دنیا کی بڑی مذاہب میں آخری زمانے، فتنوں اور ایک ایسی گمراہ کن طاقت کے بارے میں تصورات موجود ہیں جو انسانیت کو دھوکے میں ڈالنے کی کوشش کرے گی۔ اسلام میں اس کردار کو دجال کہا جاتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی نوعیت کا تصور دیگر مذاہب میں بھی کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دجال صرف اسلامی عقیدہ ہے یا مختلف مذاہب میں اس کی کوئی مشترکہ جھلک بھی موجود ہے؟
اسلامی عقیدے کے مطابق دجال ایک ایسا فتنہ ہوگا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا اور لوگوں کو جھوٹی طاقتوں اور کرشموں کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ احادیث میں اسے تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آخرکار اس فتنہ کا خاتمہ Isa ibn Maryam کے ہاتھوں ہوگا، جو دوبارہ زمین پر آ کر حق کو غالب کریں گے۔
لیکن اگر ہم دیگر مذاہب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی نوعیت کا تصور وہاں بھی موجود ہے۔ عیسائیت میں ایک کردار کا ذکر ملتا ہے جسے Antichrist کہا جاتا ہے۔ بائبل کی مختلف تفاسیر میں Antichrist کو ایک ایسی طاقت یا شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو مسیح کی تعلیمات کے خلاف کھڑی ہوگی اور دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ عیسائی عقیدے کے مطابق آخرکار اس طاقت کو Jesus Christ شکست دیں گے۔ اس تصور اور اسلامی عقیدے میں دجال کے بارے میں بیان کردہ خصوصیات میں کئی مماثلتیں نظر آتی ہیں۔
یہودی مذہب میں بھی آخری زمانے کے حوالے سے مختلف تصورات موجود ہیں۔ بعض روایات میں ایک ایسے جھوٹے نجات دہندہ کا ذکر ملتا ہے جو لوگوں کو دھوکہ دے گا اور خود کو حقیقی مسیحا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے مقابلے میں حقیقی مسیحا یعنی Messiah کے آنے کا عقیدہ بھی موجود ہے جو دنیا میں انصاف قائم کرے گا۔
ہندو مت میں اگرچہ دجال جیسی کوئی واضح شخصیت بیان نہیں کی گئی، مگر “کلی یگ” کے تصور میں ایک ایسے دور کا ذکر ملتا ہے جس میں جھوٹ، فریب اور اخلاقی زوال عام ہو جائے گا۔ اس دور کے اختتام پر ایک نجات دہندہ کے آنے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جسے Kalki کہا جاتا ہے۔ بعض مفکرین اس تصور کو بھی آخری زمانے کے فتنوں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
ان مختلف مذاہب کے تصورات کا تقابل کیا جائے تو ایک مشترکہ خیال سامنے آتا ہے: دنیا میں ایک ایسا دور آئے گا جب جھوٹ اور فریب طاقتور ہو جائیں گے اور انسانیت کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ساتھ ہی یہ امید بھی دی جاتی ہے کہ آخرکار سچائی اور انصاف کی فتح ہوگی۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بہت سے جدید مفکرین دجال یا اس جیسے کرداروں کو صرف ایک شخص کے طور پر نہیں بلکہ ایک نظام یا نظریے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ فتنہ کسی ایک انسان کی صورت میں ظاہر ہونے کے بجائے ایسی طاقتوں کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو انسان کو مادیت، جھوٹ اور طاقت کے فریب میں مبتلا کر دیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دجال کا تصور صرف ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں آخری زمانے کے فتنوں کے بارے میں ملتے جلتے خیالات موجود ہیں۔ اگرچہ ہر مذہب کی اپنی تعبیر اور تفصیل ہے، مگر بنیادی پیغام تقریباً ایک جیسا ہے: انسان کو فریب اور گمراہی سے بچ کر حق اور سچائی کے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔ شاید یہی وہ مشترکہ سبق ہے جو مختلف مذاہب کے یہ تصورات انسانیت کو یاد دلاتے ہیں۔ |