کینسر سے بچاؤ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
کینسر سے بچاؤ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں کینسر صحت عامہ کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے، تاہم جدید تحقیق اور طبی سہولیات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس بیماری سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر کو ترجیح دی جائے۔ اسی تناظر میں چین میں کینسر سے بچاؤ، جلد تشخیص اور علاج کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوامی صحت کو بہتر بنانا اور بیماری کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
حال ہی میں ملک بھر میں کینسر سے آگاہی کی قومی مہم کے تحت مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں عوام کو نہ صرف معلومات فراہم کی گئیں بلکہ مفت طبی مشورے اور اسکریننگ کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ ان سرگرمیوں میں طبی ماہرین کی جانب سے براہِ راست رہنمائی دی گئی، جبکہ عوامی دلچسپی بڑھانے کے لیے ثقافتی پروگراموں اور لیکچرز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس مہم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کینسر کے خلاف جنگ میں سب سے مؤثر حکمت عملی پیشگی احتیاط اور ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً چالیس فیصد کینسر کے کیسز کو بروقت احتیاطی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ چین کے صحت کے حکام بھی اسی مؤقف پر زور دیتے ہیں کہ کینسر اتنا خوفناک نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا ہے، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پہچانا جائے اور اس کے مطابق علاج شروع کیا جائے۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا، متوازن غذا، تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز، اور باقاعدہ طبی معائنہ اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے چین نے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ خواتین کے لیے چھاتی اور سرویکل کینسر کی مفت اسکریننگ کے پروگرام کے تحت کروڑوں معائنے کیے جا چکے ہیں، جس سے بیماری کی بروقت تشخیص میں نمایاں مدد ملی ہے۔ اسی طرح جدید طبی مراکز میں“ون اسٹاپ” اسکریننگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے مریض کم وقت میں مکمل معائنہ کروا سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں موبائل طبی یونٹس کے ذریعے اسکریننگ کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا جا رہا ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے افراد بھی مستفید ہو رہے ہیں۔
طبی ترقی کے باعث اب کئی اقسام کے کینسر، اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائیں، تو مؤثر طریقے سے قابلِ علاج ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدائی درجے کے آنتوں کے کینسر میں بقا کی شرح 80 سے 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دیگر اقسام میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں کینسر سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی بقا کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ برسوں میں مزید بہتری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس میدان میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے، خصوصاً عوامی آگاہی کے حوالے سے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان معلومات اور سہولیات تک رسائی میں فرق اب بھی موجود ہے، جبکہ بعض افراد میں صحت کے حوالے سے شعور کی کمی کے باعث غیر صحت مند عادات برقرار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر طبقات بھی اس عمل میں فعال کردار ادا کریں۔
مجموعی طور پر چین میں کینسر سے بچاؤ کی حکمت عملی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بیماری کے خلاف مؤثر جنگ صرف علاج سے نہیں بلکہ بروقت تشخیص اور آگاہی سے ممکن ہے۔ مربوط پالیسی اقدامات، جدید طبی سہولیات اور عوامی شعور میں اضافے کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں کینسر کے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.