فیصل آباد کا علمی و ادبی افق: میڈیا اور قلم کا معتبر سنگم نتیجہ فکر: ناصر راجپوت
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
فیصل آباد کا علمی و ادبی افق: میڈیا اور قلم کا معتبر سنگم نتیجہ فکر: ناصر راجپوت |
|
فیصل آباد کا علمی و ادبی افق: میڈیا اور قلم کا معتبر سنگم
نتیجہ فکر: ناصر راجپوت
فیصل آباد کی دھرتی ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے، جہاں علم و ادب کی آبیاری کرنے والے ایسے نامور ستارے موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی فن کے تحفظ اور ترویج کے لیے وقف کر دی۔ حال ہی میں ریڈیو پاکستان فیصل آباد کے سٹوڈیوز میں منعقد ہونے والی ایک نشست اس وقت تاریخ کا حصہ بن گئی جب دو قدآور علمی شخصیات، طلعت ناہید سندھو اور ڈاکٹر اظہار احمد گلزار، ایک ہی چھت تلے مکالمہ کرتے نظر آئے۔
ریڈیو پاکستان: تہذیب و تمدن کا امین
ریڈیو پاکستان محض ایک نشریاتی ادارہ نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی تحریک اور اردو و پنجابی ادب کا قدیم ترین گہوارہ ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی ریڈیو کی افادیت اور اہمیت مسلمہ ہے، کیونکہ یہ آواز کا وہ جادو ہے جو سرحدوں اور طبقوں کی قید سے آزاد ہے۔
ادبی آبیاری: ریڈیو نے ہمیشہ کتاب اور قاری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ مقامی ثقافت کا تحفظ: فیصل آباد سٹیشن نے خاص طور پر ساندل بار کی ثقافت، پنجابی لوک ورثہ اور مقامی ادیبوں کو وہ پلیٹ فارم مہیا کیا جو کسی دوسرے میڈیم کے بس کی بات نہ تھی۔ طلعت ناہید سندھو: مائیکروفون کی ملکہ اور پنجابی کی توانا آواز طلعت ناہید سندھو صاحبہ کا نام ریڈیو کی تاریخ میں ایک معتبر حوالے کے طور پر ابھرا ہے۔ تین دہائیوں پر محیط ان کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ براڈ کاسٹنگ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ریاضت ہے ۔ ان کی آواز میں چھپا ہوا ٹھہراؤ اور لفظوں کا درست انتخاب، خاص طور پر پنجابی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات، انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہیں۔ انہوں نے مائیکروفون کے ذریعے نہ صرف معلومات پہنچائیں بلکہ ایک ایسی نسل تیار کی جو اپنی مادری زبان کے چاشنی سے واقف ہوئی۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: تحقیق اور تخلیق کا معتبر حوالہ
دوسری جانب ڈاکٹر اظہار احمد گلزار وہ شخصیت ہیں جن کا قلم ہمہ وقت علم کی خوشبو بکھیرنے میں مصروف رہتا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے کئی پہلو ہیں: سیرت نگاری اور تحقیق: ان کے کام میں عقیدت اور تحقیق کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔ افسانہ نگاری: انہوں نے انسانی رویوں کو کہانیوں کے قالب میں ڈھال کر معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ تاریخ نویسی: فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو مرتب کرنے میں ان کا کردار ایک مورخ جیسا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
فنونِ لطیفہ اور ادب سے وابستگی ان دونوں شخصیات کا فنونِ لطیفہ سے تعلق محض سطحی نہیں بلکہ اساسی ہے۔ جہاں طلعت ناہید سندھو نے اپنی آواز کے زیر و بم سے "صوتی فن" (Acoustic Art) کو جلا بخشی، وہاں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اپنے لفظوں سے "تحریری فن" کو دوام دیا۔ ان دونوں کا ملاپ دراصل میڈیا اور قلم کا وہ اتحاد ہے جو کسی بھی معاشرے کی فکری بلندی کے لیے ناگزیر ہے۔
