوسات، دو درجن خاندانوں کو فی خاندان 5 ہزار روپے کی نقد رقم عیدی کی صورت میں لفافوں میں بند کرکے دی گئی۔ اس موقع پر دعا فاؤنڈیشن کے سربراہ عامر خان نے وہاں موجود اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس قومی ورثے کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس منفرد گاؤں کو معدومیت سے بچانے کے لیے یہاں کے باسیوں کو روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کی کوششیں کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ دعا فاؤنڈیشن خدمت خلق کے جذبے کے تحت کام کررہی ہے، اس کا حکومت یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ اس گاؤں کے مسائل کےحل کے بارے میں سندھ و وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام سے گفتگو کریں گے۔ |