| آرکیٹیکٹ جنریشن (Architect Generation) کے نوجوان پھر اکٹھے بیٹھے۔۔۔لائف اسٹائل ریاست (Lifestyle State) کا غلط استعمال نہ کریں۔۔۔ایک مکمل ایتھیکل پاسپورٹ (Ethical Passport) کی ضرورت ہے۔۔۔ |
|
|
طرزِ زندگی (Lifestyle) |
|
خواب، مائنڈ سیٹ اور اگلی منزل روشنیوں سے مزیّن اس بلند و بالا عمارات والے دارالحکومت کے اسٹریٹجک تھنک ٹینک روم میں، جہاں دنیا بھر کی معیشتوں کے نقشے ڈیجیٹل اسکرینوں پر چمک رہے تھے، تین ذہن ایک تاریخی سنگِ میل کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ وہ کسی ایک خطے کے نمائندے نہیں تھے، بلکہ ان کا انداز، ان کا وژن اور ان کی گفتگو انہیں خالصتاً عالمی افق کے مدبر اور معمار ثابت کر رہی تھی۔
اس مہم کا روحِ رواں وہ نوجوان مرد اسسٹنٹ تھا، جسے قدرت نے بہت جلد اس کی بے پناہ قابلیت کی وجہ سے اس بڑے منصب تک پہنچایا تھا۔ وہ محض ایک ٹیکنو کریٹ نہیں تھا، بلکہ اپنے یونیورسٹی کے دنوں میں وہ طلبہ کی ایک بااثر اور فکری تنظیم کا سربراہ رہ چکا تھا۔ اس دورِ طالب علمی نے اسے عوامی نفسیات، جدت طرازی (Innovation) اور سماجی ڈھانچوں کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نسلِ نو اب صرف روایتی فلاح و بہبود کی محتاج نہیں، بلکہ وہ ایک منفرد اور ڈیجیٹل طرزِ زندگی (Lifestyle) کی متلاشی ہے۔ اس کے ساتھ دوسری ماہرِ عمرانیات اور سائبر سیکورٹی کی ماہر خاتون تھیں، جس کی گرفت ڈیٹا اینالیٹکس اور فیوچر سسٹمز پر انتہائی مضبوط تھی۔ ان دونوں کو حکومت کے سب سے بااثر "وزیرِ خزانہ" کے لیے خصوصی طور پر منتخب کیا گیا تھا۔
وزیرِ خزانہ خود کوئی روایتی سیاست دان نہیں تھے، بلکہ وہ عالمی مالیاتی نظام کا ایک معتبر نام تھے۔ اس وزارت سے قبل وہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ بڑے بینک کے سربراہ اور کئی عالمی اداروں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔ ڈیجیٹل دنیا اور جدید سسٹمز کے وہ جنونی حد تک حامی تھے۔ اپنے ماضی کے کیریئر میں انہوں نے جہاں بھی قدم رکھا، سب سے پہلے وہاں کے روایتی سسٹمز کو ختم کر کے انہیں جدید ترین خطوط پر ڈیجیٹلائز کیا اور ملازمین کے 'ورکنگ لائف اسٹائل' کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔ لیکن اب، سیاست کے اس بڑے فلک پر، انہیں ابھی تک ایسا کوئی بڑا موقع نہیں ملا تھا جہاں وہ اپنے اس ڈیجیٹل مائنڈ سیٹ کو پوری معیشت پر لاگو کر سکیں۔ اسی لیے انہوں نے آتے ہی ان دونوں نوجوان ماہرین کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔
ایک شام، جب بجٹ سازی کی اہم ترین تیاریاں آخری مراحل میں تھیں، اس نوجوان اسسٹنٹ نے اپنے طویل فکری سفر کا نچوڑ اور جدید علوم کی روشنی میں تیار کردہ ایک انقلابی نظریہ وزیرِ خزانہ کے سامنے پیش کیا۔ اس نے اسکرین پر تین بڑے تقابلی میٹرکس (Matrices) لائیو کیے جن کا عنوان تھا: "فلاحی ریاست سے لائف اسٹائل ریاست تک کا سفر"۔