"علم و ابلاغ کا سنگم" "فیصل آباد کی علمی کہکشاں کے دو روشن ستارے"
منظر کشی: اس تصویر میں فنِ تحقیق کے روشن مینار ڈاکٹر اظہار احمد گلزار اپنے مخصوص روایتی وقار اور سفید دستار میں ملبوس، علم و دانش کے موتی بکھیرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے سامنے رکھی کتب ان کی محنت اور علمی لگن کی گواہی دے رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ریڈیو پاکستان کی معروف آواز اور سینیئر کمپیئر طلعت ناہید سندھو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ گفتگو کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
کردار: ایک طرف تحقیق کی دنیا کے شہسوار اور دوسری طرف صداکاری و نظامت کی ماہر شخصیت۔ ماحول: ریڈیو اسٹوڈیو کا سنجیدہ مگر علمی ماحول، جہاں مائیکروفون کے ذریعے فکر و نظر کی خوشبو سامعین تک پہنچنے کو بے تاب ہے۔ علامت: میز پر موجود کتابیں اس بات کی علامت ہیں کہ گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ٹھوس علمی ثبوتوں پر مبنی ہے۔ ایک خوبصورت شعر بطور نذرانہ بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا ہم نے اس عہد میں جینے کا قرینہ سیکھا
ایک روشن مثال اس نشست میں ہونے والی گفتگو محض یادوں کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ریڈیو پاکستان کے اس عزم کا اعادہ تھا کہ وہ اپنے مشاہیر کی قدر کرنا جانتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی بصیرت اور طلعت ناہید سندھو کا تجربہ مل کر ایک ایسا علمی گلدستہ تشکیل دیتے ہیں جس کی خوشبو فیصل آباد کی حدود سے نکل کر پورے ملک کے ادبی حلقوں کو معطر کر رہی ہے۔ دعا ہے کہ ریڈیو پاکستان فیصل آباد اسی طرح علم و ادب کی قندیلیں روشن رکھے اور یہ قدآور شخصیات اپنے علم سے تشنگانِ علم کو سیراب کرتی رہیں۔ یہ سنگم اس بات کا ثبوت ہے کہ جب آواز کو قلم کا ساتھ مل جائے تو تاریخ رقم ہوتی ہے۔ریڈیو پاکستان فیصل آباد کی سینئر براڈ کاسٹر طلعت ناہید سندھو صاحبہ کی تین دہائیوں پر محیط خدمات بلاشبہ پنجابی زبان و ادب کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہیں۔ ان جیسی منجھی ہوئی کمپیر اور دانشور کا ہونا ریڈیو کے وقار میں اضافے کا باعث ہے۔ دوسری جانب، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی علمی شخصیت، ان کی تحقیق، افسانہ نگاری اور سیرت نگاری کے حوالے سے کی جانے والی کاوشیں محتاجِ بیان نہیں ہیں۔ فنونِ لطیفہ سے ان کی وابستگی اور فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے میں ان کا کردار نہایت کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
اس انٹرویو کے حوالے سے کچھ اہم نکات
علمی و ادبی سنگم: یہ نشست محض ایک انٹرویو نہیں بلکہ دو تجربہ کار اذہان کا مکالمہ ہے جو نئی نسل کے لیے سیکھنے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ ثقافتی ترویج: طلعت ناہید سندھو کی میزبانی اور ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی بصیرت انگیز گفتگو سے یقیناً پنجابی زبان اور مقامی ادب کی ترویج کو مزید تقویت ملے گی۔
میڈیا اور ادب کا رشتہ:
ریڈیو پاکستان فیصل آباد نے ہمیشہ مقامی ادیبوں کی پذیرائی کی ہے، اور یہ نشست اسی تسلسل کی ایک خوبصورت کڑی ہے۔ ایسی شخصیات کا آپس میں ادبی و علمی رشتہ نہ صرف فیصل آباد بلکہ پورے ملک کے علمی حلقوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ دعا ہے کہ آپ دونوں کا یہ سفرِ علم و ادب اسی تندہی اور محبت کے ساتھ جاری رہے۔ |
|