خاموش چیخیں — پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی حقیقت

حریر: اقرا یونس

میں، اقرا یونس، کافی عرصے سے اس موضوع پر لکھنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ہر بار کوئی واقعہ، کوئی خبر، کوئی جنازہ — دل میں ایک سوال چھوڑ جاتا تھا کہ آخر کب تک؟ کب تک انسان اپنی شناخت کی بنیاد پر مارا جاتا رہے گا؟ آج میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان خاموش چیخوں کو لفظوں میں ڈھالا جائے۔
اکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جہاں تمام مسالک اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تشدد نے اس معاشرے کو گہری تقسیم کا شکار کر دیا ہے۔ خاص طور پر شیعہ کمیونٹی کے خلاف ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور حملوں نے ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔اریخی پس منظر

شیعہ سنی اختلافات کی جڑیں اسلامی تاریخ میں موجود ہیں، لیکن برصغیر میں یہ اختلافات طویل عرصے تک پرامن انداز میں ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ابتدائی دہائیوں میں فرقہ وارانہ تشدد اس شدت سے موجود نہیں تھا۔

تاہم 1980 کی دہائی میں حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن پالیسیوں، اور خطے میں ہونے والی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں، خصوصاً ایران انقلاب اور افغان جنگ، نے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید ہوا دی۔ اسی دوران مختلف شدت پسند تنظیمیں سامنے آئیں جنہوں نے کھلے عام شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانا شروع کیاکستان میں آغاز اور منظم تشدد

1990 کی دہائی میں فرقہ وارانہ تنظیموں نے باقاعدہ شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز، اور علماء کو شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر حملے، پاراچنار میں بم دھماکے، اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ — یہ سب ایک منظم سلسلے کی کڑیاں تھیں۔

اعداد و شمار اور زمینی حقیقت

انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں ہزاروں شیعہ مسلمان فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق 2000 کے بعد سے اب تک ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔

کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی، جنہوں نے بارہا احتجاجاً اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ سڑکوں پر دھرنے دیے، آج بھی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔

اگرچہ نیشنل ایکشن پلان (2015) کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی، لیکن مکمل تحفظ فراہم کرنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔

حالیہ واقعات — ایک تلخ یاد دہانی

حال ہی میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والا حملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آیا کہ فرقہ وارانہ تشدد ابھی ختم نہیں ہوا۔ عبادت گاہیں، جو امن اور سکون کی جگہ ہونی چاہئیں، وہاں خون بہایا جانا نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین حملہ ہے۔

ایسے واقعات صرف متاثرہ خاندانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور تقسیم کو بڑھاتے ہیں۔

ذمہ داری اور ریاستی کردار

ریاست نے مختلف اوقات میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کیں، لیکن مسئلہ صرف تنظیموں تک محدود نہیں۔ نفرت انگیز بیانیہ، تکفیری سوچ، اور مذہب کے نام پر تشدد کو جواز دینا اس مسئلے کی جڑ ہے۔

جب تک ان نظریات کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا، صرف سیکیورٹی اقدامات دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتے۔

اسلام کا پیغام اور اس کی غلط تعبیر

اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، رواداری اور انسانیت کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ کسی بھی فرقے کے خلاف تشدد کو دین کے نام پر جائز قرار دینا اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے — یہ اصول ہمیں یاد رکھنا ہوگا۔

تجزیہ — ہمیں کیا بدلنا ہوگا؟

یہ مسئلہ صرف سیکیورٹی کا نہیں بلکہ سوچ کا بھی ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نفرت کو برداشت کرنا بھی ایک طرح کی شراکت ہے۔

تعلیم، میڈیا، اور مذہبی بیانیے میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اختلاف نفرت کا جواز نہیں بنتا۔

حل کی سمت
نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مستقل اور سخت کارروائی
کالعدم تنظیموں کی حقیقی نگرانی
نصاب میں برداشت اور diversity کی تعلیم
میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار
عوامی شعور کی بیداری
اختتامیہ

یہ صرف شیعہ کمیونٹی کا مسئلہ نہیں — یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شہری غیر محفوظ ہو، تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہوتا۔

یہ وقت ہے کہ ہم مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی نفرت کو مسترد کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر فرد خود کو محفوظ محسوس کرے۔

خاموشی اب حل نہیں — آواز اٹھانا ہوگی۔

 

Iqra Younas
About the Author: Iqra Younas Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.