غزہ میں نئی یہودی بستیاں، خطے کے امن کو درپیش سنگین چیلنج

ایوان اقتدارسے

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے درجنوں نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم حکومت نے نہ صرف نئی بستیوں کی منظوری دی بلکہ اس فیصلے کے ذریعے خطے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور اپنے قبضے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی فلسطینی علاقوں میں کشیدگی عروج پر ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی ادارے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ انکشاف ایک غیر سرکاری تنظیم نے کیا، جس کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے یکم اپریل کو 34 نئی بستیوں یا آؤٹ پوسٹس کی منظوری دی، تاہم اس فیصلے کو فوری طور پر عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی سخت سنسرشپ پالیسی کے باعث اس اعلان کو تاخیر سے منظر عام پر لایا گیا۔ ان نئی بستیوں میں سے کئی دور دراز پہاڑی علاقوں میں واقع ہوں گی، جہاں پہلے ہی فلسطینی آبادی دباؤ کا شکار ہے۔
فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ مؤقف تقویت پاتا ہے، کیونکہ عالمی عدالت انصاف پہلے ہی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ان بستیوں کی توسیع نہ صرف عالمی قوانین کو چیلنج کرتی ہے بلکہ امن کے امکانات کو بھی مزید کمزور کرتی ہے۔
مغربی کنارے کی موجودہ آبادیاتی صورتحال اس تنازع کی حساسیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جبکہ اسرائیل مختلف ممالک سے لا کر تقریباً 5 لاکھ یہودی آبادکار یہاں بسا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی بستیوں کا قیام اس تناسب کو مزید تبدیل کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سیاسی حل کو اسرائیل کے حق میں موڑنا ہے۔
دوسری جانب زمینی حقائق اس پالیسی کے خطرناک اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں متعدد فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایک افسوسناک واقعے میں 28 سالہ فلسطینی نوجوان کو ایک اسرائیلی شہری نے گولی مار کر شہید کر دیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ چھٹی پر آیا ہوا فوجی بھی تھا اور ایک آبادکار بھی۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی پتھراؤ کے ردعمل میں کی گئی، تاہم عینی شاہدین اور مقامی افراد اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔
مقامی فلسطینی کسانوں اور رہائشیوں کے بیانات اس صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ 65 سالہ کسان حسام عبداللطیف کے مطابق آبادکاروں کے حملے معمول بن چکے ہیں اور فلسطینیوں کو اپنے ہی گھروں میں عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اسی طرح وحدان نامی ایک فلسطینی، جو چار بچوں کا باپ ہے، مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، کیونکہ کسی بھی وقت حملے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2025 کے آغاز سے فروری 2026 تک کم از کم 700 فلسطینی آبادکاروں کے حملوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہی ہے۔یہ امر قابل غور ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس پالیسی پر خاموشی یا مبہم مؤقف اختیار کرنا عالمی برادری کے خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کے اندر بعض حلقے، جیسے آبادکاروں کی نمائندہ تنظیم ”یشا کونسل“، بھی اس حوالے سے واضح ردعمل دینے سے گریزاں ہیں، تاہم زمینی حقائق اس پالیسی کے اثرات کو واضح کر رہے ہیں۔
عالمی برادری کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ اگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر مؤثر ردعمل نہ دیا گیا تو نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق مزید پامال ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب بھی مزید دور ہو جائے گا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کا قیام محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کا امتحان ہے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ان اصولوں کا دفاع کرے گی یا خاموش تماشائی بنی رہے گی۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 56 Articles with 54411 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.