نعتِ اظہار: معاصر نعتیہ شعور کا فکری و فنی تناظر — پروفیسر ریاض احمد قادری

نعتِ اظہار: معاصر نعتیہ شعور کا فکری و فنی تناظر — پروفیسر ریاض احمد قادری

نعتِ اظہار: معاصر نعتیہ شعور کا فکری و فنی تناظر
——————————————————
پروفیسر ریاض احمد قادری

"نعت گوئی محض اِک صنفِ سخن نہیں، بلکہ صراطِ عشق پر گامزن روح کی وہ لافانی صدا ہے جہاں تخیل کی پرواز ادب کے دائروں میں مقید رہتی ہے اور فکر کا دامن مصطفیٰ ﷺ کے اسوۂ کامل سے جڑا رہتا ہے۔ نعت اصل میں حدودِ شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے کمالِ محبت کے والہانہ اظہار کا نام ہے۔"
معاصر نعتیہ ادب کے افق پر ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ دورِ حاضر میں عقیدت و محبت اور فنی پختگی کا ایک ایسا معتبر اور درخشندہ حوالہ ہیں جن کا قلم جب بھی مدحتِ سرورِ کائنات ﷺ کے لیے اٹھتا ہے، تو الفاظ و معانی کی ایک نئی کائنات روشن کر دیتا ہے۔ زیرِ نظر مجموعۂ کلامِ "اظہار نعت" اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ موصوف پر بارگاہِ رسالت ﷺ کے ساتھ ساتھ فیضانِ الٰہی کا بھی خاص سایہ ہے۔ ان کی نعت گوئی میں جہاں اسلاف کی روایات کا پاس و لحاظ ہے، وہاں اسلوب کا نیا پن، ندرتِ خیال اور فکری و معنوی گہرائی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعتیہ شاعری کے فکری، فنی اور اسلوبیاتی محاسن کا تشریحی اور تنقیدی جائزہ

۱۔ ارضِ طیبہ کی تڑپ اور استغاثہ و التجا

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے کلام کا خمیر عشقِ رسول ﷺ اور مدینے کی تڑپ سے اٹھا ہے۔ ان کی دلی تمنا، باطنی اضطراب اور حاضری کی تڑپ ہر نعت میں ایک منفرد اور دلکش رنگ میں جلوہ گر ہے۔ وہ درِ اقدس پر حاضری کے لیے نہایت عاجزی اور تضرع کے ساتھ التجا کرتے نظر آتے ہیں:

حاضری کی کوئی صورت اب دکھاؤ میرے آقا ﷺ
اس غریبی کے اندھیرے اب مٹائو میرے آقا ﷺ

اس مطلع میں شاعر نے اپنی بے مائیگی، عجز اور ظاہری و باطنی مفلسی کو حضور ﷺ کے دربارِ عالی میں پیش کیا ہے۔ "غریبی کے اندھیرے" سے مراد صرف مالی تنگی نہیں، بلکہ وہ مادی آلودگی اور روحانی تنہائی ہے جو دیارِ حبیب سے دوری کی وجہ سے انسان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار یہاں ایک سچے عاشق کی طرح گڑگڑا کر التجا کر رہے ہیں کہ آقا! جب تک آپ کی چوکھٹ پر حاضری کا پروانہ نہیں ملتا، زندگی کے اندھیرے دور نہیں ہو سکتے۔ چونکہ آپ ﷺہی غریب نواز ہیں، اس لیے نگاہِ کرم فرمائیے۔
اسی طرح مدینے کی گلیوں سے دوری کا جو عذاب وہ جھیل رہے ہیں، اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں جہاں زندگی کا دارومدار ہی اس تڑپ پر ٹھہرتا ہے:
میں تڑپ رہا ہوں یہاں مگر، مرا دل تو ہے اسی دیس میں
یہ جدائی کا جو عذاب ہے، یہ مری حیات کا نام ہے

