شیخ محمد حسن : تحریک حق کا ایک امین بچھڑ گیا

شیخ صاحب


وادیٔ کشمیر کے معروف عالمِ دین، مدبرِ ملت، داعیِ حق، مفسرِ قرآن اور سابق امیرِ جماعت اسلامی جموں و کشمیر، شیخ محمد حسن کا انتقال محض ایک شخصیت کی رحلت نہیں بلکہ ایک عہدِ وفا، ایک فکری دبستان اور ایک عظیم دعوتی تحریک کے ایک روشن باب کا اختتام ہے۔ ان کی وفات کی خبر نے پوری وادیٔ کشمیر کو سوگوار کر دیا ہے۔ بالخصوص تحریکِ اسلامی سے وابستہ قلوب آج ایک ایسے مربی، رہبر اور فکری نگہبان سے محروم ہوگئے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، اقامتِ دین کی جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی فکری و روحانی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی تاریخ میں شیخ محمد حسن صاحب کا نام ہمیشہ عزت، وقار، بصیرت اور استقامت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ وہ دو مرتبہ امیرِ جماعت رہے اور اپنے دورِ امارت میں انہوں نے تحریکِ اسلامی کو صرف تنظیمی سطح پر ہی مضبوط نہیں کیا بلکہ فکری و دعوتی اعتبار سے بھی ایک نئی روح عطا کی۔ ان کی قیادت میں جماعت اسلامی نے کشمیر کے طول و عرض میں قرآن کی دعوت، دینی شعور اور اسلامی فکر کو عام کرنے کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔ جنوبی کشمیر کے دیہات سے لے کر شمالی کشمیر کی بستیوں تک، ان کی صدائے حق گونجتی رہی اور ان کے دروسِ قرآن نے ہزاروں دلوں کو ایمان کی حرارت سے منور کیا۔

شیخ محمد حسن صاحب علم و حکمت کا ایسا روشن مینار تھے جس کی روشنی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔ قرآنِ حکیم پر ان کی گہری نظر، فہمِ دین میں پختگی اور حدیثِ رسول ﷺ پر غیر معمولی عبور ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ ان کے دروسِ قرآن محض علمی نشستیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ ایک فکری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی تھیں۔ ان کی گفتگو میں دلائل کی قوت بھی تھی اور دلوں کو بدل دینے والی تاثیر بھی۔ وہ نوجوانوں کے اذہان کو بے دینی اور فکری ارتداد کے طوفانوں سے بچانے کے لیے ہمیشہ صفِ اول میں کھڑے رہے۔ جب جدید فکری ارتداد نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو شیخ صاحب کی کمزور مگر پُراثر آواز نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا اور نوجوانوں کے اندر ایمان، دعوت اور اقامتِ دین کا جذبہ دوبارہ بیدار کیا۔

وادیٔ کشمیر میں تحریکِ اسلامی کی تاریخ قربانیوں، آزمائشوں اور استقامت سے عبارت رہی ہے، اور شیخ محمد حسن صاحب اس تاریخ کے ایک درخشاں کردار تھے۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ظلم و جبر کے ادوار دیکھے، لیکن کبھی حق گوئی سے دستبردار نہ ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے خانوادے کی قربانیاں بھی اس تحریک کے لیے پیش کیں۔ اپنے لختِ جگر کی قربانی دے کر انہوں نے سنتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کی اور ثابت کیا کہ اقامتِ دین کی راہ قربانی مانگتی ہے، اور اللہ کے سچے داعی ہر آزمائش میں ثابت قدم رہتے ہیں۔

ان کی فکر کا مرکزی محور قرآن و سنت کی بالادستی، امت کا اتحاد، اخلاقی تطہیر اور معاشرتی اصلاح تھا۔ وہ شدت کے بجائے حکمت کے قائل تھے، نفرت کے بجائے محبت کے داعی تھے، اور انتشار کے بجائے اتحادِ امت کو اپنی دعوت کا مرکز بناتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو علم، شعور، دعوت اور کردار کی طاقت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا پیغام دیا۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر تھی کہ تحریکِ اسلامی محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی انقلاب کا نام ہے۔

آج اگرچہ شیخ محمد حسن ہم سے بظاہر جدا ہوچکے ہیں، لیکن ان کی فکر، ان کی دعوت، ان کے دروس، ان کی نصیحتیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کے شاگرد، متوسلین، رفقاء، اور ان کی فکر سے وابستہ ہزاروں نوجوان ان شاء اللہ اس مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ تحریکِ اسلامی کی وہ شمع، جسے انہوں نے اپنے اخلاص، قربانی اور استقامت سے روشن رکھا، کبھی بجھنے نہیں دی جائے گی۔

بلاشبہ ان کی وفات ایک ایسا خلا ہے جسے مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا، مگر تاریخ ہمیشہ گواہ رہی ہے کہ حق کے داعی جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ان کی فکر صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔ شیخ محمد حسن صاحب بھی اپنے افکار، کردار اور دعوتی ورثے کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی دینی، دعوتی اور ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔

 

 

Shaikh Sarfaraz
About the Author: Shaikh Sarfaraz Read More Articles by Shaikh Sarfaraz: 2 Articles with 1744 views Shaikh Sarfaraz is young poet, writer, orator and a teacher by profesion . He is in the field of teaching since 15 years. He has written numerous urd.. View More