حافظ طاہر محمود اشرفی

مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی حفظہ اللہ: امن، اتحاد اور قومی سلامتی کا روشن استعارہ (تحریر:- عمرفاروق)
۱. مقدمہ اور شخصیت کا تعارف
پاکستان کی سیاسی و مذہبی تاریخ میں متعدد شخصیات نے جنم لیا، لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے علم، بصیرت، اور نڈر قیادت کی بنا پر زمانہ پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی حفظہ اللہ کا شمار انہی ممتاز مذہبی و قومی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کی خدمات صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
مولانا طاہر محمود اشرفی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک جرات مند عالمِ دین، منقح خطیب، زیرک مدبر اور عالمی سطح پر امن و یکجہتی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے مذہبی افکار کو جمود سے نکال کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور مذہب کو انسانوں کو جوڑنے اور امن پھیلانے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا۔
۲. نڈر اور بے باک مذہبی قیادت
مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی حفظہ اللہ کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا بے باک اور نڈر طرزِ عمل ہے۔ جہاں اکثر مذہبی رہنما مصلحت پسندی یا عوامی جذبات کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، وہاں حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب نے ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کیا۔
* انتہا پسندی کے خلاف واضح موقف: انہوں نے فرقہ واریت، تکفیریت اور تشدد کے خلاف ہر فورم پر واضح، سخت اور غیر متزلزل موقف اپنایا۔
* دہشت گردی کی مذمت: جب پاکستان کو دہشت گردی کی خونریز لہر کا سامنا تھا، تو مولانا اشرفی نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہر قسم کی دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف فتاویٰ جاری کیے اور ان کی شرعی و عقلی نفی کی۔
* جرات مندانہ گفتگو: وہ ٹاک شوز، بین الاقوامی کانفرنسوں اور عوامی اجتماعوں میں بغیر کسی خوف یا دباؤ کے ملکی مفاد اور سلامتی کا مقدمہ لڑتے نظر آتے ہیں۔
۳. امن، محبت اور بین المذاہب و بین المسالک اتحاد کا فروغ
مولانا طاہر محمود اشرفی نے "بین المسالک ہم آہنگی" اور "بین المذاہب رواداری" کو اپنی زندگی کا مشن بنایا ہے۔ ان کا مقصد مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو مٹانا اور معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا رہا ہے۔
پاکستان علماء کونسل کا پلیٹ فارم
پاکستان علماء کونسل کے پلیٹ فارم سے انہوں نے تمام مکاتبِ فکر (اہلسنت، اہلحدیث، شیعہ، دیوبندی) کے جید علماء کو ایک میز پر اکٹھا کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام اور ملکی سلامتی پر اتحاد ممکن ہے۔
اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مولانا اشرفی نے ہمیشہ پاکستان میں مقیم غیر مسلم اقلیتوں (مسیحی، ہندو، سکھ وغیرہ) کے حقوق کا تحفظ کیا۔
* جڑانوالہ واقعے یا دیگر نازک صورتحال کے موقع پر انہوں نے ذاتی طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مظلوم اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہو کر امن اور انصاف کا پیغام دیا۔
* انہوں نے توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضابطہ اخلاق کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
۴. ارضِ حرمین شریفین سے خصوصی شغف اور پاک سعودی تعلقات
مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی کا ارضِ پاک کے بعد جس خطے سے سب سے زیادہ والہانہ اور روحانی تعلق ہے، وہ سعودی عرب اور حرمین شریفین (مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ) کا مقدس خطہ ہے۔
ارضِ حرمین ──> پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ──> عالمِ اسلام کا اتحاد

* حرمین شریفین کے تقدس کا دفاع: انہوں نے ہمیشہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تحفظ کو تمام مسلمانانِ عالم کے لیے سرخ لکیر قرار دیا ہے۔
* پاک سعودی سفارتی و دینی پل: مولانا اشرفی نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دوستانہ و اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ وہ سعودی قیادت (خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان) کی عالمِ اسلام کے لیے خدمات کے زبردست معترف اور داعی ہیں۔
* حجاج و معتمرین کی سہولیات: بطور وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ و بین المذاہب ہم آہنگی، انہوں نے روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ اور حجاج کرام کے مسائل کے حل کے لیے سعودی حکام کے ساتھ مل کر بہترین اقدامات کیے۔
۵. قومی سلامتی کے امور پر زیرک اور مضبوط گرفت
عام مذہبی رہنماؤں کے برعکس مولانا طاہر محمود اشرفی کی نظر صرف دینی مسائل تک محدود نہیں بلکہ وہ قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور خارجہ پالیسی پر بھی گہری اور زیرک نظر رکھتے ہیں۔
۱. دفاعی اداروں کے ساتھ یکجہتی
مولانا اشرفی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ جب بھی اندرونی یا بیرونی عناصر نے ملکی اداروں کے خلاف زہر افشانی کی، انہوں نے ایک فولادی ڈھال بن کر دفاعی اداروں کا دفاع کیا۔
۲. پیغامِ پاکستان ڈیکلریشن
دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے تاریخی بیانیے "پیغامِ پاکستان" کی تدوین اور اس کی ملک گیر و عالمی سطح پر ترویج میں مولانا اشرفی نے بنیادی اور حرکی کردار ادا کیا۔
۳. جیو پولیٹیکل بصیرت
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین اور افغانستان کے تناظر میں مولانا اشرفی کا موقف ہمیشہ پاکستان کے قومی مفادات، امہ کی یکجہتی اور عالمی امن کے اصولوں کے مطابق رہا ہے۔
مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی حفظہ اللہ ان معدودے چند علماء میں شامل ہیں جنہوں نے مذہب کو تعصب اور تفرقے کا ذریعہ بننے کے بجائے محبت، امن، سلامتی اور قومی یکجہتی کا ذریعہ بنایا۔
ان کا وجود پاکستان کے مذہبی و سیاسی افق پر ایک نعمت سے کم نہیں، جو ایک طرف حرمین شریفین کی محبت کا علم اٹھائے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی سرحدوں، دفاعی اداروں اور اقلیتوں کے حقوق کا جرات مندانہ دفاع کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی عمر، صحت اور خدمات میں برکت عطا فرمائے اور انہیں ملک و ملت کی یوں ہی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



 

 

umar farooq
About the Author: umar farooq Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.