حالیہ سمارٹ لاک ڈاؤن اور پاکستانیوں کے مسائل
(Muhammad Qasim Waqar Sialvi, Faisalabad)
| حکومت لاک ڈاؤن تو لگا دیتی ہے لیکن عوامی مشکلات کا تدارک نہیں سوچتی۔ بجلی بند، گیس بند اور دوسرے شہر سے مہمان آ جائے تو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے یہ تحریر لازمی پڑھیں۔ محظوظ بھی ہوں اور سوچیئے کہ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو تو کیسا محسوس کریں گے ؟ |
|
|
جب ڈائننگ میں جگہ نہ ملی تو برلب سڑک ہم نے اپنی موٹرسائیکل کو ٹیبل بنا لیا۔ |
|
یہ دو روز پہلے کہ بات ہے جب ضلع شیخوپورہ سے دو مہمان فیصل آباد تشریف لائے، مہمان بھی وہ کہ جن کے پاس جب بھی گئے انہوں نے مہمان نوازی کی اخیر کی، کھانا، باربی کیو، رشین سیلڈ، فرائیڈ رائس، کافی، چائے، منرل واٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فیصل آباد تشریف لائے ایسے وقت میں جب بندے کو سمجھ نہیں آتی کہ شہروں میں یہ رات کا وقت ہے یا شام کا۔ 9 بج رہے تھے، بجلی کو بند ہوئے چند لمحے گزرے تھے، بند بجلی میں پورا محلہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے تو ستھرے پنجاب کی ٹک ٹاک کاروائیوں سے بچ جانے والے مچھر فوراً روشنی کی سمت بڑھتے ہیں پھر وہ عقیدت مند بن کے کبھی دست بوسی تو کبھی قدم بوسی 🤭۔ ستم بالائے ستم کہ موئی گیس بھی آٹھ بجتے ہی ہڈ حرام مستری کی طرح رفو چکر ہو جاتی ہے۔ ایل پی جی کا ریٹ اتنا ہے کہ اس پر چائے یا سالن گرم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ مہمانوں سے حاتم طائی بن کے ان کی مرضی پوچھی کہ دسو کی پسند کرو گے؟ گرمی کا ماحول دیکھتے ہی انہوں نے فرمائش کی کہ سنا ہے کوہ نور میں پیزہ اچھا ملتا ہے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے والا کام جھٹ سے حامی بھری کہ ایہہ تے شے ای کوئی نہیں۔ دو دوست ان کے ہمراہ کار پر، اور ایک دوست کو ہم نے اپنے ساتھ لیا اور عشق کے گھوڑے کو ڈال دیا کوہ نور کی لوکیشن پر۔ مہمان تو ذرا آرام سے شہر کا نظارہ کرتے آ رہے تھے ہم پورے 9.30 پر چھری کانٹا پیزہ والوں کے دروازے پر جا پہنچے کہ اچھی سی جگہ دیکھ کے اے سی میں Chill 😎 کرتے ہیں۔ جب سیڑھیوں کے پاس پہنچے تو ایک نہایت با ادب لڑکا سر ہلا کے روک رہا تھا کہ جناب ریسٹورنٹ میں داخلے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ 🤨 مزید تفتیش کی تو پتا چلا کہ ریسٹورنٹ، ہوٹل میں بیٹھ کے کھانے کا وقت رات دس بجے تک ہے۔ اس لیے 9.30 تک نئے گاہکوں کو نشستیں الاٹ نہیں کرتے، جو پہلے سے کھانے پینے میں موجود ہیں بس انہی کو کہا جاتا ہے کہ تھوڑا چھیتی کھا لیں دس بجے سے پہلے ریسٹورنٹ کو وڈا تالا مارنا ہے۔ منت سماجت کی، یار مہمان دور سے آئے ہیں، اپنے کھانے پینے کی سپیڈ بارے بھی اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ یار آدھے گھنٹے میں پیزہ سے دو دو ہاتھ کر ہی لیں گے مگر وہ نہ مانے۔ کہتے ہیں بہت بھاری جرمانہ کرتے ہیں، اس لیے معذرت البتہ ہم سے بنوا کے پارسل لے لو اور جہاں مرضی جا کے کھاؤ۔ یہ سروس رات 2بجے تک جاری رہتی ہے۔ ابھی مزاکرات جاری تھے کہ مہمان بھی آپہنچے، اپنی تگ و دو کا ثبوت دینے کے لیے ایک مہمان کو موٹرسائیکل پر بٹھایا اور کوہ نور کے ریسٹورنٹ کا چکر لگایا۔ سب لوگوں نے تالا بندی کی نیت کر رکھی تھی۔ چار و ناچار پیزہ پارسل کا آرڈر دیا۔ نہایت معزز مہمانوں نے بھی ٹھان لی کہ سکول دور کی یادوں کو تازہ کرنا ہے۔ عہدے، منصب تو آنے جانے والی چیز ہیں۔ میں نے اپنی موٹرسائیکل کو ڈبل سٹینڈ پر لگایا، اسی کو ٹیبل تصور کرتے تین لوگ ارد گرد کھڑے ہوگئے باقی کار میں بیٹھ گئے اور پیزہ پر خوب ہاتھ صاف کیا، ایسا ماحول اکثر ہم بائیکرز کے ساتھ دوران سفر ہو ہی جاتا ہے لیکن اپنے ہی شہر میں یہ حرکت کرکے بالکل اچھا نہیں لگا۔ (مہمان بھی سوچتے ہوں گے اج تے لاہوری انداز نال اے کم مکا دتا 😉) قصہ مختصر سوچا چائے والے ہوٹل پر چلتے ہیں ڈھابے پر جہاں پہلے ہی ایک یا دو بلب جل رہے ہوتے، وہاں کونسا انرجی بچاؤ لاک ڈاؤن ہونا۔ گلبرگ نیشنل ہسپتال کی بغل میں گیٹ کیفے پر پہنچے تو شاید ان کو خبر مل گئی تھی ہماری اوپن ائیر عیاشی کی تو چٹا جواب دیا کہ چائے ملے گی وہ بھی ایڈوانس پیمنٹ کریں گے تو، مگر کرسی نہیں ملنی جیسے مرضی پی لینا۔ شومئی قسمت لائٹ ایک گھنٹہ پورا کرکے دوبارہ جا چکی تھی، اس لیے وہیں پر چائے پینے میں ہی عافیت جانی بالکل اسی طرح جس طرح تصویر میں دیکھ لیا آپ نے۔ قبل اس کے مہمانوں کا دھیان اس سڑک و سڑکی میزبانی کی طرف جائے ان کو دیگر دوستوں نے خوب فیصل آبادی سٹائل میں باتوں کے آرے لگائی رکھا۔ شاید وہ جملہ ایسے ہی موقع پر فٹ کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے |
|