نتائج نہیں، اعتماد کا امتحان: پشاور بورڈ کو عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا

پشاور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج نے ایک مرتبہ پھر ہمارے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہر سال نتائج آتے ہیں، ہزاروں بچے کامیاب ہوتے ہیں، ہزاروں ناکام قرار پاتے ہیں، والدین پریشان ہوتے ہیں، ری ٹوٹلنگ اور سپلیمنٹری امتحانات کا شیڈول جاری ہوتا ہے، اور پھر چند ہفتوں بعد یہ معاملہ دب جاتا ہے۔ لیکن اس سال نتائج نے صرف نمبروں کی نہیں بلکہ اعتماد کی بحث چھیڑ دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نویں جماعت میں 97 ہزار 950 طلبہ نے امتحان دیا، جن میں سے صرف 57 ہزار 847 طلبہ دسویں جماعت میں پروموٹ ہوئے۔ دسویں جماعت میں 95 ہزار 496 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں 66 ہزار 988 کامیاب جبکہ 27 ہزار 788 ناکام قرار پائے۔

یہ اعداد و شمار خود اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نتائج کا آزادانہ تجزیہ کیا جائے۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں طلبہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے تو سوال صرف طلبہ یا اساتذہ پر نہیں اٹھتا بلکہ پورے امتحانی نظام پر اٹھتا ہے۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اسلامیات وہ مضمون ثابت ہوا جس میں سب سے زیادہ طلبہ ناکام ہوئے۔ نویں جماعت میں 9 ہزار 294 اور دسویں جماعت میں 437 طلبہ اسلامیات میں ناکام ہوئے، یوں دونوں جماعتوں میں اسلامیات میں ناکام ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 730 بنتی ہے۔

یہ اعداد و شمار کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔

کیا مسئلہ تدریس کا ہے؟

کیا سوالیہ پرچے نصاب اور سیکھنے کے معیار کے مطابق تھے؟

کیا مارکنگ کے طریقہ کار میں کسی اصلاح کی ضرورت ہے؟

یا پھر امتحانی نظام میں ایسی خامیاں موجود ہیں جنہیں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہیں کیونکہ اسلامیات کوئی ایسا مضمون نہیں جسے عمومی طور پر انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہو۔ اگر ہزاروں طلبہ اسی مضمون میں ناکام ہو رہے ہیں تو اس کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہیں۔

نتائج کے ساتھ ہی بورڈ نے ری ٹوٹلنگ، UFM اپیل اور گریس مارکس کے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا۔ ری ٹوٹلنگ کی فیس 1500 روپے فی پرچہ مقرر کی گئی ہے۔

یہیں سے ایک اور اہم بحث شروع ہوتی ہے۔

ایک متوسط یا غریب خاندان اپنے بچے کی تعلیم پر پہلے ہی ہزاروں روپے خرچ کر چکا ہوتا ہے۔ داخلہ فیس، امتحانی فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، کوچنگ اور دیگر اخراجات کے بعد اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ آئے تو اسے ری ٹوٹلنگ کے لیے مزید فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔

اگر طالب علم تین یا چار مضامین میں ری ٹوٹلنگ کرانا چاہے تو ہزاروں روپے مزید خرچ ہوتے ہیں۔ اگر وہ سپلیمنٹری امتحان دے تو اس کی الگ فیس ہے۔ اگر ایک سال ضائع ہو جائے تو اس کی معاشی اور نفسیاتی قیمت الگ ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عوام سوال پوچھتے ہیں۔

پشاور بورڈ کو چاہیے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کو بتائے کہ ری ٹوٹلنگ، سپلیمنٹری امتحانات اور دیگر امتحانی مدات سے سالانہ کتنی آمدنی حاصل ہوتی ہے؟ اس آمدنی کا استعمال کہاں ہوتا ہے؟ کیا اس کا آزادانہ آڈٹ ہوتا ہے؟ اور کیا یہ تفصیلات عوامی دسترس میں موجود ہیں؟

یہ سوال کسی الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ شفافیت کے اصول پر اٹھائے جا رہے ہیں۔

اگر امتحانی نظام مکمل طور پر درست اور منصفانہ ہے تو ایک آزادانہ انکوائری اور مالی شفافیت خود بورڈ کی ساکھ کو مضبوط کرے گی۔ لیکن اگر نتائج کے بعد ہر سال والدین کی بڑی تعداد کو ری ٹوٹلنگ اور سپلیمنٹری امتحانات کی طرف جانا پڑتا ہے تو اس رجحان کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔

تعلیم صرف امتحان لینے کا نام نہیں بلکہ اعتماد قائم رکھنے کا عمل بھی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ناکامی صرف نمبر کم آنے تک محدود نہیں رہتی۔ بہت سے والدین معاشی مشکلات کے باعث بچوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ کئی بچے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، کچھ تعلیم چھوڑ دیتے ہیں اور بعض کو روزگار کی تلاش میں اسکول سے نکال لیا جاتا ہے۔

اگر ایک امتحانی نظام کے نتائج ہزاروں خاندانوں پر اتنے گہرے اثرات ڈال رہے ہیں تو پھر اس نظام کا ہر پہلو عوامی جانچ کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ بورڈ صرف نتائج جاری نہ کرے بلکہ مضمون وار کامیابی اور ناکامی کی شرح، مارکنگ کے معیار، امتحانی نگرانی، پیپر سیٹنگ اور ری ٹوٹلنگ کے نتائج کی سالانہ رپورٹ بھی جاری کرے تاکہ شکوک و شبہات کی گنجائش کم ہو۔

حکومت خیبر پختونخوا، محکمہ تعلیم اور متعلقہ نگرانی کے اداروں کو چاہیے کہ اس پورے امتحانی عمل کا آزادانہ جائزہ لیں۔ اگر سب کچھ قواعد کے مطابق ہے تو عوام کو مطمئن کیا جائے۔ اگر کہیں خامی موجود ہے تو اس کی اصلاح کی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

تعلیم ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، آمدنی کا ذریعہ نہیں۔ اس لیے ہر وہ نظام جو عوام سے فیس وصول کرتا ہے، اس پر عوام کو سوال پوچھنے اور جواب مانگنے کا پورا حق حاصل ہے۔

آج پشاور بورڈ کے سامنے سب سے بڑا امتحان نتائج نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ اگر اعتماد بحال کرنا ہے تو صرف نوٹیفکیشن جاری کرنا کافی نہیں ہوگا۔ مکمل شفافیت، آزادانہ تحقیقات، مالی جوابدہی اور امتحانی اصلاحات ہی وہ راستہ ہیں جن سے طلبہ، والدین اور اساتذہ کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خاموشی سوالات کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انہیں مزید بڑھا دیتی ہے۔

#BISEPeshawar #MatricResult2026 #EducationReform #Transparency #Accountability #Students #KhyberPakhtunkhwa #PakistanEducation #ExamSystem #EducationJustice
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1041 Articles with 801325 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More