چین میں کینسر کے خلاف نمایاں پیش رفت

چین میں کینسر کے خلاف نمایاں پیش رفت
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں کینسر کو ایک مہلک اور پیچیدہ بیماری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم جدید طبی تحقیق، مؤثر حکمت عملی اور عوامی شعور میں اضافے کے ذریعے اس کے اثرات کو کم کرنا ممکن ہو رہا ہے۔ چین میں حالیہ برسوں کے دوران کینسر کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے شعبوں میں جامع اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف بیماری کی شرح میں کمی آئی ہے بلکہ مریضوں کی بقا کی شرح میں بھی مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ مربوط پالیسی سازی اور سائنسی ترقی کے امتزاج سے صحت کے بڑے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں کئی عام اقسام کے کینسر کی شرحِ مرض اور اموات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ غذائی نالی کے کینسر کی شرح اور اموات میں سالانہ تقریباً 4.5 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ پھیپھڑوں اور ناک و حلق کے کینسر سے اموات کی شرح میں اوسطاً 2 فیصد سالانہ کمی دیکھی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کینسر کے مریضوں کی مجموعی پانچ سالہ بقا کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ علاج اور تشخیص کے نظام میں بہتری آ رہی ہے۔

یہ مثبت نتائج دراصل اس جامع حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جس میں “احتیاط کو اولین ترجیح” دی گئی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ چالیس فیصد سے زائد کینسر کے کیسز کو بنیادی احتیاطی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، جن میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانا، متوازن غذا کا استعمال، تمباکو نوشی سے اجتناب اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ شامل ہیں۔ اسی مقصد کے لیے چین میں عوامی آگاہی بڑھانے اور صحت کے حوالے سے بنیادی معلومات کو عام کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں 2023 میں کینسر کی روک تھام اور کنٹرول کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے رہنما اصول جاری کیے گئے، جن میں 2030 تک عوام میں کینسر سے متعلق بنیادی آگاہی کی شرح کو 80 فیصد سے زیادہ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے قومی سطح پر صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے رہنما نکات بھی جاری کیے گئے، جنہیں عوامی سطح پر “کینسر سے بچاؤ کا رہنما” قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نکات سادہ اور قابلِ عمل ہدایات پر مشتمل ہیں، جن کے ذریعے افراد اپنی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے بھی ایک ہمہ جہت نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کینسر رجسٹری مراکز کا دائرہ تقریباً تمام اضلاع تک پھیل چکا ہے، جس سے بیماری کی نگرانی اور ڈیٹا کے حصول میں بہتری آئی ہے۔ خواتین کے لیے چھاتی اور سرویکل کینسر کی اسکریننگ کی شرح 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اہم اقسام کے کینسر کی ابتدائی تشخیص کی شرح 55 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وسیع پیمانے پر اسکریننگ کے نتیجے میں مریضوں کو ابتدائی مرحلے میں علاج کی سہولت میسر آ رہی ہے، جو کامیاب علاج کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے۔

طبی میدان میں جدت اور تحقیق نے بھی اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین میں تیار کی جانے والی نئی ادویات اور علاجی طریقے کینسر کے پیچیدہ مراحل کے علاج میں نئی امیدیں پیدا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر جدید حیاتیاتی علاجی طریقے، جیسے مخصوص خلیاتی تھراپی، ایسے مریضوں کے لیے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں جن کے لیے روایتی علاج محدود نتائج فراہم کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ادویات سازی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کی رفتار بھی تیز ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر چین کا کردار نمایاں ہو رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت بھی کینسر کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار بن کر ابھر رہی ہے۔ جدید اے آئی نظام بیماری کی ابتدائی علامات کو شناخت کرنے اور تشخیص کے عمل کو تیز اور زیادہ درست بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو نہ صرف بڑے شہروں کے ہسپتالوں بلکہ دور دراز علاقوں تک بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے صحت کی سہولیات میں مساوات کو فروغ مل رہا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیجیٹل اور سمارٹ نظاموں کے ذریعے مختلف علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات کے فرق کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پالیسی ساز ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پورے ملک میں یکساں معیار کی طبی خدمات فراہم کی جائیں، تاکہ ہر فرد کو بروقت اور مؤثر علاج میسر آ سکے۔

مجموعی طور پر چین میں کینسر کے خلاف جاری اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مربوط حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی آگاہی کے امتزاج سے اس مہلک بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شرحِ اموات میں کمی، بقا کی شرح میں اضافہ اور علاجی سہولیات کی بہتری اس پیش رفت کے واضح مظاہر ہیں۔ مستقبل میں بھی اگر اسی تسلسل کے ساتھ اقدامات جاری رکھے گئے تو کینسر کے بوجھ کو مزید کم کرنا اور عوامی صحت کو بہتر بنانا ممکن ہو سکے گا، جو ایک صحت مند اور مستحکم معاشرے کی بنیاد فراہم کرے گا۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093568 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More