تحریر: فیصل رضا
آج کا دور ظاہر پرستی اور دکھاوے کا دور ہے۔ ایک طرف شوبز انڈسٹری کے چمکتے دمکتے ستارے ہیں، جو اپنی عریاں حرکتوں، موسیقی کی محفلوں اور فحاشی سے عوام کی آنکھوں میں تارے بن کر چبھ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نوجوان نسل اپنا رول ماڈل سمجھتی ہے، ان کے لباس، انداز گفتگو اور طرز زندگی کی نقل کرتی ہے۔ شوبز کی یہ بدکاری معاشرے کے اخلاقی تانے بانے کو چکنا چور کر رہی ہے، مگر افسوس کہ ہماری تنقید کی نگاہیں انہی تک محدود ہیں۔
لیکن کیا صرف شوبز ہی بدکاری اور گمراہی کا ذریعہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کے بالکل متوازی، ایک اور خطرناک گمراہی ہے جو دین کے نام پر پھیلائی جا رہی ہے۔ وہ ہے نام نہاد صوفیاء اور مشرک جاہلوں کی وہ جماعت، جو خود کو دین کا ٹھیکیدار اور علمبردار بناتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے توحید و رسالت کی تعلیمات کو مسخ کیا، شرک و بدعت کو دین کا حصہ بنا کر پیش کیا اور اسلام کی سادہ، واضح اور فطری تعلیمات کو پیچیدہ اور غیر قرآنی نظریات میں الجھا دیا۔
یہ کالم انہی نام نہاد صوفیاء کے اس کھیل کو بے نقاب کرنے کی ایک کوشش ہے، جو آج کے شوبز ستاروں کی طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور شرک کو توحید کا روپ دے کر پیش کر رہے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو سب سے بڑا جرم اور ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ" (بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ شرک کی کوئی معافی نہیں، اور یہی وہ خط ہے جو اسلام اور شرک کے درمیان حائل ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ" (بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے)
توحید وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کی خاطر اللہ نے تمام انبیاء کو بھیجا۔ قرآن مجید کے صفحات توحید کے اثبات اور شرک کی نفی سے بھرے ہوئے ہیں۔ صوفیاء کے عقائد میں سب سے زیادہ متنازعہ اور شرک آمیز عقیدہ "وحدت الوجود" اور "حلول" کا ہے۔ وحدت الوجود کے فلسفے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے، اس کے علاوہ کوئی اور وجود نہیں۔ اس عقیدے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خالق اور مخلوق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا، بلکہ انسان، حیوانات، نباتات، حتیٰ کہ غلاظت اور شیطان بھی اللہ ہی کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کی صریح تعلیمات کے خلاف ہے، بلکہ یہ توحید کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اگر خالق اور مخلوق میں کوئی فرق نہیں، تو پھر عبادت، حلال و حرام اور جنت و جہنم جیسی کوئی حقیقت ہی باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے اس عقیدے کو کھلا شرک قرار دیا ہے۔ اسی طرح "حلول" کا عقیدہ، جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں حلول کر جاتا ہے، بھی سراسر شرک ہے۔ یہ عقیدہ بھی بعض صوفیاء میں پایا جاتا ہے اور اسے بھی علماء نے کفر و شرک قرار دیا ہے۔ صوفیاء کی تحریر کردہ کتابوں میں شرک اور بدعت کے بے شمار ثبوت موجود ہیں۔ مشہور صوفی بزرگ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
"نبوت کا مقام درمیانی درج ہے ولی سے نیچے اور رسالت سے اوپر"
یہ عقیدہ کہ ولایت (بزرگوں کا درجہ) نبوت سے افضل ہے، اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو تمام مخلوق پر فضیلت دی ہے، لیکن یہ صوفیاء اپنے بزرگوں کو انبیاء پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔
بایزید بسطامی جیسے بڑے صوفی کا ارشاد ہے:
"میں نے سمندر میں غوطہ لگایا جبکہ انبیاء اس کے ساحل پر کھڑے ہیں"
اور مزید کہتے ہیں:
"میرا جھنڈا قیامت کے روز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلند ہوگا" یہ وہی زبان ہے جو آج کے شوبز ستارے استعمال کرتے ہیں، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ شوبز والے براہ راست عریانی اور بدکاری کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ یہ صوفیاء شرک اور گمراہی کو دین کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء کا قول ہے:
"پیر کا فرمان رسول اللہ کے فرمان کی طرح ہے"
یہ عقیدہ کہ کسی پیر کا فرمان رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے برابر ہے، سراسر شرک ہے اور قرآن کی اس آیت کی صریح نفی کرتا ہے:
"مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ" (جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی)
