رائے ونڈ میں چار ماہ والوں کا اجتماع
(Sohail Aazmi, Dera Ismail khan)
| رائے ونڈ میں چار ماہ والوں کا اجتماع |
|
تحریر سہیل احمد اعظمی ڈیرہ اسماعیل خان مورخہ 09.04.2026 رائے ونڈ میں چار ماہ والوں کا اجتماع گزشتہ دنوں رائیونڈ کے عالمگیر تبلیغی مرکز میں چار ماہ والوں کے جوڑ میں جانے کا اتفاق ہوا رائیونڈ میں کسی بھی جوڑ یا اجتماع کا مستقل عمارت میں منعقد ہونا ناممکن امر ہے، پانچ، چھ لاکھ کے اجتماع کے لیے انتظامات پنڈال میں کیا جاتے ہیں جس کے لیے پاکستان کے 20 بڑے مراکز سے تین ماہ قبل ہی سے بغیر کسی معاوضے کے افرار صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں جن کی مدد سے پنڈال کی تکمیل ہوتی ہے ،لاکھوں افراد کے لیے بیت الخلا ،کینٹین، کار، بس،موٹرسائیکل سٹینڈ، ٹریفک، صفائی ستھرائی ،بجلی و پانی، ڈسپنسریز کا انتظام اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے تمام افراد مل جل کر کرتے ہیں جن میں امیر غریب ،رنگ و نسل قومیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا کیونکہ تمام خدمت گزار انبیاء کی اس محنت کو جو کہ اجتماعی طور پر امت محمدیہ کے ذمے ہے کو صرف اللہ تعالی کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر سرانجام دیتے ہیں، بقول تبلیغ کے بڑوں کے جس نے بھی پنڈال میں ایک بانس لگا دیا یا کوئی اور کام کیا اسے اس اجتماع کے علاوہ عالمگیر محنت کے اجتماعی ثواب میں بھی حصہ ملتا ہے، رائیونڈ میں ایک اجتماع تو ہر سال ہوتا ہے جس میں ہر بندہ شرکت کر سکتا ہے لیکن لاکھوں افراد کی آمد کے باعث اب اس اجتماع کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ایک سال آدھا پاکستان اور دوسرے بقیہ پاکستان کے مراکز و شہروں سے افراد حصہ لیتے ہیں اس کے علاوہ ہر بڑے 20 مراکز کے لوگوں کو بھی بالترتیب تین دن کے لیے رائیونڈ بلایا جاتا ہے، چار ماہ لگانے والوں کا اجتماع پہلے دس دنوں کا ہوتا تھا لیکن اب چند سالوں سے اسے پانچ دن کا کر دیا گیا ہے ،ان افراد کو مختلف اوقات کے دوران اجتماعات جوڑ میں بلانے کا واحد مقصد انہیں کام پہ ڈالے رکھنا، ان کی ٹیوننگ کرنا اور اس اہم ذمہ داری کے ساتھ جوڑے رکھنا ہے ان اجتماعات میں دنیا بھر سے بھی ہزاروں کی تعداد بیرون ملک سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور پاکستان میں اوقات لگا کر کام سیکھتے ہیں ،اس سال بھی گزشتہ سالوں کی طرح طوفانی بارشوں، جکھڑ کے باعث پنڈال کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا لاکھوں کا مجمع تتر بتر ہو گیا جس کے بعد تمام شرکاء کو قریب کی مسجدوں مراکز وغیرہ میں جانے کا کہا گیا ہم بھی اپنے ساتھیوں سمیت رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک واقف کار مولانا فاروق ،مولانا احسان کے گھر میں براجمان ہو گئے جہاں دیگر افراد بھی قیام پذیر تھے ، بعد اذاں بزرگوں نے مجمع کو قصور، لاہور کے تین تبلیغی مراکز ،گوجرانوالہ اور دیگر مقامات پر منتقل ہونے کو کہا ، ہم نے پانچ دن رائیونڈ کے مرکز میں بھی گزارے جہاں بے پناہ رش کے باعث تل دھرنے کی جگہ تک موجود نہ تھی، اجتماعات میں مولانا ابراہیم دیولا (انڈیا)،احمد لاٹ (انڈیا)، احمد حسین (انڈیا گجرات)، مولانا قاری زبیر( بنگلہ دیش )،بھائی فاروق و دیگر علمائے کرام جن میں مولانا خورشید، مولانا عبدالمتین، مولانا محمد احمد بٹلا کے بیانات سے مستفید ہونے کا موقع ملا تمام علمائے کرام کے بیانات کا ماخذ یہ تھا کہ مال سے نہ دنیا بنے گی نہ آخرت بلکہ اللہ تعالی نے دونوں جہانوں کی کامیابی اپنے دین پر کاربند ہونے میں رکھی ہے، جب تک امت مسلم اجتماعی طور پر دعوت و تبلیغ کے کام کو ذمہ داری ،فریضہ سمجھ کر کرتی رہی دنیا کے تین تہائی حصے پر مسلمانوں کی حکومت تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں 22 لاکھ مربع میل اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں 65 لاکھ مربع میل پر یعنی تین براعظموں پر مسلمانوں کی حکومت تھی، کافر مسلمان کا نام لینے سے