عشق کا یہ کمالِ مرتبت ہے کہ عاشق کا جسم کہیں ہو، اس کا دل مدینۃ الرسول میں دھڑکتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اس شعر میں ہجر کے کرب کو حیات کا حاصل اور روح کی غذا قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ میں جسمانی طور پر وطن میں مقید ہوں، لیکن میری روح اور میرا دل مدینے کی گلیوں کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ جدائی اگرچہ ایک عذاب ہے، لیکن یہی عذاب میری زندگی کی علامت ہے، کیونکہ جو دل عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ سے خالی ہو، وہ زندہ نہیں بلکہ تیرہ و تار ہے۔

۲۔ سیرت و اسوہ اور حضور ﷺ کی صفاتِ عالیہ کا بیان
ایک اچھے نعت گو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جذباتیت کے غلبے سے ہٹ کر اسوۂ کامل اور نبوی صفات کو اپنی شاعری کا بنیادی محور بنائے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے حضور ﷺ کی عالمگیر رحمت، معجزات اور بشریت و نورانیت کے حسین امتزاج کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالا ہے:

سنورتی ہے جس سے حیاتِ دو عالم
وہی ذات ہے مصطفیٰ کی مکرم
اس شعر میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے فلسفۂ حیات کو نعت کے قالب میں ڈھالا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ دونوں جہانوں کی کامیابی، خوبصورتی اور فلاح صرف اور صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے میں ہے۔ جب تک انسانیت آپؐ کے لائے ہوئے آفاقی نظام اور آپؐ کے اخلاقِ حسنہ کو نہیں اپناتی، کائنات سنور نہیں سکتی۔ آپؐ کی ذات ہی کائنات کا نقطۂ عروج اور مرکزِ پرکار ہے۔
حضور ﷺ کی آمد سے کائنات میں جو انقلاب برپا ہوا اور کفر و جہالت کے اندھیرے دور ہوئے، اس فکری پہلو کو وہ یوں اجاگر کرتے ہیں:

وہ آئے تو چمکا مقدر جہاں کا
ہوا دور دنیا سے ہر رنج اور غم

یہ شعر تاریخِ انسانیت کے سب سے بڑے انقلاب کا مظہر ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار یہاں تاریخی حقیقت کو شعری فصاحت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے دنیا ظلمت, ناانصافی اور جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپؐ کی تشریف آوری سے نہ صرف انسان کا مقدر چمکا، بلکہ مظلوموں، بے کسوں اور کچلے ہوئے طبقات کے رنج و غم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔

۳۔ معجزاتِ نبوی ﷺ اور حلیہ مبارک کا تذکرہ

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے قرآنی تلمیحات اور معجزاتِ رسول ﷺ کو بڑی فنی چابکدستی سے اپنے اشعار میں سمویا ہے۔ چہرۂ انور کے لیے "والضحیٰ" اور قلبِ اطہر کے لیے "الم نشرح" کا استعمال ان کے گہرے قرآنی شعور کا عکاس ہے:

والضحیٰ چہرہ ہے ان کا، اور الم نشرح کا قلب
رب کی آیت کا ہے مظہر، آپؐ کا ہر اک بیاں

شاعرِ موصوف نے اس شعر میں حسنِ مصطفیٰ ﷺ اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کو قرآنی آیات کے آئینے میں دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آپؐ کے چہرے کی قسم "والضحیٰ" کہہ کر کھائی اور آپؐ کے سینۂ مبارک کی وسعت کو "الم نشرح لک صدرک" سے بیان فرمایا۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کہتے ہیں کہ آپؐ کی ذاتِ گرامی مجسم قرآن ہے، آپ کا ہر قول، ہر فعل اور ہر بیان خدا کی توحید اور قدرت کی زندہ آیت اور روشن دلیل ہے۔
حضور ﷺ کے دیگر معجزات، جیسے انگلیوں سے چشمۂ آب کا جاری ہونا یا شقِ قمر کا واقعہ، ان کے کلام میں یوں نظم ہوا ہے:

