ہماری کائنات

*ہماری کائنات*
*The Universe*

ہماری کائنات


*ہماری کائنات*
*The Universe*

اسلام علیکم
کچھ سال پہلے کیمبرج میں او اور اے لیول کے فزکس کے نصاب میں ایک نیا حصہ شامل کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے "دنیا، خلا اور کائینات" طلبہ کو پڑھانے سے پہلے میں نے اس نئے حصہ کو پڑھنا شروع کیا۔ اور پڑھ کر مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس میں بنیادی طور پر مندرجہ ذیل مضامین ہیں
1. ہمارا نظام شمسی
2. ستاروں کے پیدائیش اور فنا ہونے کے مراحل
3 ۔ Big Bang اور کائینات کا پھیلنا۔ Expansion of Universe
4. کائنات کی عمر

یہ تمام مضامین اتنے دلچسپ، عام فہم، حیدت انگیز ہیں اور اتنے اچھے طریقے سے لکھے گئیے ہیں کہ گویا میرے لئیے یہ سب قرآن مجید کی آیات کی تشریح پیش کر رہے ہیں۔
جب ہم یہ مضامین پڑھاتے ہوۓ بڑے بڑے سائینس دانوں جیسے البرٹ آینسٹائن، ایڈون ھبل وغیرہ کے نام بتاتے ہیں کہ جنھوں نے صرف اس کائنات کا مشاہدہ کیا اور زمین پر بیٹھ کر اپنے علم کے مطابق اس کی وضاحت کی، تو الله تعالٰی کی ذات کہ جس نے یہ کائنات پیدا کی ہے اور پھر اس کو چلا بھی رہا ہے، ایسی ذات کا ذکر نہ کرنا کیا یہ انصاف ہو گا؟
ان مضامین کی ساری تشریح اور وضاحت قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں موجود ہے۔
ان میں سب سے زیادہ دلچسپ حصہ کائنات کی پیدایش، کائنات کا پھیلاو اور کائنات کی عمر کے بارے میں ہے۔ آخر زمین پر رہتے ہوۓ ہمیں کیسے پتہ چلا کہ کائنات پھیل رہی ہے؟ اس کا جواب البرٹ آینسٹائین بھی نہ دے سکا تھا بلکہ اس کے ایک ہم عصر ایڈون ھبل نے دیا اور یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔
اسی طرح کائنات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روشنی جو کہ تین لاکھ کلو میٹر ایک سیکنڈ میں طے کرتی ہے اسے صرف ایک ہماری کہکشاں، جسے Milky way بھی کہتے ہیں، کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے کے لئیے تقریباً ایک لاکھ سال کا وقت چاہیے۔ یعنی ایک لاکھ نوری سال۔ اور ایسی کئی اربوں کھربوں، کہکشایں ہماری کائنات میں موجود ہیں۔ *سبحان الله۔*
اس وسیع کائنات کے بعد الله تعالٰی کے بناۓ ہوۓ اور آسمان اور ان کے اوپر الله تعالٰی کا عظیم تخت۔ یعنی الکرسی۔
گویا الله تعالٰی کتنے بڑے ہیں ہمارا دماغ اس بات کا ادراک نہیں کرسکتا۔ الله اکبر۔
اسی حقیقت کو اردو کے مشہور شاعر خواجہ میر درد نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

 

 

 

Mohsin Manzoor
About the Author: Mohsin Manzoor Read More Articles by Mohsin Manzoor: 5 Articles with 5874 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.