بھی گھبراتے تھے ،آج کی سپر پاور کی طرح اس وقت کی عالمی قوتیں روم و فارس قیصر و کسریٰ پر ہماری حکومت تھی ہر طرف انصاف و عدل، بھائی چارے کی فضا قائم تھی مسجدیں، مراکز آباد جبکہ بازار غیر آباد تھے لیکن جب سے امت نے نبیوں والے کام سے اجتماعی طور پر منہ موڑا ہم دربدر ہو گئے ہماری سرحدیں سکڑتی گئیں اور غیر مسلم ہم پر قابض ہوتے گئے کیونکہ اللہ کی مدد اور نصرت ہم سے چھوٹ گئی، اللہ نے قرآن میں ان کی مدد کا وعدہ کیا ہے جو اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں، دنیاوی مال عزت و دولت خوراک ہم کو اتنی ہی ملتی ہے جتنے ہمارے نصیب میں ہے لیکن آج ہم نے بدقسمتی سے مال و دنیا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جس کے باعث اغیار ہم پر بھاری پڑ گئے، آج سے سو سال قبل مولانا الیاس رحمت اللہ علیہ نے سنتوں کے عین مطابق جو کام اپنایا اور ایمان کی ترقی کے لیے شروع کیا الحمدللہ دنیا کے کونے کونے میں اب امت نے اس کام کو شروع کیا ہوا ہے، تقریبا 25 سے 30 کروڑ افراد اس کام سے وابستہ ہیں دنیا بھر میں لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں، مساجد، مراکز، یورپ، ایشیا ،افریقہ میں قائم ہو رہی ہیں گزشتہ سال اور اس سال رائیونڈ کے اجتماع میں 120 ممالک کے افراد نے شرکت کی پرا نوں کے حالیہ جوڑ سے بیرون ممالک کے مسلمانوں پر مشتمل 295 جماعتیں سال، سات ماہ، بیرون ممالک کے لیے 33 جماعتیں اندرون ملک، سال کی 35 جماعتیں،چلہ، چار ماہ کے لیے 1508 جماعتیں اللہ کے راستے میں نکلیں جو پاکستان اور دنیا بھر کے ممالک میں دین کی سربلندی کے لیے اپنا مال، اپنی جان، اپنا وقت لگا کر لوگوں کا تعلق دنیا کی بجائے اللہ تعالی کی ذات سے جوڑنے کے لیے کام کریں گی جس سے خیر پھیلے گی، آج ہم روزی کے حصول کے لیے برس ہا برس اغیار میں لگا دیتے ہیں لیکن اللہ کی دنیا کی دعوت اپنی اصلاح اور دیگر کو اطلاع کے لیے چند ایام گزارنے کو ہم وقت کا ضیاع کرنا کہتے ہیں حالانکہ صحابہ کرام نے اپنی تمام زندگی جہاد و تبلیغ کے لیے وقف کر دی، اللہ تعالی نے سورۃ العصر میں امت کے پیدا کرنے کا مقصد بیان کر دیا ہے، جس میں ارشاد باری تعالی ہے کہ زمانے کی قسم، تمام انسان خسارے میں ہیں لیکن جو ایمان لائے، نیک صالح عمل کیے اور حق بات کی تلقین کرتے رہے اور اس کام کے دوران جو تکالیف آئیں ان پر صبر کرنے والے ہیں، پورے کے پورے کامیاب ہیں، امام شافعی کا قول ہے کہ اللہ تعالی اگر قرآن مجید نازل نہ فرماتے تو بھی انہوں نے مذکورہ سورت میں مسلمانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بیان کر دیا ہے، رائیونڈ دیگر مراکز و مدارس میں آج لاکھوں کی تعداد میں جو جوان عالم، حافظ بن رہے ہیں تمام کام اپنی مدد آپ کے تحت ہو رہا ہے لیکن ہماری یونیورسٹیاں جہاں اربوں روپوں کا سرمایہ کرپشن و بدنظمی کی نظر ہو رہا ہے میں سے کوئی بھی عالمی ریکنگ میں نہیں ہے لیکن دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے اور مدارس میں داخلہ لینے کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں مسلمان پاکستان آتے ہیں اور دین کا علم حاصل کر کے دعوت و تبلیغ کے کام کو دنیا بھر میں پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، رائیونڈ کے جوڑ میں شرکت کا ہمارا قافلہ جو کہ مولانا عمیر، مولانا محمد، عمر ذیشان، مفتی ارسلان، محمد حنیف ،امان اللہ، شاہد جاوید، عظمت، مطیع الرحمن، نوید الرحمن، سہیل اعظمی ، وہاب، عتیق پر مشتمل تھا نےارادہ کیا کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال وقت لگا کر دنیا بھر میں اپنی اصلاح اور دوسروں کو اطلاع کا کام اخلاص کی نیت کے ساتھ کریں گے۔ آخر میں میں ان سطور میں مولانا فاروق ،مولانا احسان اور رائیونڈ شہر کے ادرگرد،مضافات میں واقع فیکٹریوں،مساجد و مدارس ،شادی حال کے مالکان اور مہتمم حضرات کا دلی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے لاکھوں کے مجمعے کو اپنے ہاں ایڈجسٹ ہونے کی سہولت فراہم کی، |
|