اک اشارے سے چاند کٹ گیا، تیرے رعب کا یہ نشان ہے
انگلیاں بن گئیں چشمہِ تر، جاری رحمت کا فیضان ہے

اس شعر کے پہلے مصرعے میں معجزۂ شقِ قمر کی طرف اشارہ ہے، جو آپؐ کے کمالِ تصرف اور ہیبت و رعب کا ثبوت ہے۔ دوسرے مصرعے میں غزوے کے موقع پر انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہونے کے واقعے کو بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ ان معجزات کو صرف خوارقِ عادات (معجزاتی واقعات) کے طور پر نہیں بلکہ "رحمت کے فیضان" سے جوڑتے ہیں، یعنی آپ کا معجزہ بھی سراپا رحمت ہے۔

۴۔ معرکۂ بدر اور شجاعتِ مصطفیٰ ﷺ کا منفرد رنگ

اردو نعت گوئی میں حضور ﷺ کی جمالیاتی
صفات کا تذکرہ تو عام ہے، مگر ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے سیرت کے جلالی اور انقلابی پہلو، یعنی "شجاعتِ مصطفیٰ ﷺ" کو اپنے کلام کا خاص موضوع بنایا ہے۔ غزوۂ بدر کے پس منظر میں لکھی گئی ان کی نعتیں اردو نعتیہ ادب میں ایک گراں قدر اور اچھوتا اضافہ ہیں:

مرے نبیؐ کی دلیری پر ہے، فدا شجاعت کا ہر ایک سال
وہ حق کا رہبر، وہ حق کا پیکر، جراتِ بے مثل و بے مثال
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے نعت کے روایتی موضوعات سے ہٹ کر تاریخِ اسلام کے رزمیہ اور جلالی رنگ کو نعت کا حصہ بنایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جہاں حسن و جمال کے پیکر ہیں، وہاں میدانِ جنگ میں آپؐ کی شجاعت و دلیری کا یہ عالم تھا کہ معرکے کے دوران بڑے بڑے بہادر آپؐ کی اوٹ لیا کرتے تھے۔ شجاعت بذاتِ خود آپؐ کی جراتِ بے مثل پر قربان ہونے کو تیار ہے۔

بدر کے میداں میں دیکھو جا کر، ہے شانِ جرات کا اک سماں
وہ تین سو تیرہ جاں نثاروں کا عزمِ محکم، وہ ذو الجلال

اس شعر میں غزوۂ بدر کا وہ منظر کھینچا گیا ہے جہاں ظاہری اسباب کے بغیر صرف ایمان کی طاقت سے باطل کو شکست دی گئی۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار فرماتے ہیں کہ بدر کے میدان میں تین سو تیرہ نہتے مسلمانوں کا عزمِ محکم دراصل مصطفیٰ ﷺ کی جراتِ ایمانی کا عکس تھا، جس نے کفر کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

وہ کفر کے زوال اور معرکۂ بدر میں حضور ﷺ کی حسنِ تدبیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
صفیں بنائی تھیں ایسی کامل، نظامِ جنگ ایسا دیں کیا
کہ دنگ رہ گئے دیکھ کر سب، وہ حُسنِ تدبیر اور کمال

یہاں نعت گو کا تاریخی اور عسکری شعور سامنے آتا ہے۔ آپؐ صرف ایک مصلح نہیں بلکہ ایک عظیم سپہ سالار بھی تھے۔ میدانِ بدر میں صف بندی کا جو کمال اور نظامِ جنگ آپؐ نے وضع فرمایا، اس نے رہتی دنیا کے لیے جنگی حکمتِ عملی کے نئے اصول طے کر دیے۔ شاعر اسی حسنِ تدبیر کو مدحت کا موضوع بنا کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہا ہے۔
۵۔ واقعۂ معراج کی فکری و اسلوبیاتی پیشکش
معراجِ مصطفیٰ ﷺ کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا قلم عظمتِ رسول ﷺ کی نئی بلندیوں کو چھوتا ہے۔ سفرِ معراج کی کیفیات, سدرۃ المنتہیٰ پر جبریلِ امیں کی حدِ پرواز اور عرشِ بریں پر مکالمۂ الٰہی کو انہوں نے مسدس اور غزل کے پیرائے میں نہایت عقیدت سے پیش کیا ہے:
آگے جو بڑھے شاہِ ہدیٰ عرشِ بریں پر
جبریلؑ نے وہیں اپنی حدِ پرواز کہی ہے