نوجوان نے جذباتی مگر انتہائی مدلل انداز میں کہا:
"سر! اب تک دنیا صرف 'فلاحی ریاست' (Welfare State) کے گرد گھومتی رہی ہے جہاں حکومت صرف روایتی فلاح، ہسپتال اور اسکول دیتی تھی اور کارکردگی ناپتی تھی۔ لیکن اب ڈیجیٹل دنیا بدل چکی ہے۔ اب اگلا قدم 'لائف اسٹائل ریاست' (Lifestyle State) کا ہے۔ جہاں معیشت کا برانڈ، ڈیجیٹل امیج، اور شہریوں کو ملنے والا جدید طرزِ زندگی ہی حکومت کے جواز کی اصل بنیاد بنے گا۔ ہمیں بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف مادی چیزوں پر نہیں، بلکہ مواصلات، برانڈنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر لگانا ہوگا، جہاں 'ضرورت عیاشی بن جائے' اور 'فلاح ایک طرزِ زندگی'۔"
وزیرِ خزانہ نے گہری نظروں سے اسکرین پر موجود ڈیٹا، ہائی ٹیک ماڈلز اور اس نوجوان کے مائنڈ سیٹ کو دیکھا۔ ان کے اندر کا وہ پرانا انٹرنیشنل بینکر اور ڈیجیٹل دنیا کا حامی بیدار ہو چکا تھا۔ یہ آئیڈیا ان کے اپنے اسٹریٹجک وژن کے ساتھ اتنی گہرائی سے میل کھاتا تھا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اسے رد نہ کر سکے۔ ان کے چہرے پر ایک پرامید مسکراہٹ ابھری۔
انہوں نے دونوں نوجوان ماہرین کی طرف دیکھا اور انتہائی پرعزم لہجے میں کہا: "عالی شان! تمہاری علمی بصیرت اور جدت طرازی پر یہ گہری نظر واقعی کمال ہے۔ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کی اس وقت معیشت کو ضرورت ہے۔ میں تمہارے اس تصور سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اب ہم اس پر یہ کریں گے کہ جلد ہی اس نظریے کو مکمل تحقیقی ماہرین کے پاس بھیجیں گے تاکہ اس پر مزید باریک بینی سے ریسرچ کروائی جا سکے۔ اور سب سے اہم بات..."
وزیرِ خزانہ نے بجٹ کی فائلوں کو سمیٹتے ہوئے کہا: "میں اسی بجٹ میں، حکومتی بنچوں پر بیٹھ کر، روایتی فلاحی ریاست کی اگلی منزل یعنی 'لائف اسٹائل ریاست' کی اصطلاح کا پہلا باقاعدہ اور تاریخی قدم رکھنے جا رہا ہوں۔ ہم اس نئے ماڈل کے مطابق کچھ انقلابی اقدامات کے لیے بجٹ میں ایک مخصوص اور بھاری رقم ابھی سے مختص کر دیں گے، تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ مستقبل کی ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں۔"
اس کمرے میں موجود تینوں بین الاقوامی ذہن یہ جان چکے تھے کہ انہوں نے صرف ایک بجٹ کی بنیاد نہیں رکھی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بالکل نئے عالمی فلسفے کا آغاز کر دیا تھا۔
نتیجہ: آرکیٹیکٹ جنریشن (Architect Generation) کے نوجوان پھر اکٹھے بیٹھے اور اسی پروجیکٹ کے لیے ایک اور اچھا منصوبہ تجویز کیا۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ اس پورے نظام کا ایک اخلاقی نظام ہونا ضروری ہے، تاکہ لوگ لائف اسٹائل ریاست (Lifestyle State) کا غلط استعمال نہ کریں، اور اس کے لیے ہمیں ایک مکمل ایتھیکل پاسپورٹ (Ethical Passport) کی ضرورت ہے، یعنی ایک مناسب اخلاقی فریم ورک۔ ن
|