گومل یونیورسٹی کی 52 ویں یومِ تاسیس کی پروقار تقریب:
(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)
گومل یونیورسٹی کی 52 ویں یومِ تاسیس کی پروقار تقریب:
|
|
ڈیرہ اسماعیل خان جو کہ جغرافیائی، دفاعی، معاشی، زرعی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتا ہے، تین صوبوں کے سنگم پر واقع یہ شہر پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے وقت سے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر رہا۔ مگر بدقسمتی سے اپنے نااہل عوامی نمائندوں جو ککھ پتی سے ارب پتی ہوگئے کی عدم دلچسپی ،کرپشن
اور حکمرانوں کے ہمیشہ سے متعصبانہ رویے کے باعث اس رفتار سے ترقی نہ کر سکا جس کی یہ شہر استعتات رکھتا تھا۔ لیکن ان تمام خرابیوں اور رکاوٹوں کے باوجود یہاں پر شروع کیے گئے چند منصوبے ایسے ہیں جنہوں نے یہاں کی زراعت، تعلیم، آمد ورفت کے بہتر مواقع فراہم کرنے میں اہم مقام حاصل کیا جن میں گومل یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی، گومل میڈیکل کالج، پولی ٹیکنیکل کالج ،کامرس کالج، قرطبہ یونیورسٹی، ڈیرہ بورڈ، سٹیٹ بینک آف پاکستان، پاسپورٹ آفس ،ڈیرہ دریا خان پل، چشمہ رائٹ بینک کنال، ایئرپورٹ ،ڈیرہ اسلام آباد موٹروے، انڈس ہائی وے، کینسر ہسپتال، قابل ذکر ہیں ،ایئرپورٹ اور ریلوے بکنگ آفس و پٹڑی کے منصوبے تو ہم نے اپنی منفی سیاست کے باعث گنوادیے ۔
لیکن اب یہاں کی جغرافیائی اہمیت کو دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قیام کا اعلان تو کر دیا گیا ہے اراضی بھی خرید لی گئی ہے دیکھیں کام کب شروع ہوتا ہے لیکن گومل یونیورسٹی جس کا قیام 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور نواب اللہ نواز خان سدوزئی کی کوششوں سے معرض وجود میں آیا، یہ تعلیمی ادارہ سیاسی بنیادوں پر وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کے باعث عرصہ دراز سے زبوں حالی ،مالی خسارے، بدنظمی ، تعلیمی انحطاط کا شکار چلا آرہا ہے، مولانا برادران،علی برادران اور دیگر سیاسی مفاد پرستوں نے اسے روزگار فراہم کرنے کا ادارہ بنا کر رکھ دیا، من پسند وائس چانسلرز شامل ہیں جنہوں نےاپنی مدت ملازمت کو وسعت دینے کے لیے ہمارے سیاست دانوں کی سفارشوں پر ضرورت سے زیادہ سٹاف ٹیچر بھرتی کر کے ادارے کو چلنے کے قابل نہ چھوڑا ،گومل یونیورسٹی کی بربادی میں یہاں کے اپنے وی سی کا بھی بڑا ہاتھ ہے جن میں ایک سابق وی سی نے صرف حکومت کو خوش کرنے کے لیے نہ صرف مطلوبہ یونیورسٹی کی پوسٹوں کو خالی چھوڑے رکھا ،بلکہ ترقیاتی فنڈز بھی واپس کیے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلیم دل وی سی جن کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوئی تھی نے نا اہلوں مفاد پرستوں کی فوج ظفر موج بھرتی کر لی جس غمیازہ یونیورسٹی گزشتہ تیس سالوں سے بھگت رہی ہےجس میں سے ایک بس کنڈکٹر قابل ذکر ہے جس نے یونیورسٹی کی بربادی میں اہم کردار ادا کیا اور تاحال اپنی مافیا کے ساتھ مل کر سازشوں میں مصروف ہے،
یونیورسٹی کی بہتی گنگا میں ہمارے عوامی نمائندوں کے علاوہ یہاں کے صحافیوں نے بھی اشنان کیا، مالی فوائد کے علاوہ خوب بھرتیاں کروائیں قریب تھا کہ یونیورسٹی اربوں روپے کے خسارے کے باعث جہاں کے پنشنرز اور ملازمین کئی کئی ماہ تک اپنی تنخواہوں سے محروم چلے آرہے تھے بند ہو جاتی کو اللہ تعالی نے ڈیرہ کا ایسا قابل محنتی میرٹ پر وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال بلوچ کی صورت میں دیا جنہوں نے اپنے ایک سال کے عرصے میں انقلابی اقدامات اٹھائے جن میں سے اوور ایمپلائمنٹ کو کم کرنا، 175 ملین روپے اور 41 ہزار لیٹر ڈیزل پیٹرول کی بچت، رینکنگ میں ایچ ای سی کی پہلی کیٹگری میں آنا، سکالرشپ میں اضافہ، جامعہ گومل کو شمسی توانائی پر منتقل کر کے بجلی کے بھاری بلوں کی بچت، کھلی کچہری کا انعقاد ،