سفرِ معراج کے اس اہم ترین موڑ کو ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے بڑے ادبی قرینے سے نبھایا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں مقرب ترین فرشتہ حضرت جبریل علیہ السلام بھی رکنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر ایک بال برابر بھی آگے بڑھا تو تجلیاتِ الٰہی سے پر جل جائیں گے۔ یہ شعر حضور ﷺ کے اس منفرد اور اختصاصی مقام کو ظاہر کرتا ہے جہاں کائنات کی ہر مخلوق کی پرواز ختم ہو جاتی ہے، وہاں سے محبوبِ خدا ﷺ کا سفر شروع ہوتا ہے۔
بولے کہ الٰہی! میری حد ہے یہی اب تک
آگے تو بس اس شانِ محمد ﷺ کی گلی ہے

پچھلے شعر کے تسلسل میں یہ شعر رمزِ معراج کو مزید کھولتا ہے۔ جبریلِ امیں اعتراف کرتے ہیں کہ مخلوقِ خدا میں میری حد یہیں تک ہے، لیکن اس سے آگے کا جو مقام ہے وہ صرف اور صرف "شانِ محمدی ﷺ" کے لیے مخصوص ہے، جہاں خالق اور محبوب کا بلا واسطہ وصال ہونا ہے۔
اور اس سفر کا سب سے بڑا حاصل، یعنی تحفۂ نماز کا ذکر یوں کرتے ہیں:

امت کے لیے لائے ہیں تحفہ وہ نماز کا
اللہ کی رحمت کی عجب ریت چلی ہے

ڈاکٹر صاحب نے معراج کے واقعے کو محض ایک قصہ نہیں رہنے دیا بلکہ اس کے عملی فائدے کو اجاگر کیا ہے۔ نماز کو "معراج المؤمنین" کہا گیا ہے۔ حضور ﷺ معراج سے اپنی امت کے لیے نماز کا تحفہ لائے تاکہ امت کا ہر فرد اس کے ذریعے اپنے رب سے ہمکلام ہو سکے۔ یہ اللہ کی رحمت کی وہ خوبصورت ریت ہے جو مصطفیٰ ﷺ کے طفیل امت کو ملی۔

۶۔ ردیف اور قوافی کا فنی تنوع (ترنم اور نغمگی)

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شاعرانہ مہارت کا اندازہ ان کی بحور کے انتخاب اور مشکل ردیف و قوافی کو نبھانے کے اسلوب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے جہاں روایتی قوافی استعمال کیے، وہاں "مدینہ مدینہ"، "میرا نبی ہے"، "ہمارے محمد ﷺ" اور "جشنِ ربیع النور ہے" جیسی خوبصورت اور مترنم ردیفوں کے ذریعے کلام میں ایک خاص صوتی آہنگ پیدا کیا ہے۔
مثال کے طور پر ردیف "مدینہ مدینہ" کا ترنم دیکھیے:
وظیفہ مراہے مدینہ مدینہ
جو صبح و مسا ہے مدینہ مدینہ

اس شعر کی نغمگی دل موہ لینے والی ہے۔ "مدینہ مدینہ" کی ردیف بذاتِ خود ایک ورد اور ذکر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار فرماتے ہیں کہ دنیاوی تفکرات سے نجات پانے اور دل کا سکون حاصل کرنے کے لیے میرا صبح و شام کا وظیفہ صرف مدینے کا نام لینا ہے، کیونکہ یہ نام روح کو جلا بخشتا ہے۔
ردیف "ہمارے محمد ﷺ" کی مٹھاس:
حبیبِ خدا ہیں ہمارے محمد ﷺ
مقامِ رضا ہیں ہمارے محمد ﷺ

