فیصلہ ساز بنیں، زندگی آسان بنائیں
(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
|
ازقلم: ذوالفقار علی بخاری زندگی میں ایسے کئی لمحات آتے ہیں جب ہمیں کسی کی مدد یا ایک دلاسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کوئی اپنائیت کے دو بول کر اُ س کرب سے نہیں نکالتا ہے جو ہم جھیل رہے ہوتے ہیں۔اُس لمحے ہمیں ہر شخص سے نفرت ہونے لگتی ہے جو کرب سے نکالنے کے لیے قریب نہیں آتا ہے۔ہم بھول جاتے ہیں کہ کچھ معاملات اورلمحات ایسے ہوتے ہیں جس میں دوسروں سے زیادہ ہمیں خود کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ آخر کب تک لوگ ساتھ چلیں گے۔ہم خود کے لیے ایک طوفان کیوں نہیں بنتے ہیں جو سب کچھ مٹاکر رکھ دے۔لوگ تب تک ساتھ چلتے ہیں اور تعاون کرتے ہیں جب تک اُنھیں لگتا ہے کہ کسی کو سہارا دینا چاہیے۔ لیکن جب کسی انسان کی زندگی کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہو تو اُس وقت دوسروں سے زیادہ اپنا آپ آگے بڑھانا پڑتاہے۔ زندگی کے نشیب و فراز سے کبھی کبھی ہمیں خود گزرنا پڑتا ہے کہ دوسرے آخر کب تک سہارا بن سکتے ہیں۔ہمیں اپنی زندگی کی جنگ خود لڑ کر جیتنی پڑتی ہے کہ کچھ لڑائیاں نہ صرف اپنے آپ کے ساتھ بل کہ حالات کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔جس میں کوئی اور ساتھ دے تب بھی فیصلے کا اختیار آپ کے پاس ہوتا ہے۔جب تک دوسروں کا ساتھ میسر رہتا ہے ہمیں کسی کی اچھائی اور بُرائی کے بارے میں علم نہیں ہوتا اورتعلق ٹوٹ جانے پر خوبیاں اور خامیاں آشکار ہو جاتی ہیں۔حالاں کہ وہ پہلے سے اُس انسان کا حصہ ہوتی ہیں لیکن ہماری عقل پر جذبات کا پردہ اتنا غالب آچکا ہوتا ہے کہ ہمیں وہ دنیا کا سب سے با کمال انسان دکھائی دیتاہے۔جب تک آپ دوسروں کے ساتھ رہ کر تصویر کے دونوں رخ نہیں دیکھتے ہیں تب تک کسی شخصیت کا حقیقی روپ نہیں جان پاتے ہیں اور یہ فن ہر کس و ناکس کے بس میں کہا ں ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ لوگ بہروپ بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔جس طرح فلموں میں ایک کردار کئی بہروپ بدل کر سامنے آتا ہے اِسی طرح عام زندگی میں لوگ بہروپ بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔وہ آپ کوظاہر کرتے ہیں کہ بڑے مومن ہیں لیکن موقع ملنے پر ڈسنے کو تیار ہوتے ہیں یعنی کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے لیے دشمن اور دوست خود منتخب کرتے ہیں جس پر قصور وار دوسروں کو ٹھہرانا غلط ہوگا۔بہرحال، دوسروں پر گفتگو کرنا آسان ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ ہر شخص میں نہیں ہے۔اکثر جب وہ کٹھن مرحلہ آتا ہے جس میں اپنی ذات کو جاننے کا موقع ملتا ہے تب احساس ہوتا ہے کہ ساری زندگی اوروں کے سہارے گزاری ہے اور اکیلے کچھ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اُن لمحات میں یہ جان لینا کہ زندگی کے کئی مقامات پر انسان کو اپنی قوت ارادی، برداشت اور صبر سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھنا پڑتا ہے،ایک اہم دریافت ہوتی ہے۔ ہم اکیلے زندگی کی جنگ لڑنے سے ڈرتے ہیں کبھی ماں باپ، کبھی بہن بھائی اور کبھی اولاد کو حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اوربسااوقات ساتھ نہ دینے والوں کو دشمن سمجھتے ہیں۔اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ دوسروں نے مشکل وقت میں ساتھ نہ دے کر، مدد نہ کرکے توہین کی ہے۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دوسرا کسی سنگین صورت حالت میں مبتلا ہو یا پھر وہ حقائق کو آپ سے زیادہ بہتر دیکھتے ہوئے جنگ لڑنے سے خود کو باز رکھ رہا ہو۔یہ بھی سوچیں کہ بھلا دوسرے ہماری زندگی کی جنگ کیسے لڑ سکتے ہیں۔ہم ایسے لوگوں کوبے وفا سمجھ کر دور ہو جاتے ہیں اورپھر خلوص کی کمی کا شکار بنتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش غلط فیصلہ نہ کیا ہوتا۔کسی جھوٹے وعدے یا انکارسے لاکھ درجے بہتر ہوتا ہے کہ سچائی آگاہ کر دی جاتی ہے۔ زندگی میں سرد و گرم چلتا رہتا ہے اوریہ ہر انسان پر وقت آتا ہے لہذا کوئی یہ نہیں کہ سکتا ہے کہ وہ سدا خوش و خرم رہے گا اورکوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔انسان کو نشیب و فراز سے گزر کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنا بہادر ہے اوربسااوقات تنہا جینا اور حالات کا مقابلہ کرنا سمجھاتا ہے کہ دوسروں کے سہاروں کے مقابلے میں اپنی مدد آپ کے تحت جینا اصل کامیابی کا راز ہے۔آپ کو سمجھنا ہوگا کہ ماسوائے اشد ضرورت کے زندگی کے تمام تر معاملات میں آپ کو تنہا لڑنا پڑتا ہے اور جیت کے لیے مسلسل جہدوجہد کرنی پڑتی ہے۔کیوں کہ لوگ کبھی نہیں چاہتے ہیں کہ آپ کامیاب ہوں،اِس کے لیے آپ کو انتھک محنت کرنی ہوتی ہے۔اور وہ آپ تب کریں گے جب خود پر اعتماد رکھتے ہوں گے کہ شکست دینے کے لیے لوگ ہزار بہانے بناتے ہیں۔ لیکن جیتنے والوں کو منزل تک پہنچنے کی بھوک ہی کامیاب بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلہ ساز خود ہو تے ہیں۔ضمیر کی عدالت میں نہ سہی لیکن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کبھی یہ ضرور جانچنے کی کوشش کیجیے گا کہ کیا آپ اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کے حوالے آزاد ہیں،یہی آگاہی انقلاب برپا کرے گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ختم شد۔ |