مگر ان صوفیاء نے اللہ اور اس کے رسول کے درمیان اپنے پیروں کو حائل کر دیا ہے۔
تصوف کا ظہور اسلام کے ابتدائی دور میں نہیں ہوا۔ مورخین کے مطابق تصوف کا باقاعدہ آغاز دوسری صدی ہجری کے اواخر میں ہوا۔ امام شافعی نے جب مصر کا سفر کیا تو فرمایا: "میں نے بغداد چھوڑا تو وہاں زندیقوں نے ایک چیز ایجاد کر لی تھی جسے وہ سماع کہتے تھے"
امام شافعی نے یہ بھی فرمایا:
"اگر کوئی صبح کے وقت صوفی بن جائے تو وہ دوپہر سے پہلے ہی بیوقوف بن چکا ہوتا ہے"
یہ ارشادات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ابتدائی علماء کرام نے تصوف کو بدعت اور گمراہی سمجھا اور اسے زندیقیت سے تعبیر کیا۔ امام احمد بن حنبل بھی تصوف کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے صوفیاء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
آج کے شوبز کے لوگ عوام کی آنکھوں میں اس لیے تارے بنتے ہیں کہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنی چمک دمک دکھاتے ہیں، عوام کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور انہیں اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح نام نہاد صوفیاء اور مشرک جاہل، پیروں اور فقیروں کا روپ دھار کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو قبروں پر چڑھاوے چڑھانے، نذریں ماننے، اور ان کے نام پر جانور ذبح کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، جو کہ سراسر شرک ہے۔
شوبز کے لوگ نوجوانوں کو اپنا رول ماڈل بنا کر انہیں بدکاری، بے حیائی اور فحاشی کی طرف راغب کرتے ہیں، جبکہ یہ نام نہاد صوفیاء عوام کو شرک، بدعت اور گمراہی میں مبتلا کر کے ان کی آخرت تباہ کر دیتے ہیں۔ دونوں ہی گروہوں کا طریقہ کار ایک جیسا ہے: لوگوں کو دھوکہ دینا، ان کی جیبیں خالی کرنا، اور انہیں اپنا غلام بنا کر رکھنا۔
یہ نام نہاد صوفیاء دین کے ٹھیکیدار بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ انہوں نے دین کو اپنی ذاتی سلطنت بنا رکھا ہے۔ وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے ان کے بزرگوں کا وسیلہ ضروری ہے، جبکہ قرآن میں واضح طور پر فرمایا گیا:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا" (اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو)
مگر یہ صوفیاء عوام کو سکھاتے ہیں کہ وہ ان کے بزرگوں کو پکاریں، ان کے نام پر نذریں مانگیں، اور ان کی قبروں پر سجدہ کریں۔ یہ سب کچھ شرک اکبر ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔ انہوں نے عوام کو قرآن و سنت سے دور کر کے انہیں اپنی بنائی ہوئی بدعات اور خرافات میں الجھا دیا ہے۔ وہ لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کو سمجھنا عام لوگوں کا کام نہیں، بلکہ اس کے لیے ان کے پیروں کی رہنمائی ضروری ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے شوبز کے لوگ عوام کو سمجھاتے ہیں کہ فیشن اور تفریح کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا کہ جس طرح ہم شوبز کی بدکاریوں پر تنقید کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں ان نام نہاد صوفیاء اور مشرک جاہلوں پر بھی کھلم کھلا تنقید کرنی چاہیے جنہوں نے شرک کو توحید کا نام دے کر پیش کیا۔ یہ دونوں گروہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک براہ راست بدکاری اور فحاشی کی طرف دعوت دیتا ہے، جبکہ دوسرا دین کا روپ دھار کر شرک اور گمراہی کو فروغ دیتا ہے۔
ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں توحید کی تعلیمات کو سمجھنا ہوگا اور شرک کی تمام اقسام سے بچنا ہوگا۔ ہمیں ان لوگوں سے بچنا ہوگا جو دین کے ٹھیکیدار بن کر بیٹھ گئے ہیں اور عوام کو اللہ کے بجائے اپنی عبادت پر آمادہ کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر قائم رہنے اور شرک کی ہر شکل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مضمون نگار: فیصل رضا تاریخ: 04/04/2026
حوالہ جات:
1. قرآن مجید: سورہ نساء آیت 48 اور 116 2. قرآن مجید: سورہ لقمان آیت 13 3. صوفیاء کے عقائد: وحدت الوجود اور حلول 4. محی الدین ابن عربی: نبوت کے متعلق اقتباس 5. بایزید بسطامی: اقتباسات 6. حضرت نظام الدین اولیاء: قول 7. امام شافعی کے اقوال 8. تصوف کی تاریخ 9. شرک کی تعریف
نوٹ: یہ کالم ایک تنقیدی تجزیہ ہے جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق توحید اور شرک کے تصورات کو واضح کرنا ہے۔ کسی بھی شخصیت یا گروہ کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا اس کا مقصد نہیں ہے۔
|