اس شعر میں نسبتِ رسول ﷺ پر فخر کا اظہار ہے۔ لفظ "ہمارے" میں جو اپنائیت، لاڈ اور مان ہے، وہ ایک سچے امتی کا خاصہ ہے۔ آپؐ اللہ کے حبیب ہیں اور اللہ کی رضا کا متبادل ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے نہایت سادہ مگر پرکشش انداز میں صوفیانہ حقائق کو اس شعر میں سمو دیا ہے۔

۷۔ تلمیحات، شعری فصاحت اور دعائیہ انداز

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے کلام میں عاجزی اور انکساری کا رنگ غالب ہے۔ وہ نعت کو اپنی بخشش کا ذریعہ اور ماں کی دعاؤں کا صلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعائیہ انداز دل کو چھو لینے والا ہے:

کرم ہے ربِ عالم کا، نبی ﷺ کا بھی وسیلہ ہے
یہ نعتوں کی عطا ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے

کوئی بھی شخص اپنی ذاتی محنت سے نعت گو نہیں بن سکتا جب تک بارگاہِ الٰہی سے توفیق اور بارگاہِ رسالت سے اذن نہ ملے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی اس نعمت کو اللہ کا کرم, حضور ﷺ کا وسیلہ اور سب سے بڑھ کر اپنی ماں کی دعاؤں کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ یہ شعر ان کی اعلیٰ تربیت اور خاندانی وضع داری کا بھی عکاس ہے۔ وہ اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں یوں ملتجی ہیں کہ ان کا خاتمہ ایمان اور نعت گوئی پر ہو:

دعا ہے خاتمہ ہو نعت پڑھتے پڑھتے دنیا میں
مَیں اپنی لوحِ قسمت پر محمد ﷺ کا گدا لکھوں

ایک نعت گو کی زندگی کی سب سے بڑی معراج اس کا حسنِ خاتمہ ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار اس مقطع میں زندگی کی آخری تمنا کا اظہار کر رہے ہیں کہ جب میری روح اس قفسِ عنصری سے پرواز کرے، تو زبان پر نعتِ رسول ﷺ جاری ہو۔ وہ اپنی قسمت کے صحیفے پر کسی دنیاوی جاہ و جلال کے بجائے صرف "غلامِ مصطفیٰ ﷺ" یا "گدائے محمد ﷺ" لکھا جانا پسند کرتے ہیں، جو دونوں جہانوں کی بادشاہی سے بڑھ کر ہے۔

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعتیہ شاعری کا گہرا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محض روایتی الفاظ کے جادوگر نہیں، بلکہ ان کے لفظ لفظ میں صدقِ دل کی گواہی اور عشقِ رسول ﷺ کی تپش موجود ہے۔ ان کا کلام فکری طور پر افراط و تفریط سے پاک، شریعت کے احکام کے تابع اور فنی اعتبار سے عیب و نقص سے مبرّا ہے۔ انہوں نے مدحتِ رسول ﷺ کے ذریعے امتِ مسلمہ کو مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر اسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی اپنانے کا پیغام دیا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز، گداز اور ارضِ مقدس کے لیے اضطراب پایا جاتا ہے، وہ قاری کے دل میں بھی حبِ رسول ﷺ کی شمع فروزاں کر دیتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے اس نعتیہ جذبے کو سدا سلامت رکھے، ان کے قلم کی روشنی میں مزید برکت عطا فرمائے اور اس مخلصانہ کاوش کو ان کے لیے توشۂ آخرت اور ذریعۂ شفاعت بنائے۔
آمین بجاہ یا سید المرسلین النبی الامین ﷺ

 

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 56 Articles with 46137 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.