تعیناتیوں میں شفافیت کو قائم کرنا شامل ہے، برس ہا برس سے اپ گریڈیشن کے منتظر اساتذہ کو ان کا جائز حق دینا، یونیورسٹی سے نقل مافیا اور جعلی اسناد سابقہ ادوار کے منصوبے کو بند کرنا ،طلباء کی توجہ تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ اور منفی سرگرمیوں میں کم کرنا، مالی خسارے کو کم کرنا قابل ذکر ہیں، انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخی یوم تاسیس کا انعقادکیا، یوم تاسیس کے پروگرام میں مجھے بھی ایک پرانے طالب علم اور دوست کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا، جس میں جنرل آفیسر کمانڈنگ 40 ڈویژن میجر جنرل مدثر سعید مہمان خصوصی تھے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان کے نام سے منسوب اس تاریخی آڈیٹوریم میں یوم تاسیس کا پروگرام بھی یونیورسٹی میں تاریخی حیثیت اختیار کر گیا
جو منتظمین خاص کر وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال بلوچ،ڈاکٹر نور محمد کی اعلی صلاحیتوں کا مدتوں گواہ رہے گا ،یوم تاسیس میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فرید، سابق وی سی ڈاکٹر منصور کنڈی، سوار یونیورسٹی کے وی سی شکیب الحسن، وی سی زرعی یونیورسٹی، برگیڈئر محمد ابوبکر ، سابق صوبائی وزیر عبدالحلیم خان قصوریہ، ڈی ائی جی موٹروے عمران شاہد، ایوارڈ یافتہ مسلم سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر فیض جلیل، پروفیسر افتخار شاہ، پرووائس چانسلرڈاکٹر نعمت اللہ بابڑ ، جسٹس ریٹائرڈ داؤد خان نے شرکت کی، تقریب میں خطاب کرتے ہوئےمہمان خصوصی میجر جنرل مدثر سعید نے گومل یونیورسٹی کی تاریخ کو درخشاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کی ترقی میں تعلیم و تربیت، قانون کی حکمرانی کی جہد مسلسل کو ہم سب نے مل کر جاری رکھنا ہے،
انہوں نے کہا کہ ہم فتنوں کے باعث عدم برداشت اور شدت پسندی کا شکار ہو چکے ہیں،ہم اپنی حقیقی شناخت کھو چکے ہیں ہمیں اس وقت قومی یکجہتی ،ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے اس کے بغیر ترقی کی منزلیں طے کرنا مشکل ہے، انہوں نے سکیورٹی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا مشرقی دشمن سامنے آیا تو اسے دندان شکن شکست ہوئی جسٹس ریٹائرڈداؤد خان نے کہا کہ جامع گومل کے قیام سے قبل ہمیں تعلیم کے حصول کے لیے دور دراز سفر کرنا پڑتا تھا پی ایچ ڈی کرنا تو دور کی بات ہے انہوں نے نواب اللہ نواز، ذوالفقار علی بھٹو کو یونیورسٹی کے قیام کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت ہمارے لاکھوں کی تعداد میں فارغ ہونے والے طلباء ملکی اور علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں سابق وی سی منصور خان کنڈی نے کہا کہ ڈاکٹر ظفر اقبال نے یہاں کے بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالا دیا ہے لیکن سازشی عناصر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں ،وی سی صاحب ایک کمزور پچ پر اپنے بلے بازی کے جوہر دکھا رہے ہیں لیکن کہیں امپائر کی انگلی انہیں ایل پی ڈبلیو قرار نہ دے دے، وی سی گومل یونیورسٹی ظفر اقبال نے یوم تاسیس کے دن کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادارے میں 21 ہزار طلباء پڑھ رہے ہیں مضامین کی تعداد 275 ہے ہم درجنوں بین الاقوامی علمی تحقیقی سیمینارز،کانفرنسز کر چکے ہیں ،65 مضامین کی اشاعت کی گئی انہوں نے استدعاکی کہ
ہر شہری ،سٹاف، اساتذہ کرام، سیاستدان اسے اپنا ادارہ تصور کریں اپنے آنے والی نسلوں کی خاطر اس کا خیال کریں انہوں نے ارباب اختیار حکمرانوں سے کہا کہ مالی وسائل فراہم کرنے ہوں گے، انہوں نے مشاوراتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر فیض خلیل نے جہد مسلسل کی ہدایت کی، تقریب سے ڈاکٹر پروفیسر وقار حیدر ڈی ائی جی موٹروے عمران شاہد نے بھی خطاب کیا، انہوں نے مقررین کی کمی پر اپنے تحفظ اور ادارے کی ترقی کے لیے تمام تر تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، یوم تاسیس کی تقریب ہر لحاظ سے ایک پروقار، شاندار تھی جس کا کریڈٹ وی سی اور ان کے رفقاء کے سر جاتا ہے اگر وی سی ڈاکٹر ظفر اقبال کو چار سال کام کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اور کوئی سیاسی مداخلت نہ کی گئی تو ادارہ تمام تر خرابیوں پر بتدریج قابو پا لے گا انشاءاللہ |
|