دور حاضر میں کامیابی کی دوڑ اور سکون قلب

(Marham Afroz, Taunsa Sharif, DG Khan)

کامیابی کس کو کہتے ہیں؟ آخر کامیاب لوگ کون ہوتے ہیں؟ ویسے تو ہر
شخص دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کا خواب دیکھتا ہے اور اس کو
شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے خون پسینہ ایک کرتا ہے ۔۔۔ لیکن سوچنے والی
بات ہے کہ کامیابی ہے کیا چیز ؟ کیا انسان کے علاوہ دوسرے ذی حیات
مخلوقات اور قدرت کے مظاہر میں بھی کوئی کامیاب ٹھہرتا ہے اور کوئی
ناکام۔۔
میرے محدود علم و سوچ کے مطابق قدرت میں ایسا کوئی امتیاز روا
نہیں۔۔ آسمان ہمیشہ سے کامیاب ہے ۔۔ وہ دن میں سورج کو اپنے ماتھے پہ
چمکنے دیتا ہے اور وہ رات میں تاروں اور چاند کو اپنے سیاہی میں دمکنے
دیتا ہے ۔۔زمین بھی اپنے فرائض ادا کرتی ہے ۔۔ چڑیا کو دیکھو ، اس کی
کامیابی بس چہچہاتے رہنے ، دانہ دنکا تلاش کرنے ، چھوٹا سے آشیانہ
باریک سے تنکوں سے بنانے اور بال بچوں کو کھلانے میں ہے ۔۔ چڑیا نے
کبھی اس کے علاوہ کسی اور شے میں جسے وہ کر نہ سکتی ہو، اپنی
کامیابی نہیں تلاش کی ۔۔اگر چڑیا سمجھنے لگے کہ اسے بھی عقاب کی
طرح شکاری بننا ہے اور خود کو عقاب کی طرح کامیاب ثابت کرنا ہے تو
وہ نہ کبھی ایسا کر پائے اور نہ ہی یہ اس کے بس میں لگتا ہے ۔۔ایسا کرنا
چڑیا کیلئے اپنی ہنستی مسکراتی زندگی کو اجاڑنے کے برابر ہوگا ۔۔ یہ
بات تو صاف ہوگئی قدرت نے ہر مخلوق کے ذمے جو وظیفہ سپرد کیا ہوتا
ہے وہ اس میں ہی لگ کر کامیابی و ناکامی سے ماورا مصروف کار رہتا ہے
۔۔
اب انسان کی بات کریں۔۔ انسان کو سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی
صلاحیت دی گئی ہے ۔۔انسان کبھی بھی چین سے نہیں جی سکتا کیونکہ اس کی سوچیں، احساسات اسے ہمیشہ بے مہار گھوڑے کی طرح سٹپٹ
دوڑاتی رہتی ہیں۔۔ انسان کی سوچ اتنی متنوع اور بےسکون ہے کہ توازن
اور دیرپا خوشی کو پانا ،بہت ہی مشکل ہے ۔۔اب کامیابی کیا ہے؟ میرے
خیال میں دنیا میں ہر شخص کامیاب ہونے کی قابلیت کا مالک ہے ۔۔
کامیابی اب ہر ایک کیلئے بل گیٹس بننے میں نہیں ہے ۔۔ دنیا میں ایک
شخص بل گیٹس ہے اور اب کوئی اور نہیں اس جیسا ہوسکتا ۔۔ بات یہ
ہے کہ ہر انسان الگ خوبیوں کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا جاتا ہے ۔۔
قسمت یا زمانہ کو برا کبھی نہیں کہہ سکتے کہ کیوں کہ زمانہ ہی خدا ہے
،،، خدا زمانے کے روپ میں کئی بندوں کی مدد فرماتا ہے اور وہ عروج
کمال تک پہنچ جاتے ہیں۔۔
انسان کی کامیابی دو عناصر سے بنتی ہے ۔۔ دونوں کا ہونا لازمی ہے ۔۔
ایک انسان میں اپنی امتیازی صلاحیتوں کا ادراک ہو ، اپنی اچھائیوں
اور برائیوں کی خوب پہچان ہو ، اپنی عادات و اخلاق پہ ملکہ حاصل ہو
۔۔ یہ تو ہوا ذاتی پہلو ، کہ کیسے انسان کی اپنی شخصیت میں کچھ
خصلتیں ایسی کارگر ہوتی ہیں جو اسے آگے زندگی کی شاہ راہ پہ کامران
کرتی ہیں۔۔۔دوسری بات حالات اور ماحول بھی موزوں اور مناسب ہوں
ایک خاص طرح کے اشخاص اور ذہنی پیداوار کیلئے ۔۔۔ ہم ہر وقت ہر قسم
کے حالات میں ایک طرح کی کامیابی یا کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتے
۔۔کیونکہ ہر کام کا ایک وقت ہے اور مناسب وقت اور حالات ہی کامیابی
ناکامی کے منصف ٹھہرتے ہیں۔۔۔کل کے شاہ آج کے مجرم ٹھہرتے ہیں۔۔۔
اچھا ,کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک زمانے سے نہیں ہوتے بلکہ وہ خود
زمانے کو پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اور زمانہ ان سے ہوتا ہے ۔۔ہمارے پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت اللہ نے ارشاد فرمایا " اے
حبیب! اگر میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تخلیق نہ فرماتا تو اور
کائنات کو بھی نہ تخلیق کرتا "۔۔ تمام زندگی اور احساس ایک زنجیر
عظیم ہے اور ہر انسان اور مخلوق اس زنجیر میں کڑی کی طرح ہے ۔۔اگر
ایک کڑی نہ ہو تو پوری زنجیر بکھر جاتی ہے۔۔ ہمیں کبھی خود کو بے
معنی یا ناکام نہیں کہنا چاہیے۔۔ جب ہم اپنی قدر جان لیتے ہیں تو زمانہ
قدر کرتا بھی ہے اور نہیں بھی کرتا۔۔۔ ہماری قدر وہی ہے بس جو ہم کو
سکون قلب دیتی ہے اور جس سے ہم لوگوں کے کچھ کام آسکتے ہیں۔۔ 
Marham Afroz
About the Author: Marham Afroz Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.